Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / نواز شریف کی لندن سے پاکستان آمد ، آج عدالت میں حاضری

نواز شریف کی لندن سے پاکستان آمد ، آج عدالت میں حاضری

l فرزندوں حسن ، حسین ، دختر مریم اور داماد صفدر کے نام سمن جاری
l وزیر مالیات اسحق ڈار معاملہ کی سماعت کے بعد آئندہ تاریخ 27 ستمبر مقرر
l سینئر پارٹی قائدین سے مشاورت کے بعد پاکستان واپس لوٹنے کا فیصلہ

اسلام آباد ۔ 25 ۔ ستمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : پاکستان کے معزول وزیراعظم نواز شریف آج برطانیہ سے پاکستان واپس آگئے جہاں وہ پناما پیپرس اسکنڈل کے تحت ان پر عائد بدعنوانیوں کے الزامات کا سامنا کریں گے ۔ نواز شریف گزشتہ کچھ عرصہ سے لندن میں مقیم تھے جہاں ان کی اہلیہ گلے کے کینسر کے لیے زیر علاج تھیں ۔ سینئیر پارٹی قائدین کے ساتھ 67 سالہ نواز شریف نے طویل مشاورت کے بعد جن میں ان کے چھوٹے بھائی اور صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز بھی شامل ہیں ، پاکستان واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا ۔ پارٹی عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ جس طیارہ میں نواز شریف سوار تھے وہ صبح 7-30 بجے لینڈ ہوا ۔ طیارہ سے باہر آتے ہی پر اعتماد نظر آنے والے نواز شریف نے اپنے حامیوں کی جانب ہاتھ لہرایا ۔ بعد ازاں موصوف تمام سرکاری پروٹوکول کے ساتھ وہاں سے روانہ ہوئے ۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے عہدیداروں نے بتایا کہ موصوف اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں قیام کریں گے اور آج اور کل پارٹی قائدین کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے اور اگر ضرورت پڑی تو اجلاس بھی طلب کیا جائے گا ۔ 26 ستمبر کو موصوف احتسابی عدالت کے روبرو پیش ہوں گے ۔ جہاں ان پر عائد بدعنوانیوں کے تین الزامات کا موصوف دفاع کریں گے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ 28 جولائی کو پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو نا اہل قرار دئیے جانے کے بعد انہوں نے وزیراعظم کے عہدہ سے استعفیٰ دیدیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ان کے اور ان کے ارکان خاندان کے خلاف بدعنوانیوں کے معاملات درج کئے جائیں ۔ قومی احتسابی بیورو (NAB) نے نواز شریف ان کے بیٹوں حسن اور حسین ، بیٹی مریم اور داماد صفدر کے خلاف بدعنوانیوں کے تین معاملات درج کئے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ بدعنوانیوں کے معاملات وزیر مالیات اسحق ڈار کے خلاف بھی اسلام آباد اور راولپنڈی کی عدالتوں میں درج کئے گئے ہیں ۔ اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ گذشتہ ہفتہ نواز شریف اور ان کے ارکان خاندان کی املاک کو بھی ضبط کرلیا گیا ہے تاکہ عدالت میں حاضر ہونے کے لیے ان پر دباؤ بنایا جاسکے ۔ قبل ازیں نواز شریف عدالت میں حاضر نہیں ہوئے تھے جب کہ ان کے ارکان خاندان نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ نواز شریف پر جو بھی الزامات عائد کئے گئے ہیں ان کے پس پشت سیاسی محرکات کارفرما ہیں ۔ دوسری طرف مریم نواز نے کہا کہ ان کے والد پاکستانی عوام کی خاطر بدعنوانیوں کے الزامات کا سامنا کرنے پاکستان واپس آرہے ہیں ۔ اپنے ایک ٹوئیٹ میں مریم نے کہا کہ نواز شریف کو اپنی نہیں بلکہ 200 ملین پاکستانی عوام کی فکر ہے جو انہیں پاکستان کھینچ لائی ۔ گذشتہ ہفتہ ہی نواز شریف لندن گئے تھے تاکہ کینسر کے عارضہ سے متاثرہ ان کی اہلیہ کلثوم کی عیادت کرسکیں جن کے یکے بعد دیگرے تین آپریشن ہوئے ہیں ۔ کلثوم نواز نے لاہور کی این اے 120 نشست کے لیے انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا تھا جو دراصل نواز شریف کو نا اہل قرار دئیے جانے کے بعد مخلوعہ تھی ۔ کلثوم نواز کو انتخابات میں کامیابی حاصل ہوئی اب جب کہ نواز شریف کل عدالت میں حاضر ہونے کی تیاریاں کررہے ہیں وہیں ان کے تمام بچے ہنوز لندن میں ہی ہیں ۔ حالانکہ عدالت نے حسن ، حسین ، مریم اور صفدر کو بھی عدالت میں حاضر ہونے کے سمن جاری کئے ہیں لیکن یہ بات قطعی طور پر معلوم نہیں ہوسکی کہ یہ لوگ کل عدالت میں حاضر ہوں گے یا نہیں ۔ دریں اثناء لندن سے ہی واپس آنے والے وزیر مالیات اسحق ڈار نے آج عدالت میں حاضری دی ۔ ڈار کے وکیل نے عدالت میں بیس لاکھ روپیوں کا مچلکہ داخل کیا تھا تاکہ ڈار کو گرفتار نہ کیا جاسکے ۔ عدالت نے مختصر سماعت کے بعد ڈار کے معاملہ کی آئندہ سماعت 27 ستمبر مقرر کی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT