Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / نقد رقم کی قلت، بینکس عوام کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر

نقد رقم کی قلت، بینکس عوام کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر

اے ٹی ایم غیر کارکرد، ملک بھر میں مالیاتی افراتفری جیسی صورتحال، کئی مقامات پر لڑائی جھگڑے، صورتحال بے قابو ہونے کا اندیشہ

کالا دھن بے نقاب کرنے مزید سخت اقدامات : مودی
اے ٹی ایم کو جدید نظام سے ہم آہنگ کرنے تین ہفتے درکار : جیٹلی

نئی دہلی ۔ /12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) 500 اور 1000 روپئے کی کرنسی نوٹوں کاچلن بند کرنے نریندر مودی حکومت کے فیصلہ کے چار دن گزرنے کے باوجود ملک بھر میں نقد رقم کی شدید قلت برقرار رہے ۔ عوام کی کثیر تعداد ہفتہ کے روز بھی مختلف بینکوں اور اے ٹی ایم پر طویل قطاروں میں گھنٹوں کھڑے رہتے ہوئے بے چینی کے ساتھ اپنی باری کے منتظر دیکھے گئے ۔ اس دوران کئی بینکوں پر تاخیر کے سبب عملہ کو صارفین کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ہزاروں اے ٹی ایمس میں جمع کردہ رقم چند گھنٹوں میں ہی ختم ہوگئی اور صارفین کو مایوسی کے ساتھ لوٹنا پڑا ۔ بعض مقامات پر بھاری استعمال کے باعث اے ٹی ایمس ناکارہ ہوگئے ۔ ملک بھر میں مسلسل چوتھے دن بھی عوام کو انتہائی برہمی اور بے چینی کا سامنا کرنا پڑا ۔ جب کہ بینکس ان کی ضروریات پوری کرنے میں بری طرح ناکام رہے ۔ لوگ بڑی کرنسی تبدیل کرانے کے لیے آج بھی بینکوں اور پوسٹ آفس پر امڈ پڑے ۔

اسی طرح نصف سے زائد اے ٹی ایم غیر کارکرد رہے اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ۔ 1000 اور 500 کی نوٹ واپس کرانے یا پھر تبادلے کے لیے عوام کی طویل قطاریں دیکھی گئیں ۔ اکثر مقامات پر کافی انتظار کے بعد جب بینک میں رقم ختم ہوگئی تو پھر عوام کو مایوس ہونا پڑا ۔ چھوٹے تاجرین پر جو روزمرہ کے کاروبار میں نقد رقم کا لین دین کرتے ہیں انہیں کافی مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ توقع ہے کہ کل اتوار کو بینکوں میں عوام کا ہجوم اور زیادہ ہوجائے گا ۔ کئی افراد کو جنہیں آج واپس چلے جانا پڑا وہ بھی کل بینک پہونچیں گے ۔ بڑی نوٹوں کا چلن بند کرنے کے فیصلے سے فی الحال عوام کی قوت خرید عملاً ختم ہوچکی ہے بالخصوص متوسط طبقہ کو روزمرہ کی معاشی سرگرمیاں انجام دینا مشکل ہوگیا ہے ۔ملک میں مالیاتی افراتفری جیسی صورتحال ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ حالات بے قابو ہوجائیں گے۔اس دوران وزیراعظم نریندر مودی نے جاپان کے ساحلی شہر سوبے میں صنعت و تجارتی برادری کے نمائندوں سے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ کالادھن بے نقاب کرنے کی جدوجہد میں عنقریب مزید سخت اقدامات کئے جائیں گے ۔

جبکہ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے نئی دہلی کے قومی میڈیا سنٹر میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے ٹی ایمس کو نئی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کیلئے مزید کچھ وقت درکار ہے ۔ جیٹلی نے گزشتہ روز ہندوستان کی سب سے بڑی بینک ایس بی آئی کے بشمول تین بڑی بینکوں کے سربراہان سے ملاقات اور بات چیت کی تھی ۔جیٹلی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نقدی کے بغیر کاروباری معاملتوں کی حوصلہ افزائی کو رعایتیں دینے کیلئے حکومت کو پیش کردہ مختلف سفارش زیرغور ہیں ۔ انہوں نے بعض مقامات پر اے ٹی ایمس کی غیر موثر کارکردگی کا بالواسطہ طور پر اعتراف کیا اور کہا کہ ’’ چونکہ مختلف سائز کے نوٹس ہیںاور اے ٹی ایمس کو ان کے مطابق بنانے کیلئے کچھ وقت درکار ہوگا ۔ چنانچہ فی الحال اے ٹی ایمس سے زیادہ سے زیادہ 100 روپئے کے نوٹ جاری کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹکنالوجی کے بھی اپنے حدود ہیں ۔ اس کے ساتھ رازداری بھی اہمیت کی حامل ہے ۔

نئے نوٹوں کی اجرائی کے لئے دو لاکھ اے ٹی ایمس کو بیک وقت ہم آہنگ نہیں کیا جاسکتی ۔ اس کام کی تکمیل میں کئی چیلنجس ہیں ۔ عوام کی کثیر تعداد آئندہ چند دن تک اے ٹی ایمس پر ٹوٹ پڑے گی ۔ لیکن حکومت درخواست کرتی ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں کیونکہ کھاتوں میں رقم جمع کرنے کیلئے /30 ڈسمبر تک مہلت دی گئی ہے ۔ اس حد تک بھاری رقومات ڈپازٹ کرنے کیلئے یقیناً بہت زیادہ وقت درکارہوگا ۔ جیٹلی نے انکشاف کیا کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں 47868 کروڑ روپئے جمع کئے گئے ہیں اور جملہ رقومات اس سے پانچ گنا زائد ہونے کا تخمینہ کیا گیا ہے ۔ ایس بی آئی نے 58 لاکھ افراد کے نوٹ تبدیل کئے ہیں ۔ 22 لاکھ افراد اے ٹی ایم سے رقومات نکالے ہیں ۔ 33 لاکھ افراد بینک سے رقم نکالے ہیں ۔ جیٹلی نے کہا کہ ایس بی آئی جو ملک کی 20 تا 25 فیصد مجموعی بینک کاروباری سرگرمیاں انجام دیتی ہے دو دن کے دوران 2.28 کروڑ معاملتیں کی ہے ۔ یہ معاملتیں ، نقدی کی ڈپازٹ، دستبرادری ، نقد سے نقد تبادلہ اے ٹی ایم سے نقد کی دستبرداری جیسے پانچ زمروں پر مشتمل ہے ۔ جیٹلی نے اس کام میں بینک اسٹاف کی انتھک محنت کی ستائش کرتے ہوئے حکومت کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بلا شبہ چند مسائل کے باوجود عوام بھی تعاون کررہے ہیں ۔ حکومت نے اتوار کو بھی بینکس کھلے رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ نیز قدیم نوٹوں کے ذریعہ سرکاری بلز کی ادائیگی کی آخری تاریخ میں /14 نومبر تک توسیع دی ہے ۔
(وزیراعظم مودی کی کوبے (جاپان)میں تقریر کی تفصیلات صفحہ 4 پر)

TOPPOPULARRECENT