Monday , September 25 2017
Home / مضامین / نواز شریف کی سیاسی قوت گھٹنا کشمیر کیلئے بُری خبر

نواز شریف کی سیاسی قوت گھٹنا کشمیر کیلئے بُری خبر

 

پرانئے شرما
پاکستان میں اِن دنوں جاری زبردست سیاسی ڈرامہ پر ہندوستانی پالیسی سازوں کی کافی شوق سے نظریں لگی ہیں۔ جس طرح نواز شریف کے استعفے کیلئے مطالبہ میں ہر روز شدت پیدا ہورہی ہے، اس کے نتیجے میں دہلی کے ارباب اقتدار میں تجسس اور خوشی کے ملے جلے جذبات اُبھر رہے ہیں … این ڈی اے حکومت گزشتہ دو سال سے ہر علاقائی اور بین قومی فورم کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو یکا و تنہا کرتی آئی ہے۔
یہ باہمی روابط کی عجیب صورتحال ہے۔ مئی 2014ء میں دونوں طرف یہی سیاسی قیادت تھی جو اَب ہے۔ نریندر مودی نے اپنی حلف برداری تقریب میں شدومد سے پڑوسی و علاقائی قائدین کو مدعو کیا تھا۔ نواز شریف وطن میں مخالفت کے باوجود نئی دہلی آئے اور مودی کو وزیراعظم بننے پر بہ نفس نفیس مبارکباد پیش کی تھی۔ حالانکہ خود مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اُس موقع سے چند روز قبل تک پاکستان کے خلاف سخت موقف رکھتے تھے اور ہمیشہ کانگریس زیرقیادت یونائیٹیڈ پروگریسیو الائنس (یو پی اے) پر زور دیتے رہے کہ پڑوسی ملک کو سبق سکھانے حملہ کردیا جائے۔ مگر یہ تو شاید بی جے پی کی عادت ہے۔ وہ جب اپوزیشن میں ہو تو پاکستان کے تعلق سے جارحانہ موقف رکھتی ہے اور اقتدار ملتے ہی ایسے معاملوں میں سب ہیکڑی کافور ہوجاتی ہے۔ اٹل بہاری واجپائی کے دور میں بھی اتفاق سے نواز شریف ہی برسراقتدار تھے اور وزیراعظم ہند نے باہمی تعلقات میں نیا آغاز کرتے ہوئے لاہور تک بس سفر کیا تھا۔ اس کے باوجود حقیقی معنوں میں تب بھی ہند۔ پاک تعلقات دوستانہ نہیں ہوئے اور کلیدی مسئلہ کشمیر پر کچھ پیشرفت نہ ہوئی، اور نا ہی آج مودی حکومت میں ایسا کچھ ہوا ہے بلکہ حلف برداری تقریب میں نواز شریف کو مدعو کرنے کے ڈرامہ کے سوا دونوں ملکوں کے درمیان تین سال میں شاید ہی کچھ اچھا ہوا ہے۔ گزشتہ تین سال میں کشمیر جل کر برسہابرس پیچھا چلا گیا ہے، سرحدوں پر کشیدگی کسی طور کم نہیں ہورہی ہے، آئے دن دونوں طرف کی حکومتیں ایک دوسرے کے اعلیٰ سفارت کاروں کو طلب کرکے سرحدی کشیدگی کیلئے ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتی ہیں، ان حالات میں عوام سے عوام روابط کا تسلسل بھی متاثر ہورہا ہے۔
مجموعی طور پر ایسے باہمی حالات میں جہاں نواز شریف کو اقتدار سے ہٹاکر حاشیہ پر ڈالنے کا اندیشہ بڑھ رہا ہے، وہیں دہلی میں سنجیدگی سے جائزہ لیا جارہا اور قیاس آرائیاں بھی زوں پر ہیں کہ ہند۔پاک تعلقات کس قدر ابتر ہوسکتے ہیں۔ بڑی فکرمندی بگڑتے روابط کا کشمیر پر اثر ہے۔ پالیسی سازوں کیلئے کشمیر میں جاری شورش و ہنگامہ بھی پریشان کن ہے۔ گزشتہ برسوں کی مثبت باتیں جن سے شورش پسند وادی میں قابل لحاظ حد تک امن و سکون لانے میں کامیابی ملی تھی وہ ظاہر طور پر ہوا ہوگئی ہیں۔ امرناتھ یاتریوں پر لشکرطیبہ کے مشتبہ ارکان کے حالیہ حملہ سے سرحدپار اُن کے آقاؤں کے ملوث ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ نئی دہلی میں یہی احساس ہے کہ کشمیر کو عسکریت پسندوں کی جانب سے مزید شکار بنایا جائے گا کیونکہ پاکستان میں سیاسی ہلچل سیویلین قیادت مزید گھٹ جانے کا موجب بنتی ہے۔

اگلے چند یوم کلیدی ہیں جبکہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے نواز شریف اور اُن کے فیملی ممبرز کے ’پناماگیٹ‘ کرپشن اسکینڈل میں ملوث ہونے کے بارے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر اپنی رولنگ ایک دو ہفتے کیلئے محفوظ کردی ہے۔ فاضل عدالت کی یہ رولنگ ہوسکتی ہے کہ نواز شریف کو مستعفی ہونا پڑے گا یا حتیٰ کہ اُن کے انتخابات لڑنے پر پابندی عائد کرسکتی ہے۔ یہ ہدایت بھی دے سکتی ہے کہ پی ایم کے خلاف الزامات کی مزید تحقیقات کی جائیں۔ جو کچھ بھی ہو، پاکستان میں سیویلین قیادت کا دائرہ جو ہمیشہ ہی اس کے طاقتور ملٹری انتظامیہ سے خطرے میں رہا ہے، مزید تنگ ہوسکتا ہے۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، ساؤتھ بلاک (نئی دہلی) کے عہدیداروں کا احساس ہے کہ پڑوس میں بڑھتا ملٹری کنٹرول پاکستان کی کشمیر پالیسی میں مزید کرختگی لانے کا اندیشہ ہے۔ پاکستان جس نے کشمیر پر اپنی دعوے داری کبھی نہیں چھوڑی اور بدستور جموں و کشمیر ریاست کے حصے پر قابض ہے، وہاں کی صورتحال سے نمٹنے میں ہندوستان کے طریقہ کار کے خلاف اپنی مہم میں شدت پیدا کردی ہے اور شہری احتجاجیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے تعلق سے اپنا پرانا گھسا پیٹا راگ الاپے جارہا ہے۔ مگر اس نے اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی حوصلہ افزائی نہیں روکی ہے کہ وادی اور دیگر جگہوں پر تباہی مچائیں۔ امرناتھ یاتریوں پر حملہ درشت یاددہانی ہے کہ کشمیریوں کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کا عمل اور ساتھ ہی ساتھ بقیہ ہندوستان تک اس کا پھیلاؤ چل رہا ہے۔
ان میں سے بہت سارے منصوبوں کو ملٹری انتظامیہ اور آئی ایس آئی (انٹر سرویسیس انٹلیجنس) دہشت گرد گروپوں کے ذریعے انجام دے سکتے ہیں، اور وہ کمزور سیویلین قیادت کو ایسے نقصان دہ اقدام کی توثیق پر مجبور کرسکتے ہیں۔ پریشانیوں میں گھرے نواز شریف جن کو کرپشن کے الزامات پر اپنے حریفوں کی زور پکڑتی مہم کا سامنا ہے اور جن پر آرمی کا بھی مستقل دباؤ ہے، قدیم پاکستانی سیاسی چال کو آزما سکتے ہیں یعنی کشمیر پر بات کرتے ہوئے اپنی گھٹتی سیاسی قدر کو تقویت پہنچائی جائے۔
ہندوستان چونکہ کشمیر کے اُبھرتے منظر کو کسی سیاسی حل تلاش کرنے کی بجائے سکیورٹی پر زیادہ زور دیتے ہوئے دیکھنے کی کوشش کررہا ہے، اس لئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا احیاء ہونے کے امکانات لگ بھگ صفر ہیں۔
پاکستان میں جلد ہی انتخابی ماحول آنے والا ہے؛ ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے آخری متبادل رہے گا۔ اسی طرح مودی حکومت کا پاکستان پر دباؤ کہ اسے ہندوستان کے ساتھ بات چیت کیلئے دہشت گردی کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر ترک کرنا ہوگا، شاید بی جے پی کیلئے انتخابات میں کام کرگیا ہے۔ جیسا کہ خود ہندوستان بھی سلسلہ وار اسمبلی انتخابات اور پھر 2019ء میں پارلیمانی الیکشن کی تیاری کررہا ہے، اس لئے دونوں پڑوسیوں کیلئے دیرینہ مسائل کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے کے موقع کی گنجائش مستقل قریب میں پیدا ہونا خارج از امکان ہے۔
پاکستان میں مجموعی طور پر نواز شریف جتنی سیاسی قوت کسی کی نہیں؛ پناما اسکینڈل کی میں اگر سپریم کورٹ نے اُن کے خلاف رولنگ دی اور نواز شریف کو اپنا منصب چھوڑنا پڑے تو فوری طور پر وہاں سیاسی جانشین چاہے کوئی بنے، پھر ایک بارے ملٹری اثر و رسوخ مزید بڑھ جانے کا قوی اندیشہ ہے۔ یہی اندیشہ حکومت ہند کی فکرمندی ہے کیونکہ ابھی نواز شریف کے اقتدار پر رہتے ہوئے کشمیر گزشتہ ایک سال سے جل رہا ہے تو جانے بعد کو اور کیا بدترین حالات پیش آئیں گے۔

تاہم، یہ بات پھر ثابت ہوگئی کہ جیسی نیت ویسا نتیجہ! مودی حکومت نے کشمیر میں مفتی محمد سعید (مرحوم) کو اقتدار کا لالچ دیتے ہوئے محض جموں میں بی جے پی کو حاصل حمایت کے بل بوتے پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ساتھ ناپاک مخلوط حکومت بنائی۔ مگر حقیقی معنوں میں تین سال میں ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی کہ کشمیر کے سلگتے مسائل حل ہوجائیں۔ وہاں بے روزگاری عروج پر پہنچ گئی ہے، کئی مقامی نوجوان عسکری گروپوں کا حصہ بن رہے ہیں (چند سال قبل تک ایسا رجحان نہیں تھا) ، یکایک تین سال میں وادی میں تشدد بڑھ جانے سے روایتی سیاحتی کاروبار ٹھپ ہورہا ہے۔ جموں و کشمیر ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست ہے جہاں مسلمانوں کا ارتکاز وادیٔ کشمیر میں ہے۔ وہاں کے حالات دِگرگوں ہونے کی اِس سے بڑھ کر کیا مثال ہوسکتی ہے دارالحکومت سرینگر کی مشہور جامع مسجد میں لگاتار پانچ ہفتوں سے نماز جمعہ ادا نہیں کی جاسکی ، کیونکہ ہر جمعہ کو حکام گڑبڑ کے اندیشے سے سخت تحدیدات عائد کرتے ہوئے عملاً کرفیو لاگو کررہے ہیں!

TOPPOPULARRECENT