Tuesday , July 25 2017
Home / اداریہ / نواز شریف ‘ بدعنوانیوں کی تحقیقات

نواز شریف ‘ بدعنوانیوں کی تحقیقات

میری بربادیاں بھی رنگ لائیں
میں جو ٹوٹا سنور گئے احباب
نواز شریف ‘ بدعنوانیوں کی تحقیقات
وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے آج پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے رشوت کے الزامات میں ایک تحقیقاتی ٹیم کے سوالات کے جواب دئے ۔ نواز شریف اور ان کے افراد خاندان کے خلاف رشوت کے الزامات کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ نے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی جس کے روبروآج نواز شریف حاضر ہوئے اور انہوں نے کمیٹی کے سوالات کے جواب دئے ۔ یہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ہے کہ کسی برسر خدمت وزیر اعظم نے کسی تحقیقاتی کمیٹی میں حاضری دی ہو وہ بھی رشوت کے الزامات کے سلسلہ میں سوالات کے جواب دینے ۔ ویسے تو پاکستان میں بیشتر قائدین اور ذمہ داروں کے خلاف رشوت اور بدعنوانیوں کے الزامات عائد ہوتے رہتے ہیں اور خاص طور پر نواز شریف اور ان کے افراد خاندان کے خلاف ایک سے زائد مرتبہ رشوت اور بدعنوانیوں کے الزامات سامنے آئے تھے ۔ پناما انکشافات کے بعد سے خاص طور پر اس خاندان کے خلاف الزامات پوری شدت سے سامنے آئے اور عمران خان کی قیادت والی پاکستان تحریک انصاف پارٹی نے اس کو عدالت سے بھی رجو ع کیا تھا ۔ نواز شریف عدالت میں کسی کارروائی یا سزا کے مستحق قرار پانے سے بال بال بچ گئے ورنہ آج وہ وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان بھی دکھائی نہیں دیتے ۔ جس وقت انہیں عدالت سے راحت ملی تھی یہ کہا جا رہا تھا کہ ان کے سر سے خطرہ ٹل گیا ہے اب جو تحقیقاتی عمل ہے وہ ایک ضابطہ کی تکمیل کی کوشش ہی ہوگی کیونکہ اس کے نتیجہ میں نواز شریف کا سیاسی کیرئیر کوئی متاثر نہیں ہونے والا ہے اور نہ ہی ان کا کوئی عہدہ داؤ پر لگنے والا ہے ۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی برسر خدمت وزیر اعظم کیلئے رشوت کے الزامات کی وضاحت کرنے اور تحقیقاتی حکام کے سوالات کے جواب دینے کیلئے ان کے سامنے پیش ہونا خود ایک شرمندگی کی بات ہے ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ برصغیر کے سیاستدانوں کیلئے شرم نام کی کوئی چیز باقی ہی نہیں رہ گئی ہے ۔ ان کے لئے کوئی بات معنی رکھتی ہے تو وہ اقتدار ہے اور کوئی شئے معنی رکھتی ہے تو وہ دولت کا حصول ہے ۔ اس کیلئے وہ جائز اور ناجائز دونوں ہی طریقے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔ اس کی بے شمار مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔
نواز شریف نے اس کمیٹی کے روبرو حاضری دینے کے بعد اس خیال کا اظہار کیا کہ انہو ںنے یا ان کے خاندان نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ روپوش عناصر ہیں جو انہیں اور حکومت کو نشانہ بنانے کیلئے جٹے ہوئے ہیں اور ان کی نیک نامی کو متاثر کر رہے ہیں۔ شریف کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان کو ماضی میں بھی اسی طرح نشانہ بنایا گیا تھا جب دوسری جماعتوں کی حکومتیں تھیں۔ شریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے کمیٹی کے روبرو اپنے موقف کو پیش کیا ہے ۔ نواز شریف بھلے ہی اب اپنے آپ کو مظلوم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کریں شائد اس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکتے لیکن ایک بات حقیقت ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کسی وزیر اعظم کا رشوت کے الزامات میں شخصی طور پر ایسی وضاحت کیلئے مجبور ہونا کوئی اچھی بات نہیں ہے بلکہ یہ باعث شرمندگی ہے ۔ اس سے جو مثال قائم ہوئی ہے وہ مثال بھی اچھی نہیں کہی جاسکتی ۔ یہ عوامی اور سیاسی زندگیوں میں گرتے ہوئے معیار اور اخلاق و اقدار کی گراوٹ کو ظاہر کرتی ہے ۔ اور اس سب کچھ کیلئے نواز شریف اور ان کے ساتھی ذمہ دار ہیں۔ نواز شریف نے یہ وضاحت بھی کرنے کی کوشش کی کہ جو الزامات ہیں وہ ان کے دور وزارت عظمی سے کوئی تعلق نہیں رکھتے اور نہ ہی یہ رشوت کے الزامات ہیں بلکہ یہ سب کچھ ان کے اور ان کے افراد خاندان کے تعلق سے خاندانی کاروبار اور شخصی معاملات سے متعلق ہیں ۔ اس کا سرکاری کام کاج سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
یہ در اصل نواز شریف کی جانب سے اپنی شبیہہ کو صاف کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے ۔ انہیں یہ وضاحت کرنے سے بھی گریز کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص اپنے شخصی معاملات اور خاندانی کاروبار ہی میں اس طرح کے الزامات یا تحقیقات کا سامنا کر رہا ہو وہ ملک کی قیادت میں کس طرح سے کامیاب ہوسکتا ہے ؟ ۔ تحقیقاتی کمیٹی نے نواز شریف سے چاہے جو سوال کئے ہوں اور نواز شریف نے چاہے جو جواب دئے ہوں یہ حقیقت ہے کہ یہ عوامی اور سیاسی زندگی کے زوال کی علامت ہے اور اس پر سیاسی اور عوامی قائدین کو اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات اور لالچ میں سماج و معاشرہ کو کہاں لے جا رہے ہیں اور وہ عوام کے سامنے کس طرح کی مثال قائم کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT