Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / نماز جمعہ کے پیش نظر وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں دوبارہ کرفیو نافذ

نماز جمعہ کے پیش نظر وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں دوبارہ کرفیو نافذ

 

 

کشمیری عوام کے اپنے مقصد کے حصول میں قربت پر مرکز حواس باختہ، سید علی شاہ گیلانی کا الزام

سرینگر ۔ 9 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں نماز جمعہ سے پہلے نظم و ضبط کی برقراری کیلئے آج کرفیو دوبارہ نافذ کردیا گیا۔ معمولات زندگی آج مسلسل 63 ویں دن بھی انتشار کا شکار وادی کشمیر میں معطل رہے جہاں 73 افراد ہلاک اور کئی ہزار دیگر زخمی ہوچکے ہیں جبکہ فوج کے ساتھ احتجاجیوں کی جھڑپ ہوئی تھی۔ پولیس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ سرینگر کے کئی علاقوں اور وادی کے بڑے قصبوں میں نماز جمعہ کے بعد پرتشدد احتجاج کے اندیشوں کے پیش نظر احتیاطی اقدام کے طور پر 14 پولیس اسٹیشنوں کے حدود میں دوبارہ کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ باقی علاقوں میں عوام کی نقل و حرکت پر تحدیدات عائد کی گئی ہیں۔ دکانیں، کاروباری ادارے اور پٹرول پمپس آج دن میں ہنوز بند رہے۔ سرینگر کے بازار اور دیگر مقامات جہاں شام دیر گئے کل چہل پہل نظر آئی تھی کیونکہ علحدگی پسندوں نے اپنی ہڑتال میں 6 بجے شام سے نرمی دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم احتجاج کو 16 ستمبر تک توسیع دے دی گئی ہے۔ اسکولس، کالجس اور دیگر تعلیمی ادارے وادی کشمیر میں مسلسل بند رہیں۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں حاضری میں گذشتہ چار دن سے نمایاں بہتری دیکھی جارہی ہے جہاں کرفیو اور تشدد کے اندیشوں کے پیش نظر حاضری بہت کم تھی۔ سڑکیں اور گلیاں جہاں حالیہ دنوں میں خانگی گاڑیوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوگیا تھا سنسان نظر آرہی تھیں۔ سرکاری گاڑیاں اب بھی چلتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ دریں اثناء سخت گیر حریت کانفرنس کے صدر سید علی شاہ گیلانی نے آج مرکز پر الزام عائد کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے عوام سے ربط کا ڈھونگ کررہی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کیونکہ کشمیری عوام اپنے مقصد کے حصول کے قریب پہنچ چکے ہیں اس لئے مرکزی حکومت حواس باختہ ہوگئی ہے۔ وہ دوبارہ کشمیر کا دورہ کریں گے اور ہم سے پوچھیں گے کہ ہم کیا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں اس سوال کا جواب معلوم ہے۔ ہم آزادی چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی قیامگاہ پر پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا جس کو پولیس نے ان کے گھرجانے والی تمام سڑکوں کی ناکہ بندی کرتے ہوئے پریس کانفرنس کے ایک پروگرام کو ناکام بنادیا۔ اس پر سید علی شاہ گیلانی نے پریس کانفرنس کا متن ذرائع ابلاغ کے حوالہ کردیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے ان قائدین کی ایک فہرست تیار کی ہے جنہیں وہ ’’واجب القتل‘‘ سمجھتی ہے۔ صدرنشین سخت گیر حریت کانفرنس نے چین، ناروے، سعودی عرب، ترکی، نیوزی لینڈ اور ایران کے علاوہ تنظیم اسلامی ممالک سے اظہارتشکر کیا جنہوں نے کشمیر میں ہندوستان کے جبر پر اظہارتشویش کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT