Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / نمس میں آن لائن سسٹم کو ناکارہ بنانے ملازمین کی کوشش

نمس میں آن لائن سسٹم کو ناکارہ بنانے ملازمین کی کوشش

بدعنوانیوں کے انکشاف کا ڈر و خوف ، نوے فیصد مریضوں کو ہی او پی کارڈس
حیدرآباد ۔ 8 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : دواخانہ نمس میں ہونے والی بدعنوانیوں کو روکنے اور مریضوں کو مستقبل میں مزید علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کردہ آن لائن سسٹم کو دواخانہ کے ہی چند بدعنوان ملازمین سسٹم کو ناکارہ کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ اگر آن لائن سسٹم کامیاب ہوگیا تو بدعنوانیوں پر مکمل روک تھام لگے گی ۔ جس کی وجہ سے مریض ایک ہفتہ سے کئی مسائل کا سامنا کررہے ہیں ۔ عہدیداران کا کہنا ہے کہ نئے سسٹم کی وجہ سے وقتی طور پر مسائل پیدا ہونا درست ہے مگر مریضوں کا کہنا ہے کہ دواخانہ کا عملہ جان بوجھ کر مسائل پیدا کررہا ہے ۔ جس کا مقصد بدعنوانیوں کو جاری رکھنا ہے ۔ ماضی قریب تک دواخانہ نمس میں او پی کارڈ سے لے کر علاج تک قدیم طریقہ کار سے ہی انجام دیا جارہا تھا اور کسی بھی ڈپارٹمنٹ سے ہونے والی آمدنی و اخراجات کا اس شعبہ تک حساب کتاب محدود ہوا کرتا تھا ۔ جس کی وجہ سے دواخانہ کا عملہ مریضوں کو علاج میں رعایت دینے سے متعلق غلط اندراج کر کے رقم غائب کردیا کرتا تھا علاوہ ازیں آروگیہ شری کے ذریعہ رجوع ہونے والے مریضوں سے علاج کے لیے اخراجات وصول کر کے آروگیہ شری سے فنڈس منظور ہونے کے بعد اس فنڈ کو بھی خود ہی حاصل کرلیا کرتے تھے ۔ ڈاکٹر نریندر ناتھ ڈائرکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے وقت انہوں نے آن لائن سسٹم کا آغاز کیا تھا ۔ 16 کروڑ کے لاگتی پراجکٹ کو مرکزی حکومت کے ایک ادارے کو ذمہ داری سونپی گئی تھی اور انہوں نے اپنے زمانے خدمات میں ہی عمل آوری کی مکمل کوشش کی مگر بعض بدعنوان افراد نے ایڑی چوٹی کا زور لگاکر اس عمل کو آگے بڑھانے نہیں دیا مگر اب موجودہ ڈائرکٹر ڈاکٹر منوہر اس آن لائن سسٹم کو آگے بڑھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور ابتدائی عمل کے طور پر گذشتہ ہفتہ سے آن لائن او پی کارڈس کی اجرائی کا آغاز کیا ۔ ڈاکٹرس کے مطابق آن لائن سسٹم کی وجہ سے بے شمار فوائد ہیں ہر مریض سے متعلق تمام معلومات اس نمبر کے ذریعہ محفوظ کی جائیں گی اور جب کبھی بھی مریض دواخانہ نمس سے رجوع ہوگا تو اس نمبر کے ذریعہ بآسانی معلوم ہوگا کہ وہ مریض کتنی مرتبہ دواخانے سے رجوع ہوا ہے اور اس نے کن کن بیماریوں کا علاج کرایا ہے اور اس مریض کو دواخانہ سے کیا کیا دوائیں فراہم کی گئی ہیں وغیرہ اور ان تفصیلات کی بنیاد پر ڈاکٹرس بآسانی اس مریض کے علاج سے متعلق فیصلہ کرسکتے ہیں ۔ علاوہ ازیں مریض کی جانب سے علاج کے لیے ادا کی گئی رقم کی تفصیلات بھی سنٹرل سرور میں محفوظ ہوتی ہیں ۔ جس کی وجہ سے کسی بھی طرح کی بدعنوانیوں پر روک لگائی جاسکتی ہے ۔ اس مناسبت سے رجوع ہونے والے مریضوں کی تمام تفصیلات او پی کارڈ کی حصولی کے وقت ہی حاصل کی جائیں گی ۔ ایک مریض کی تفصیلات درج کرنے کے لیے 5 تا 6 منٹ کا وقت کافی ہے مگر عملہ ایک مریض کی تفصیلات درج کرنے کے لیے 15 تا 20 منٹ کا وقت لے رہا ہے اور بعض مرتبہ سرور ڈاؤن کا بہانہ کر کے خدمات روک دے رہا ہے ۔ جس کی وجہ سے سینکڑوں مریضوں کو گھنٹوں اپنی باری کے انتظار میں پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے اور گزشتہ ایک ہفتہ سے یہی حالات ہیں ۔ آن لائن سسٹم کو ناکارہ بناکر اس سسٹم کو ہی ختم کرنا مقصود ہے اور تاخیر سے او پی کارڈ دئیے جانے کی وجہ سے مریض ڈاکٹرس کے پاس پہونچنے سے قبل ڈاکٹرس وارڈس میں موجود مریضوں کے معائنہ کے لیے چلے جاتے ہیں ۔ شعبہ نیورالوجی کے پاس او پی کارڈس جاری کرنے کے لیے تین کاونٹرس قائم کئے گئے ہیں اور یہاں 180 مریضوں کا معائنہ کیا جاسکتا ہے اور ان کاونٹرس سے گزشتہ کل 220 مریض رجوع ہوئے مگر صرف 90 مریضوں کو ہی او پی کارڈس جاری کئے گئے جس کی وجہ سے مریض میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو شکایت کیے بعد ازاں مزید چند مریضوں کو کارڈس جاری کئے گئے ۔ اس کے باوجود 50 مریضوں کو بغیر علاج کے ہی واپس لوٹنا پڑا ۔۔

TOPPOPULARRECENT