Friday , April 28 2017
Home / ہندوستان / نواز شریف ۔ مودی دعوت سے فوج کے حوصلے پست نہیں ہوئے ؟

نواز شریف ۔ مودی دعوت سے فوج کے حوصلے پست نہیں ہوئے ؟

ڈھائی سال میں 188 جوان دہشت گرد حملوں میں ہلاک ۔ کانگریس کا بی جے پی پر جوابی وار
نئی دہلی 17 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج بی جے پی پر جوابی تنقید کی اور سوال کیا کہ آیا جب گذشتہ 30 ماہ کے دوران دہشت گردوں میں 188 افراد ہلاک ہوئے اس وقت ہندوستانی جوانوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور آیا جس وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی دعوت میں شرکت کی اس وقت جوانوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے ؟ ۔ بی جے پی نے قبل ازیں کانگریس پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ علیحدگی پسندوں کی زبان بول رہی ہے اور فوجی سربراہ کے ریمارکس پر سیاست کر رہی ہے جس کے نتیجہ میں جوانوں کے حوصلے پست ہوسکتے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان اعلی رندیپ سرجیوالا نے اپنے مسلسل ٹوئیٹس میں سوال کیا کہ یہ بتایا جائے کہ جس وقت 188 جوان دہشت گرد حملوں میں 30 ماہ کے دوران ہلاک ہوگئے اس وقت فوجیوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے جبکہ اس وقت وزیر اعظم پاکستان کو قابو میں کرنے میں ناکام رہے ۔ انہوں نے ممید ٹوئیٹ کیا کہ یہ جواب دیا جائے کہ جس وقت وزیر اعظم مودی نے پاکستانی نواز شریف کے ساتھ دعوت میں شرکت کی اس وقت ہمارے جوانوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے ۔ یہ دعوت ایسے وقت میں ہوئی تھی جس وقت ہمارے جوان شہید ہو رہے تھے ۔

انہوں نے دفتر وزیر اعظم کے منسٹر آف اسٹیٹ جتیندر سنگھ سے بھی سوال کیا کہ آیا اس وقت ہمارے جوانوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے جب نریندر مودی نے آئی ایس آئی کو پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملہ کی تحقیقات کیلئے مدعو کیا تھا ؟ ۔ انہوں نے یہ بھی ٹوئیٹ کیا کہ یہ بھی بتایا جائے کہ آیا اس وقت ہمارے جوانوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے جب مدھیہ پردیش بی جے پی کے ارکان آئی ایس آئی کیلئے کام کرتے ہوئے پکڑے گئے اور وہ فوج کی جاسوسی کا ریاکٹ چلا رہے تھے ؟ ۔ قبل ازیں فوجی سربراہ کے اس ریمارک پر کہ جو لوگ جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کا ساتھ دے رہے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کانگریس لیڈر جیوتر آدتیہ سندھیا نے کہا کہ سکیوریٹی فورسیس کو ریاست کے عوام سے نمٹتے ہوئے صبر و تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔ سندھیا نے کہا کہ ملک کی داخلی سلامتی کا مسئلہ سنگین ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن جیسا انہوں نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ معصوم افراد پر مظالم نہیں ڈھائے جانے چاہئے ۔ جو لوگ غلط کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے لیکن اس میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی بینائی متاثر ہوگئی ہے اور ان پر مظالم ڈھائے گئے ہیں جب ریاست میں احتجاج کیا جا رہا تھا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT