Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / !نقد لین دین پر ٹیکس عائد کرنے مودی حکومت کا منصوبہ

!نقد لین دین پر ٹیکس عائد کرنے مودی حکومت کا منصوبہ

حیدرآباد 13 ڈسمبر (سیاست نیوز) کرنسی بند کرنے کے فیصلے سے عوام جن مشکلات سے دوچار ہیں، ایسا لگتا ہے اِن میں اور اضافہ ہوگا کیوں کہ حکومت نے ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لئے نقد لین دین پر ٹیکس عائد کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ 500 اور 1000 روپئے کی کرنسی کا چلن بند کئے 35 دن گزر گئے  لیکن عوام اب تک بھی سنبھل نہیں پائے۔ ایسے میں مرکزی حکومت نے غریب اور متوسط طبقہ کو مزید زیربار کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ کالا دھن پر قابو پانے کے لئے نوٹ بندی  کا فیصلہ کیا گیا یا پھر اِس کا مقصد ملک کو نقد لین دین سے پاک کرنا تھا کیوں کہ حکومت آئے دن نت نئے احکامات جاری کرتے ہوئے پہلے ہی پیسے پیسے کیلئے ترس رہے عوام کی مشکلات کو بڑھارہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 50 دن میں حالات سدھرنے کا دعویٰ کیا اور انھوں نے عوام کے لئے جن سہولتوں کا اعلان کیا تھا بتدریج اُسے ختم کردیا گیا ہے۔ نوٹ تبدیل کرنے کی مہلت ختم کردی گئی۔ اسی طرح ایمرجنسی خدمات کے لئے 500 اور 1000 روپئے کی نوٹ قبول کرنے کی اجازت واپس لے لی گئی اور پھر بینک سے رقم نکالنے کی مقررہ حد پر بھی کوئی عمل نہیں کیا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ سرکاری ملازمین اور وظیفہ یابان کو ریاستی حکومت نے 10 ہزار روپئے کی رقم بینکوں سے نکالنے کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا لیکن اِس پر بھی عمل نہیں ہوسکا۔ اب تک منسوخ شدہ 85 فیصد کرنسی بینکوں میں ڈپازٹ کرائی جاچکی ہے۔ اس کے باوجود عوام کی ہراسانی اور انھیں پریشان کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ نریندر مودی نے کالا دھن، کرپشن، دہشت گردی، نکسلائٹس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے نوٹ بندی کے فیصلے کا اعلان کیا تھا اور 35 دن کے دوران کرپشن کا گراف کافی اونچا ہوچکا ہے۔ اب تک کروڑہا روپئے کی نئی کرنسی ضبط کی گئی۔ اس پر توجہ دینے کے بجائے مرکزی حکومت کیش لیس اکنامی کو فروغ دینے کے لئے نت نئی تجاویز پیش کررہی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے کیش لیس اکنامی کے سلسلہ میں تشکیل دیئے گئے پیانل نے مشورہ دیا ہے کہ نقد لین دین سے پاک سماج کے لئے ضروری ہے کہ نقد لین دین پر ٹیکس عائد کردیا جائے۔ اِس سے نہ صرف مرکزی حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ لوگ ٹیکس سے بچنے کے لئے کیش لیس اکنامی کو اپنائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT