Monday , May 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / نماز جمعہ کے وقت جنازہ آجائے تو …

نماز جمعہ کے وقت جنازہ آجائے تو …

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جنازہ، جمعہ کے وقت آجائے تو فرض نماز کے فورًا بعد پڑھا جائے یا سنن و دعا کے بعد؟ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ بعدنماز جمعہ حرمین شریفین میں پڑھی جاتی ہے، بعدسنن و نوافل و بعد سلام ہو تو مجموعہ کی قلت کا اور میت کی تدفین میں تاخیر کا اندیشہ ہے۔ اور نماز جنازہ فرض کفایہ ہے، سنن و نوافل کے بعد پڑھنے میں تقدیم علی الفرض لازم آنے کا خدشہ ہے۔ قلبی عارضہ سے مرنے والے کی تدفین میں تاخیر سے تعفن کا خدشہ ہوتا ہے، جسکو میت کے اقرباء مناسب نہیں جانتے۔ نیز مسجد میں مختلف مکاتب فکر کے مصلی ہوتے ہیں۔ نماز جنازہ سنن و نوافل، سلام و فاتحہ کے بعد پڑھنے میں عوام کو ایک قسم کا بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نمازجمعہ کے متصل نماز جنازہ ادا کی جائے تو لوگ سنن و نوافل ادا کئے بغیر چلے جائیں گے۔ لہذا سنن و نوافل کے بعد نمازجنازہ پڑھنا چاہئے۔
ایسی صورت میں شرعًا کیا حکم ہے  ؟  بینوا تؤجروا
جواب: نمازجنازہ اور جمعہ ایک وقت جمع ہوجائیں تو نمازجمعہ اور اسکی سنن و نوافل کے بعد نمازجنازہ پڑھی جائے۔ اسی پر فتوی ہے۔ درمختاربرحاشیہ ردالمحتارجلد اول ص ۶۱۱ میں ہے:  (وتقدم) صلاتھا (علی صلاۃ الجنازۃ اذا اجتمعا) لأنہ واجب عینا والجنازۃ کفایۃ … ألفتوی علی تأخیرالجنازۃ عن السنۃ وأقرہ المصنف کأنہ الحاق لھا بالصلاۃ ۔  اور ردالمحتار میں ہے:  (قولہ عن السنۃ) ای سنۃ الجمعۃ کما صرح بہ ھناک وقال فعلی ھذا تؤخر عن سنۃ المغرب لأنھا آکد اھ  فافھم (قولہ الحاقا لھا) ای بالسنۃ بالصلاۃ ای صلاۃ الفرض۔ حرمین شریفین زادھمااﷲ شرفًا و تعظیمًا کے عمل پر قیاس درست نہیں۔ اتفاقًا نماز میں تاخیر سے تعفن کا خدشہ ہوتو کسی بھی فرض نماز سے قبل جنازہ کی نماز پڑھالی جاسکتی ہے۔  فقط واﷲأعلم
’’یہاںپر تم بنالو‘‘ کہنے سے جائداد ملک نہ ہوگی
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میرامیرعلی اپنے سرمایہ سے اپنے نام زمین خریدی، اس پر گھر تعمیر کروائے، جس میں انکے چھوٹے بھائی میرعابدعلی کا کچھ بھی سرمایہ نہیں۔ البتہ گھر کی تعمیر کے وقت وہ بہت محنت کئے۔ میرامیرعلی نے انکو اور انکی بیوی کو اپنے گھر کے حصہ میں ’’یہاںپر تم بنالو‘‘ کہتے تھے۔ میرعابدعلی نہ وہاں پر کچھ بنائے اور نہ وہاں پر رہتے تھے۔ اور دوسری جگہ منتقل ہوگئے۔
ایسی صورت میں شرعًا کیا حکم ہے    ؟ بینوا تؤجروا
جواب: بشرطِ صحت ِسوال صورتِ مسئول عنہا میں میرامیرعلی کے اپنے گھر کے ایک حصہ پر اپنے چھوٹے بھائی میرعابدعلی کو ’’یہاں پر تم بنالو‘‘ کہنے سے وہ جائداد کا حصہ میرعابدعلی کی ملک نہ ہوگا، کیونکہ صحت ہبہ کے لئے ایجاب و قبول اور قبضہ ضروری ہے۔ اس کے بغیر ہبہ مکمل نہیں ہوتا۔ ہدایہ کتاب الہبۃ میں ہے:  ألھبۃ عقد مشروع و تصح بالایجاب والقبول والقبض  اور  فتاوی عالمگیری جلد ۴ کتاب الہبۃ ص۳۷۷ میں ہے: ولایتم حکم الہبۃ الا مقبوضۃ ویستوی فیہ الاجنبی والولد اذا کان بالغا ھکذا فی المحیط۔
فقط واﷲأعلم

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT