Tuesday , September 26 2017
Home / اداریہ / نواز شریف کے خلاف الزامات

نواز شریف کے خلاف الزامات

اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندِ قبا دیکھ
نواز شریف کے خلاف الزامات
پاکستان میں برسر اقتدار ’شریف ‘خاندان کے خلاف رشوت کے جو الزامات عائد ہو رہے ہیں اور جس طرح سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے ان کے خاندان کی آمدنی میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اس کے بعد سے ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اپنے اقتدار کو بچانے دوسری جدوجہد کا شکار ہو رہے ہیں۔ حالانکہ ابھی نواز شریف کے خلاف صرف الزامات ہیں اور ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے لیکن حالات ان کیلئے مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ انہیں حالات کی سنگینی کا اندازہ بھی ایسا لگتا ہے کہ ہونے لگا ہے اور اسی وجہ سے وہ اپنے بچاؤ کیلئے ہر طرح سے ہاتھ پیر مارنے میں جٹ گئے ہیں۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے نواز شریف اور ان کے دوسرے افراد خاندان کے خلاف رشوت کے مقدمات درج کرنے کی حمایت کی ہے ۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور ان کے فرزندان حسن نواز اور حسین نواز کے علاوہ ان کی دختر مریم نواز کے خلاف بھی رشوت کے مقدمات درج کئے جانے چاہئیں۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں جو 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ہے اس خاندان کی آمدنی کے تعلق سے شبہات کا اظہار کیا تھا ۔ اس رپورٹ کی پیشکشی کے بعد سے نواز شریف کے خلاف مہم تیز ہوگئی ہے ۔ مختلف گوشوں سے اور خاص طور پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ان کے استعفے کے مطالبات میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ اقتدار کا بیجا استعمال کرتے ہوئے اس خاندان نے کئی معاملتوں میں رشوت حاصل کی ہے اور یہ رقم بھی بہت زیادہ ہے ۔ گذشتہ مہینوں میں پاکستان کی عدالت میں نواز شریف کے خلاف مقدمات چل رہے تھے اور وہ ایک موقع پر بال بال بچے ہیں جب عدالت نے انہیں استعفی دینے کی ہدایت دینے سے گریز کیا تھا ۔تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے وہ تحقیقات کو غیر جانبدار رہنے کا موقع نہیں دے سکتے ۔ اس کے علاوہ ملک کے اعلی ترین عہدہ پر فائز رہتے ہوئے اس طرح کے الزامات کا سامنا کرنا بھی اخلاقی اعتبار سے درست نہیں کہا جاسکتا اور جو گوشے ان سے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ اخلاقی بنیادوں پر درست ہیں۔
نواز شریف بھی ایسا لگتا ہے کہ اپنے عہدہ کے وقار کا خیال کئے بغیر اس صورتحال سے نمٹنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ انہوں نے آج اپنی کابینہ کا ایک اجلاس منعقد کیا اور اعلان کردیا کہ وہ مستعفی نہیں ہونگے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے عوام نے انہیں وزارت عظمی کیلئے منتخب کیا ہے اور ملک کے عوام ہی انہیں اقتدار سے بیدخل کرسکتے ہیں۔ تاہم نواز شریف کو یہ بھی وضاحت کرنی چاہئے تھی کہ انہوں نے خود بھی عوامی اور سیاسی زندگی میں قانون او ر دستور کی پاسداری کا حلف لیا تھا اور اس حلف کو پورا کرنا ان کی ذمہ داری ہے ۔ ملک میں قانونی اور دستوری اداروں کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ جو لوگ قانون اور دستور کی خلاف ورزی کریں ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ اس حقیقت کو شائد نواز شریف فراموش کرچکے ہیں۔ وہ صرف اپنا عہدہ اور کرسی بچانے کی فکر میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار نظر آتے ہیں۔ جو رپورٹ نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے پیش کی ہے اس میں اہمیت کا حامل نکتہ یہ ہے کہ ان کے خلاف قومی احتساب بیورو کے قوانین کے مطابق مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ اگر اس کے تحت مقدمہ درج ہوتا ہے تو یہ نواز شریف کی اخلاقی شکست ہوسکتی ہے اور اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہ ساری صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں۔اپوزیشن اور خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے انہیں مسلسل نشانہ بنائے جانے کے اندیشے بھی لگے رہتے ہیں اور احتساب بیورو قوانین کے تحت کارروائی کی صورت میں عمران خان کی پارٹی کو نیا ہتھیار ہاتھ لگ سکتا ہے ۔
نہ صرف تحریک انصاف بلکہ ساری اپوزیشن جماعتوں نے ان سے مستعفی ہوجانے اور تحقیقات کی تکمیل تک دور رہنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ تاہم یہ امید فضول ہی تھی کہ وہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے مستعفی ہونگے اور انہوں نے اب واضح طور پر اس سے انکار بھی کردیا ہے ۔ وہ تو تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں اور اس ٹیم کی جانب سے استعمال کردہ زبان پر تنقید کر رہے ہیں ۔ نواز شریف اپنے بچاؤ کیلئے ٹیم کے لب و لہجہ پر تنقید کرسکتے ہیں لیکن انہیں اس کے مواد اور الزامات کے تعلق سے جواب دینا چاہئے اور رشوت سے پاک حکمرانی اور عہدہ کے وقار کو بحال کرنے انہیں تحقیقات میں تعاون کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایسا کرنا ان کی ذمہ داری اور دستوری فریضہ بھی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT