Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / نماز عیدالفطر کے وقت بنگلہ دیش میں ایک اور دہشت گرد حملہ

نماز عیدالفطر کے وقت بنگلہ دیش میں ایک اور دہشت گرد حملہ

چار مہلوکین میں دو پولیس اہلکار اور ایک ہندو خاتون بھی شامل ۔فائرنگ کے تبادلہ میں حملہ آور بھی مارا گیا
ڈھاکہ ۔ 8 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش اب دہشت گردوں کا شاید پسندیدہ مقام بنتا جارہا ہے۔ رمضان المبارک کا احترام ان لوگوں نے  نہیں کیا تاہم اب عیدالفطر کے اجتماع پر بھی انہوں نے حملہ کردیا جس میں چار افراد جاں بحق ہوگئے جن میں دو پولیس اہلکار اور ایک ہندو خاتون بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ صرف ایک ہفتہ قبل ہی یرغمال بنائے جانے کے ڈرامائی واقعہ اور 22 افراد کی ہلاکت کے بعد اس واقعہ کا رونما ہونا یقینا ایک افسوسناک بات ہے۔ شمالی کشورگنج ڈسٹرکٹ کے شولاکیا نامی مقام پر اس وقت دھماکے ہوئے جب عیدالفطر کی نماز ادا کرنے کیلئے تقریباً 2 لاکھ افراد کا کثیر اجتماع تھا۔ پولیس نے بتایا کہ دھماکوں میں ایک کانسٹیبل ہلاک جبکہ دیگر 13 شدید طور پر زخمی ہوگئے جبکہ دوسرا زخمی کانسٹیبل ہاسپٹل لے جاتے ہوئے راستے میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکا۔ دوسری طرف ایک ہندو خاتون خانہ جھرنا رانی بھومک اس وقت ہلاک ہوگئی جب ایک گولی اچانک اس کی جھونپڑی کی جانب چل گئی اور اسے جا لگی۔ فائرنگ کے تبادلہ میں ایک مشتبہ حملہ آور بھی ہلاک ہوگیا۔ پولیس نے دھماکے کے مقام کی ناکہ بندی کردی ہے۔

پولیس کا کہنا ہیکہ دو حملہ آوروں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جبکہ ذرائع ابلاغ میں تین افراد کو گرفتار کرنے کی خبریں پیش کی جارہی ہیں۔ مقامی رپورٹس کے مطابق حملہ آور 6 تا 7 افراد تھے جن کے پاس مہلک ہتھیار تھے۔ انہوں نے اس وقت پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا جب وہ عیدگاہ کے قریب نماز پڑھنے کیلئے آنے والوں کی جانچ پڑتال کررہے تھے۔ دریں اثناء کشور گنج نے ایس پی عبیدالحسن نے کہا کہ عیدگاہ میں جمع ہونے والے ہزاروں مصلی دھماکے کی وجہ سے دہشت زدہ ہوگئے۔ تاہم نماز عید میں کوئی خلل نہیں پڑا اور وہ اپنے وقت پر ادا کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دھماکوں میں خام بموں کا استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم اس بارے میں اب تک کوئی توثیق نہیں ہوئی ہے۔ پولیس نے البتہ گرفتار شدہ حملہ آوروں کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ آج کئے گئے حملوں کی کسی بھی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہیکہ گذشتہ ہفتہ ڈھاکہ کے ایک کیفے پر دہشت گرد حملہ کرنے والے دولت اسلامیہ کے جنگجو تھے جنہوں نے انتہائی سفاکی کے ساتھ 22 افراد بشمول ایک 19 سالہ ہندوستانی لڑکی کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

دولت اسلامیہ کے گروپ نے حکومت بنگلہ دیش کو کل ایک ویڈیو بھی جاری کیا تھا جس میں مزید حملوںکا انتباہ دیا گیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ یہ دھمکیاں بھی دی گئی تھیں کہ جب تک شرعی قوانین کو عالمی سطح پر وضع نہیں کیا جائے گا اس وقت تک نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور یہ بھی کہا تھا کہ گذشتہ ہفتہ جو ہلاکت انگیز واقعہ ہوا تھا وہ سفاکیت کی محض ایک جھلک تھی۔ ویڈیو پیغام شام کے رقہ علاقہ سے جاری کیا گیا تھا جو دہشت گرد گروپ کا گڑھ ہے۔ گذشتہ ہفتہ ڈھاکہ میں واقع ایک ہوٹل کو دہشت گردوں نے اپنا نشانہ بناتے ہوئے متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ تاہم بعدازاں 22 افراد کو گولی مار دی گئی تھی جن میں اٹلی، جاپان، ہندوستان اور امریکہ کے شہری بھی شامل تھے۔ دولت اسلامیہ کی جانب سے جاری کئے گئے ایک ویڈیو جو وائرل ہوچکا ہے اور جسے دیکھنے والے دم بخود ہیں کہ کس طرح دولت اسلامیہ کے دہشت گردوں نے 20 یرغمالیوں اور دو پولیس افسران کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT