Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / نماز جمعہ سے قبل کشمیر کے کئی علاقوں میں دوبارہ کرفیو نافذ

نماز جمعہ سے قبل کشمیر کے کئی علاقوں میں دوبارہ کرفیو نافذ

جامع مسجد اور دیگر مساجد میں نماز جمعہ نہ ہوسکی، اقوام متحدہ کے دفتر تک جلوس کا علیحدگی پسندوں کا منصوبہ ناکام
سری نگر ، 7 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر انتظامیہ نے جمعہ کے دن موسم گرما کے دارالحکومت سری نگر کے 7 پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو اور باقی ماندہ حصوں میں سخت ترین بندشیں عائد کرکے علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ‘اقوام متحدہ فوجی مبصرین کے دفتر’ تک مارچ کی کال ناکام بنادی۔کرفیو کے باعث سری نگر کے پائین شہر میں واقع تاریخی جامع مسجد میں آج مسلسل تیرہویں دفعہ نماز جمعہ ادا نہ کی جاسکی۔ اس کے علاوہ سری نگر کی متعدد دیگر مساجد میں بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سول لائنز میں اقوام متحدہ کے دفتر سے کچھ دوری پر واقع سعید صاحب سونہ واراور ٹی آر سی مسجد میں بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تاہم کرفیو اور سخت ترین بندشیں عائد رہنے کے باوجود وادی میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے قبل اور اس کے بعد متعدد مقامات پر احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔سری نگر کے سیول لائنز میں ہائی سیکورٹی زون ‘سونہ وار’ میں واقع اقوام متحدہ فوجی مبصرین کے دفتر کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تاربچھا کر اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کرکے بندکردیا گیا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں اور سیول لائنز کے بتہ مالو اور مائسمہ تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔ تاہم سیول لائنز کے دوسرے علاقوں کی صورتحال بھی مختلف ہی نظر آئی جن میں بیشتر سڑکوں کو خاردار تاروں سے بند کردیا گیا تھا۔ حریت کانفرنس کے دونوں گروپس کے سربراہان سید علی گیلانی اور میرواعظ مولوی عمر فاروق اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین محمد یاسین ملک جنہیں اب کشمیر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کے نام سے جانا جاتا ہے ، نے وادی میں جاری ہڑتال میں 13 اکتوبر تک توسیع کا اعلان کر رکھا ہے ۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے ساتھ شروع ہوئی احتجاجی مظاہروں کی لہر کے بعد سے ہفتہ وار احتجاجی کلینڈر جاری کررہی ہے ۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت کا کہنا ہے کہ وادی میں جاری موجودہ جدوجہد کو حق خودارادیت کے حصول تک جاری رکھا جائے گا۔ وادی میں گذشتہ 91 دنوں کے دوران کم از کم 89 عام شہری ہلاک جبکہ 13 ہزار دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔

انہوں نے اس مارچ کا مقصد ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اقوام متحدہ فوجی مبصرین کو کشمیری عوام کے مشکلات اور بھارت کی طرف سے کشمیر میں جاری جدوجہد پر سے بین الاقوامی توجہ کو ہٹانے کے لئے پیدا کردہ جنگی جنون کے بارے میں ایک میمورنڈم پیش کیا جائے گا’۔ انہوں نے عوام سے نماز جمعہ وسیع ٹورسٹ ری سپشن سنٹر، پولو گراؤنڈ اور اس کے مضافات میں ادا کرنے کے لئے کہا تھا۔ کشمیر انتظامیہ نے علیحدگی پسند رہنماؤں کو کسی بھی جلسے ، جلوس یا ریلی کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے پہلے ہی مختلف جیلوں میں بند رکھا ہے ۔ تاہم بذرگ علیحدگی پسند رہنما مسٹر گیلانی کو اپنی حیدرپورہ رہائش گاہ پر نظر بند رکھا گیا ہے ۔ میرواعظ کو چشمہ شاہی ہٹ نما سب جیل جبکہ یاسین ملک کو جے آئی سی ہم ہامہ میں بند رکھا گیا ہے ۔ فوجی مبصرین کے دفتر تک مارچ کو ناکام بنانے کے لئے اس کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تار سے بند جبکہ ان سڑکوں پر سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات رکھے گئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT