Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / نندیال ضمنی انتخاب ‘ آج رائے دہی ‘ تمام تیاریاں مکمل

نندیال ضمنی انتخاب ‘ آج رائے دہی ‘ تمام تیاریاں مکمل

سخت سکیوریٹی انتظامات ۔ تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس میں کانٹے کا مقابلہ
حیدرآباد 22 اگسٹ ( سیاست نیوز ) آندھرا پردیش کے حلقہ اسمبلی نندیال کے ضمنی انتخاب کیلئے کل چہارشنبہ 23 اگسٹ کو ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ جملہ 2.19 لاکھ رائے دہندے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کرینگے ۔ سمجھا جا رہا ہے کہ یہ انتخاب آندھرا پردیش میں 2019 کے عام انتخابات کے رجحان کے عکاس ہونگے ۔ اگر برسر اقتدار تلگودیشم پارٹی کو شکست ہوتی ہے تو یہ مخالف حکومت رائے سمجھی جائیگی جبکہ اگر اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس کو شکست ہوتی ہے تو پھر اسے 2019 کے انتخابات سے قبل اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کی ضرورت ہوگی ۔ کہا جا رہا ہے کہ اس انتخاب کے نتیجہ سے ریاست میں سیاسی صورتحال میں تبدیلی آئیگی اور یہ قیاس آرائیاں بھی ہیں کہ نتائج کے بعد پھر انحراف کا سلسلہ شروع ہوجائیگا ۔ کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی حالانکہ فی الحال تلگودیشم کے ساتھ ہے لیکن وہ اس انتخاب پر قریبی نظر رکھی ہوی ہے تاکہ 2019 کے انتخابات کیلئے اپنی حکمت عملی کو قطعیت دی جاسکے ۔ کل صبح 7 بجے تا شام 6 بجے ہونے والی ر ائے دہی کیلئے تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں ۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ساتھ انتخابی عملہ کو تمام مراکز رائے دہی روانہ کردیا گیا ہے ۔ ضلع کلکٹر و ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر راست اپنی نگرانی میں انجام دے رہے ہیں ۔ جملہ (255) مراکز رائے دہی قائم کئے گئے ہیں ۔ جن میں (114) مراکز رائے دہی کی انتہائی حساس مراکز کے طور پر نشاندہی کی گئی ۔ پولیس کے خصوصی اور سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں۔ ہر مرکز رائے دہی کے پاس نیم فوجی فورسیس پیرا ملٹری فورس دستوں کو تعینات کیا جارہا ہے ۔ اب تک (6) مرکزی فورسیس کی کمپنیاں نندیال پہونچ چکی ہیں ۔ ہر مرکز رائے دہی پر ویب کاسٹنگ ، اسٹاف کے بشمول جملہ دس ملازمین کو تعینات کیا گیا ۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ نندیال کے ضمنی انتخابی میدان میں جملہ (15) امیدواروں بشمول مسٹر بھوما برہمانندا ریڈی (تلگودیشم) شلپاموہن ریڈی (وائی ایس آر کانگریس) اور جی عبدالقادر ( کانگریس) اپنی قسمت آزمائی کررہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ سال 2014 ء میں منعقدہ انتخابات میں رائے دہی کا اوسط (72.09) فیصد رہا ۔ لیکن اس مرتبہ ضمنی انتخاب کو ہر پارٹی نے اپنے وقار کا مسئلہ تصور کرتے ہوئے اپنے امیدوار کی کامیابی کیلئے کوشاں رہنے کے پیش نظر اس مرتبہ (75) فیصد رائے دہی کی توقع کی جارہی ہے ۔

 

TOPPOPULARRECENT