Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / نوجوانوں پر ’دولت اسلامیہ‘ کے اثرات

نوجوانوں پر ’دولت اسلامیہ‘ کے اثرات

سوشل میڈیا کے مضمرات کا جائزہ ، راجناتھ سنگھ کا اعلیٰ عہدیداران کیساتھ اجلاس
نئی دہلی، 16 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی انٹلیجنس اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدیداران اور 13 ریاستوں کے پولیس سربراہان نے آج مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے باعث نوجوانوں پر آئی ایس آئی ایس کے بڑھتے اثرات پر قابو پانے کے سلسلے میں اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ راج ناتھ نے بتایاکہ بعض ہندوستانی نوجوانوں کے آئی ایس (دولت اسلامیہ) سے متاثر ہونے اور موجودہ چیلنجس سے نمٹنے کے بارے میں دن بھر طویل اجلاس میں غوروخوض کیا گیا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ مختلف موضوعات زیربحث آئے جن میں سوشل میڈیا کا بیجا استعمال، نوجوانوں کو رغبت دلانے کے وسائل اور ہندوستان کے پڑوس میں آئی ایس کے بڑھتے اثر و رسوخ کے علاوہ ممکنہ طور پر قانون کا مؤثر نفاذ شامل ہیں۔ اقلیتی بہبودی اسکیموں کو زیادہ مؤثر بنانے، سوشل میڈیا کیلئے موثر لائحہ عمل اور بالخصوص اسٹیٹ پولیس کو موجودہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے دور میں مزید مؤثر بنانے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہندوستانی روایات اور خاندانی اقدامات ہمیں اس برائی کے خلاف کامیابی سے ہمکنار کریں گے۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں داعش کے اثرات بالکل کم و محدود ہیں چنانچہ تمام محاذوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس معاملے میں کسی طرح کی لاپرواہی نہیں برتی جاسکتی۔ راج ناتھ نے کہا کہ عوام کی کثیر تعداد اور ہندوستان میں اکثر مسلم تنظیموں نے آئی ایس اور دہشت گردی کی مختلف شکلوں کی مذمت کی۔ 13 ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کے جن نمائندوں نے شرکت کی، اُن میں اُترپردیش، کیرالا، جموں و کشمیر، آندھرا پردیش، تلنگانہ، بہار، ٹاملناڈو، مغربی بنگال، آسام، کرناٹک، مدھیہ پردیش، دہلی اور مہاراشٹرا شامل ہیں۔ انٹلیجنس ایجنسیوں کے مطابق اب تک 23 ہندوستانیوں نے آئی ایس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ان میں مختلف واقعات میں 6 ہلاک ہوگئے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ تقریباً 150 ہندوستانیوں پر آئی ایس سے ان کے مبینہ آن لائن روابط کی بناء نظر رکھی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT