Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / نقد برائے ووٹ اسکام کی ضبط رقم پرائم منسٹر ریلیف فنڈ میں جمع کرائی جائے

نقد برائے ووٹ اسکام کی ضبط رقم پرائم منسٹر ریلیف فنڈ میں جمع کرائی جائے

نئی دہلی ۔ 14 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) نقد رقم برائے ووٹ 2008ء اسکام میں ضبط کی گئی ایک کروڑ روپئے سے زائد کی نقد رقم پرائم منسٹر ریلیف فنڈ میں جمع کرادی جانی چاہئے۔ سٹی کورٹ نے آج پولیس کو یہ ہدایت دی۔ اس اسکام میں سماج وادی پارٹی کے سابق لیڈر امر سنگھ، بی جے پی کے تین سابق ارکان پارلیمنٹ اور دیگر تین افراد شامل تھے جنہیں بری کردیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس نقد رقم کا کوئی بھی دعویدار نہیں ہے لہٰذا ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ اسے سوخت کرلے۔ استغاثہ کے مطابق امرسنگھ کے سابق ساتھی سنجیو سکسینہ نے مبینہ طور پر یہ رقم اس وقت کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ اشوک ارگال کے گھر پہنچائی تھی۔ عدالت نے یہ بات بھی نوٹ کی کہ تمام 7 ملزمین کو جن کے خلاف چارج شیٹ پیش کی گئی ہے، بری کردیا گیا ہے اور اب اس کیس کے بارے میں کوئی بھی چیز زیرمعاملہ  نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ دہلی ہائیکورٹ نے 15 اکٹوبر کو اپنے حکمنامہ میں سکسینہ آخری ملزم کو بھی بری کردیا ہے۔ تاہم اس مقدمہ میں جو نقد رقم برآمد کی گئی ہے، اس تعلق سے کوئی فیصلہ جاری نہیں کیا ہے۔ چنانچہ عدالت ہذا اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے یہ فیصلہ سناتی ہیکہ ساری رقم کو سوخت کرلیا جائے۔ عدالت کی یہ رائے ہیکہ کسی دعویدار کے نہ ہونے کی صورت میں ریاستی حکومت کو یہ رقم سوخت کرنے کا حق ہے۔ چنانچہ ایک کروڑ روپئے سے زائد کی رقم جو اس مقدمہ سے مربوط ہے، اسے سوخت کرلیا گیا ہے۔ تحقیقاتی عہدیدار کو ہدایت دی گئی ہیکہ یہ رقم وزیراعظم کے ریلیف فنڈ میں جمع کرادی جائے اور اس کی ایک نقل عدالت کو پیش کی جائے۔ خصوصی جج نروٹم کوشل نے آج یہ حکم جاری کیا۔ نقد رقم برائے ووٹ اسکام بی جے پی ارکان پارلیمنٹ سے متعلق ہے جنہوں نے 22 جولائی 2008ء کو لوک سبھا کی کارروائی کے دوران ایوان میں کرنسی نوٹس بچھا دیئے تھے۔ اس وقت بائیں بازو جماعتوں نے ہند ۔ امریکہ نیوکلیئر معاملت کے سلسلہ میں یو پی اے I کی تائید سے دستبرداری اختیار کرلی تھی۔ عدالت نے دہلی پولیس کرائم برانچ کی درخواست پر کہ اس رقم کے بارے میں تصفیہ کیا جائے، آج یہ فیصلہ سنایا۔ اس مقدمہ میں دائر کردہ چارج شیٹ کے مطابق رقم کی ملکیت کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے۔ تحقیقاتی عہدیدار کو یہ معلوم نہ ہوسکا کہ کس نے یہ رقم اشوک ارگال کے گھر پہنچائی تھی۔ اس کے علاوہ جو شخص یہ رقم یہاں لے کر آیا تھا اس نے بھی کوئی دلچسپی یا دعویٰ نہیں پیش کیا ہے۔ اشوک ارگال اور دیگر 3 بی جے پی ارکان پارلیمنٹ نے بھی اس رقم کے بارے میں دعویٰ پیش نہیں کیا۔

TOPPOPULARRECENT