Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / نقدی کے بغیر تجارت ، بینک سے رقومات نکالنے پر کنٹرول زیر غور

نقدی کے بغیر تجارت ، بینک سے رقومات نکالنے پر کنٹرول زیر غور

عام بجٹ میں بینک معاملات پر محصولات عائد کرنے کی تجویز
حیدرآباد۔17جنوری (سیاست نیوز) مرکزی حکومت نقد لین دین سے پاک تجارت کے فروغ اور بینک سے نقد منہاء کیئے جانے پر کنٹرول کیلئے متعدد اقدامات پر غور کر ہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یکم فروری کو متوقع مرکزی بجٹ کے دوران حکومت کی جانب سے بینک معاملتوں پر محصولات عائد کرنے کے متعلق غور کیا جانے لگا ہے۔ یکم جون 2005تا31مارچ 2009قابل عمل رہنے والے بی ٹی ٹی کو از سر نو روشناس کروانے کی منصوبہ بندی کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ سابقہ بی ٹی ٹی میں معمولی ترمیم کے ساتھ حکومت کی جانب سے دوبارہ نافذ کرنے کا فیصلہ متوقع ہے تاکہ بینک سے نقد رقومات نکالنے کے رجحان پر کنٹرول کیا جا سکے۔ اسی طرح چیک‘ کارڈ یا الکٹرانک ادائیگی کرنے والوں اور وصول کرنے والوں کو بجٹ میں رعایت دیئے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران حکومت کی جانب سے بی ٹی ٹی روشناس کروانے کے علاوہ بینک سے نقد منہاء کرنے کے رجحان کو ختم کرنے کیلئے دیگر اقدامات کئے جانے کی توقع ہے۔ حکومت نے 2کروڑ تک کے کاروبار کرنے والے ایسے تاجرین جو الکٹرانک ادائیگی اور چیک کے ذریعہ ادائیگیوں کو قبول کر رہے ہیں انہیں منافع میں 2فیصد ٹیکس معافی کا اعلان کرچکی ہے اس اعتبار سے 2کروڑ تک کی تجارت کرنے والے تاجرین کو ٹیکس میں 1.24لاکھ کا فائدہ حاصل ہوگا۔ سرکاری ذرائع کے بموجب کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد نقد لین دین سے پاک تجارت کے فروغ کیلئے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں ان کا بجٹ2017-18پر گہرا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت اس سلسلہ میں ماہرین سے مشاورت کے ساتھ ساتھ بینک سے رقم منہاء کرنے کی حد کو متعین کرنے کے علاوہ سیونگ بینک اکاؤنٹ کو بھی بی ٹی ٹی زمرے میں شامل کرتے ہوئے تمام معاملتوں کی نگرانی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور بینکوں سے رقومات کی منہائی ککے رجحان کو روکنے کیلئے عوام کو مختلف ترغیبات دیئے جانے کے ساتھ ساتھ ملک میں تجارت پیشہ افراد کو سہولتوں کی فراہمی کے متعلق غور کیا جانے لگا ہے۔ بی ٹی ٹی زمرے میں سیونگ بینک اکاؤنٹس کو شامل کئے جانے کی صورت میں بینک سے نقد رقم منہاء کئے جانے پر ٹیکس عائد ہوگا اور اس ٹیکس سے بچنے کیلئے عوام کی جانب سے بحالت مجبوری الکٹرانک یا کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کو ترجیح دینے لگ جائیں گے۔ ماہرین معاشیات کے بموجب اس عمل کے ذریعہ تجارت پیشہ افراد کی مجموعی آمدنی اور معاملتیں غیر محسوب نہیں رہ پائیں گی بلکہ تمام رقومات کے حساب میسر آنے لگیں گے۔

TOPPOPULARRECENT