Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / نوبتِ طلاق

نوبتِ طلاق

شمیم علیم

حامد حسین کی نوکری لگتے ہی اماں نے شادی کا اصرار شروع کردیا ۔ حامد بار بار منع کرتے کہ اماں ابھی تو نوکری لگی ہے ۔ میں تو ابھی سنبھلا بھی نہیں ہوں۔ ذرا تو دم لینے دو۔ مگر اماں کا فیصلہ پتھر کی لکیر۔ تو دوسرے شہر میں گیا ہے تو نہ کوئی عزیز نہ دوست ، کھانے پینے کی تکلیف الگ۔ شادی ہوجائے گی تو تیری زندگی میں خوشی آجائے گی ، اور پھر کچھ دنوں بعد انہوں نے دوسرا بم چھوڑدیا۔ میں نے تیرے لئے لڑکی پسند کرلی ہے۔ بس جھٹ منگنی پٹ بیاہ ۔ حامد نے حیران ہوکر کہا ’’اماں شادی میری اور لڑکی آپ کی  پسند کی ‘‘۔ اماں نے پیار سے کہا ، ہمارے خاندان میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔ مجھے بھی تو تیری دادی نے پسند کیا تھا ۔ اس لڑ کی کو تو دیکھ بھی چکا ہے۔ حامد نے بے تاب ہوکر پوچھا اماں بتاؤ تو وہ تمہاری بہو ہے کون۔ اماں نے اطمینان کا سانس لیا۔ ارے وہ میری عزیز دوست نسرین کی بیٹی ہے ۔ بی اے پاس ہے ۔ صورت شکل کی اچھی ہے ۔ اچھا خاندان ہے ، نہ کوئی آگے نہ پیچھے ۔ اکلوتی بیٹی ہے اور تو  نے بھی تو نوشین کو کئی بار دیکھا ہے ۔ اماں میں نے نوشین کو کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا۔ اب شادی ہونے والی ہے، کم از کم اس سے بات چیت تو کروں۔ دیکھوںکہ وہ ہم مذاق ہے کہ نہیں۔ ایسے کسی کے ساتھ زندگی تھوڑی گزاری جاسکتی ہے ۔ اماں نے ذرا بیزار  ہوکر کہا ، بس رہنے دے تیری منطق۔ بیٹا ایک دو بار ملنے سے کچھ نہیں معلوم ہوتا ۔ ہماری نانی کہتی تھیں آدمی میں بس کے دیکھو سونے کو گھس کے دیکھو تو اب بسنے کا موقع تو شادی سے پہلے نہیں ملتا۔ بس اللہ پر چھوڑدو ۔ جوڑے تو وہی بناتا ہے ۔ تیرا جوڑابھی اچھا ہی بنایا ہوگا۔
حامد ذہنی کشمکش میں مبتلا تھا لیکن اماں نے تاریخ بھی مقرر کردی اور شادی بھی کردی ۔ نوشین صورت شکل کی اچھی تھی ۔ سلیقہ مند تھی ۔ ملنسار بھی تھی لیکن اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے اماں باوا نے ان کا دماغ خراب کردیا تھا ۔ وہ چاہتی تھی کہ ہر چیز اس کی مرضی سے ہو۔ اگر اس کی مرضی کے خلاف ہو تو چیخنا چلانا شروع کردیتی۔ شروع شروع میں تو کچھ دن خیریت سے گزرگئے۔ پھر چھوٹی چھوٹی باتوں پر دونوں میں ان بن ہونے لگی ۔ حامد بھی لاڈلا بیٹا تھا ۔کمرہ میں ہمیشہ چیزیں پھیلی رہتیں۔ آتے ہی جوتے ایک طرف موزے دوسری طرف پھیکتا۔ کبھی کوئی چیز جگہ پر نہ رہتی ۔ اس کے برخلاف نوشین بہت ہی سلیقہ مند تھی ۔ گھر کو بہت صاف ستھرہ رکھتی ، بالکل میوزیم کی طرح ۔
حامد کے دوست بہت تھے ۔ آفس کے بعد وہ اکثر دوستوں کے ساتھ چلا جاتا اور رات دیر سے آتا۔ نوشین انتظار کرتی رہتی اور کھانا بھی ن ہیں کھاتی۔ لہذا آنے میں جنگ شروع ہوجاتی ۔ حامد بھی کم نہیں تھا ۔ میں نے کب کہا کہ تم میرا انتظار کرو۔ تم کھانا کیوں نہیں کھالیتیں ۔ تمہاری خاطر کیا میں اپنے دوستوں کو چھوڑدوں۔
سال بھر کے اندر ہی اندر وہ اس روز روز کی لڑائی جھگڑے سے بیزار ہوگیا اور اس نے سوچا کیا فائدہ ا یسی زندگی سے جس میں سکون نہ ہو ۔ دل ہی دل میں اس نے طئے کرلیا کہ وہ نوشین کو طلاق دے دیگا ۔ ابھی وہ پلان بنا ہی رہا تھا کہ اماں نے اس نے خوشخبری سنادی کہ وہ باپ بننے والا ہے ۔ اسے خوشی بھی ہوتی اور پریشانی بھی ۔ جیسے اس کے پیر میں ایک اور زنجیر پڑتی ہو ۔ اب وہ نوشین کو اس حال میں طلاق کیسے دے !
ننھی ناہید آئی تو گھر میں خو شیاں آگئیں لیکن نوشین کے مزاج میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ دو سال بعد ننھا عیان بھی وارد ہوگیا ۔ دونوں بچوں کا کام گھر کا کام ، نوشین کا مزاج اور چڑچڑا ہوگیا ۔ وہ چاہتی تھی حامد بھی اس کے ساتھ کام کرے  لیکن حامد کو بالکل کام کی عادت نہ تھی ۔ اگر وہ کچھ کرنے کی کوشش کرتا تو کام الٹا سیدھا ہوجاتا اور نوشین کا موڈ اور خراب ہوجاتا۔ دن گزرتے گئے ۔ حامد کی ازدواجی زندگی میں کبھی سکون نہیں رہا۔ مگر اب اس نے طلاق کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیاتھا ۔ اگر اس نے اب طلاق دے دی تو بچوں پہ بہت بڑا اثر ہوگا ۔ انکا مستقبل تاریک ہوجائے گا ۔ بیٹی کی شادی میں روڈے اٹک جائیں گے ۔
دیکھتے دیکھتے پچیس سال گزرگئے ۔ ناہید اور عیان دونوں کی شادیاں ہوگئیں۔ گھر سونا سونا ہوگیا ۔ حامد وظیفہ پرچلے گئے ۔ اب وہ دن بھر گھر میں رہتے زندگی اور اجیرن لگنے لگی۔ دونوں میں دوری اور بڑھتی گئی ۔ حامد نے سوچا میں کب تک اس طرح مرتے مرتے جیوں۔ میں اب ایک نئی زندگی شروع کروں گا ۔ آخر انہوں نے فیصلہ کر ہی لیا کہ وہ نوشین کو طلاق دے دیں گے ۔ انہوں نے ایک وکیل سے مشورہ کیا ۔ ان کا مہر پچاس ہزار تھا لیکن وہ سوچنے لگے پچاس ہزار میں نوشین کا گزارا کیسے ہوگا ۔ وہ طلاق کے بعد کہاں جائے گی ۔ اماں باوا تو کب کے گزر گئے ۔ بیٹی کے گھر جاکر وہ رہ نہیں سکتی ۔ بیٹے کی ابھی ابھی شادی ہوئی ہے ۔ وہ کیسے کباب میں ہڈی بن سکتی ہے اور پھر آج کل کے زمانہ میں بہو ساس کے ساتھ رہنا بھی پسند نہیں کرتی ۔ ساری عمر جس نے ا پنے گھر میں حکمرانی کی ہو وہ کیسے دوسرے کے گھر جاکر رہ سکتا ہے ؟
ان کو اپنی بیوی پر رحم آگیا ۔ انہوں نے سوچا اس گھر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ اسے دے دوں ۔ گھر میں تین بیڈروم تھے ، ایک انکا، دو بچوں کے ، انہیں اپنی بیٹی سے بہت محبت تھی ۔ دن میں کئی بار اس کے کمرے میں جاتے ، اس کی چیزوں کو الٹ پلٹ کرتے ۔ کبھی پران باتوں کو یاد کر کے مسکراتے ۔ کبھی آنکھوں میں آنسو آجاتے ۔ انہوں نے سوچا یہ کمرہ تو میں کسی بھی حال میں نوشین کو نہیں دے سکتا ۔ ہاں بیٹے والا کمرہ اسے دے دوں گا۔ اس کے لئے بس ایک کمرہ کافی ہے ۔ پھر انہیں کچن کا خیال آیا ۔ اس کا کیا ہوگا ۔ حامد حسین نے تو کبھی ایک پیالی چائے بھی نہیں بنائی تھی ۔ وہ کچن لیکر کیا کریں گے۔ کچن بھی وہ نوشین کو دے دیں گے ۔ کھانا تو انہیں باہر سے ہی منگانا ہوگا۔
حامد حسین نے طلاق کے کاغذات تیار کرلئے ۔ انہوں نے سوچا ناشتہ کے بعد نوشین کو بتا دوں گا۔ رات وہ بہت سکون سے سوگئے ، صبح سیر سے واپس آئے تو حسب معمول ناشتہ میز پر نہیں رکھا تھا ۔ شاید نوشین ابھی تک نہیں اٹھی تھی ۔ مگر وہ تو ہمیشہ صبح سویرے ہی اٹھ جاتی ہے ۔ انہوں نے کمرہ میں جاکر لحاف اس کے منہ پر سے کھینچا۔ نوشین کا سر ایک طرف لٹک گیا ۔ حامد حسین کا سر چکرا گیا ۔ وہ نوشین سے چھٹکارہ پانا چاہتے تھے لیکن خود اس نے انہیں چھوڑدیا ۔ انہوں نے طلاق کے کاغذ پھاڑ کر نذر آتش کردیئے ۔ کیا اب وہ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکیں گے ۔ وہ آنسو گر کر ان کی داڑھی میں جذب ہوگئے۔

TOPPOPULARRECENT