Friday , September 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / نماز سے کوئی شریعت خالی نہیں

نماز سے کوئی شریعت خالی نہیں

مرسل : ابوزہیر
نماز کی تعریف : نماز  ترجمہ ہے لفظ صلوٰۃ کا جس کے معنیٰ دعاء کے ہیں۔ اور اصطلاح شرع میں مخصوص افعال ( قیام ‘ رکوع ‘ سجود وغیرہ ) کا نام نماز ہے ۔
نماز کی اولیت : نماز وہ عبادت ہے جو سب سے پہلے فرض ہوئی اور پھر سب سے پہلے دنیا سے اٹھالی جائے گی اور سب سے پہلے قیامت کے دن اسی کا سوال ہوگا۔
روز محشر کہ جاں گداز بود     اولیں پرسش نماز بود
نماز سے کوئی شریعت خالی نہیں : حضرت آدم علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر اس وقت تک جتنے انبیاء (علیہم السلام ) گزرے ہیں سب پر نماز فرض تھی البتہ تعداد اور طریق ادا میں فرق رہا اوراب شریعت اسلامیہ میں جس طریق ادا کا حکم ہے وہ اکمل ترینِ طرق ہے ۔
نماز اور اسلام : نماز  اسلام کا رکن اول و اعظم ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اسلام کی عمارت زیادہ تر اسی پر قائم ہے یا مسلمان کا مسلمان ہونا اسی سے سمجھا  جاسکتا ہے تب بھی مبالغہ نہیں ۔ حضور اکرم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ نماز دین کا ستون ہے ‘‘  ( جس نے نماز کو قائم رکھا اس نے دین کو قائم رکھا اور جس نے نماز کو چھوڑ دیا اس نے دین کی بنیاد منہدم کر دی ) اور فرمایاکہ ’’ نماز کے بغیر دین ایسا ہے جیسے سر کے بغیر جسم ‘‘ ۔
نماز کی اہمیت :  نماز ہر فرد مسلمان پر ( خواہ امیر ہو یا فقیر ‘ تندرست ہو یا مریض ‘ مقیم ہو یا مسافر ) روزانہ پانچ وقت فرض عین ہے ‘ یہاں تک کہ دشمن کے مقابلہ میں جب لڑائی کی آگ بھڑک رہی ہو ‘ اس وقت بھی اس کا ادا کرنا فرض ہے ۔ عورت جبکہ درد زہ میں مبتلا ہو ‘ جو  ایک سخت مصیبت کا وقت ہے ‘ بلکہ بچہ کا کوئی جزو نصف سے کم باہر آگیا ہو تو اس وقت بھی اس کو نماز پڑھنے کا حکم ہے‘ توقف جائز نہیں ۔ نماز کی اہمیت کا پتہ اس سے بھی چلتا ہے کہ باوجود یکہ نابالغ پر نماز فرض نہیں لیکن حدیث میں سات برس کی عمر ہی سے بچہ کو نماز پڑھنے کی تاکید کرنے اور دس برس کی عمر میں ترک نماز پر مارنے کا حکم ہے تاکہ پیش از پیش نابالغ کو نماز کی عادت ہوجائے ۔ غرض نماز کی تاکید سے قرآن مجید اور احادیث شریف کے مبارک صفحات مالا مال ہیں۔ گویا نمازایک ایسا لابد و ناگزیر فرض ہے۔ جو بغیر موت کے کسی طرح مسلمان کے ذمہ سے ساقط نہیں ہوتا ۔
ترک نماز کا اثر : حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ نماز مومن اور کافر کے درمیان حد فاصل ہے جس نے عمداً نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوگیا ‘‘ ( کفر کے قریب ہوگیا ) ‘اور فرمایا ’’ نماز نہ چھوڑنا کہ نماز چھوڑنے والے سے اسلام کاذمہ بری ہے ‘‘ ۔ ’’ جس نے نماز چھوڑ دی اس کا اسلام میں کچھ حصہ نہیں ‘‘ ۔’’ جس نے نماز چھوڑ دی وہ قیامت کے دن فرعون ‘ قارون ‘ ہامان ‘ ابیّ ابن خلف  ( جیسے دشمنان خدا) کے ہمراہ ہوگا‘‘۔ ان ارشادات کے بعد نماز چھوڑ دینے سے کیا اثر مرتب ہوتا ہے اور مسلمان کو اسلام کے ساتھ کیانسبت قائم رہتی ہے ‘ ہر شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے ۔
(از: نصاب اہل خدمات شرعیہ، حصہ چہارم)

TOPPOPULARRECENT