Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / نوجوانوں کو روزگار دینے کی بجائے فرزند کو وزارت دیدی

نوجوانوں کو روزگار دینے کی بجائے فرزند کو وزارت دیدی

چندرابابو نائیڈو پر ڈگ وجئے سنگھ کی تنقید ۔ کابینہ میں اقلیتوں کو نمائندگی نہ دینے کی مذمت
حیدرآباد ۔ 10اپریل ( سیاست نیوز) کل ہند کانگریس جنرل سکریٹری مسٹر ڈگ وجئے سنگھ نے صدر وائی ایس آر کانگریس جگن موہن ریڈی کو ’ معاشی مجرم ‘ کہنے والے این چندرا بابو نائیڈو سے دریافت کیا کہ آیا ’ آپ پارسا ‘ ہیں ‘ ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہیکہ جگن اور نائیڈو دونوں ایک ہی ترازو کے پڑلے ہیں ۔انہوں نے چندرا بابو نائیڈو پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ریاست کی راجدھانی کیلئے درکار اراضی سے 30 گنا اضافہ اراضیات حاصل کئے اور ٹنڈرس کی طلبی کے بغیر بیرون ممالک کی کمپنیوں کو اراضیات حوالے کررہے ہیں جن میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو کرپٹ سرگرمیوں سے دامن نہیں بچا پاسکیں گے ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو مخالف دلت و کسان ذہن رکھتے ہیں جبکہ انتخابات کے موقع پر نائیڈو نے کئی وعدے کئے جن میں نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی اور بیروزگاری کا بھتہ دینے کا اعلان کیا تھا اور کوئی ایک وعدہ یا تیقن پورا نہیں کیا لیکن عقبی دروازے سے اپنے فرزند لوکیش کو ملازمت ( کابینی وزیر کا عہدہ ) فراہم کردی ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف کیسوں میں ماخوذجگن موہن ریڈی ‘ وزیراعظم مودی اور آندھرا پردیش حکومت کے ساتھ جدوجہد کر نہیں پارہے ہیں ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے آندھراپردیش کانگریس کے دو روزہ اجلاس میں ہوئے مباحث میں سکریٹری اے آئی سی سی مسز کونیتا کے ساتھ حصہ لیا تھا ۔ اجلاس میں آئندہ پارٹی کے پروگراموں سے متعلق جامع لائحہ عمل کو مرتب کیا گیا ۔ اجلاس کے اختتام پر ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو نے پہلے لوک پال بل کی حمایت کی تھی لیکن آج وہ آندھراپردیش میں لوک آیوکت کا تقرر نہیں کرسکے اور جب نریندر مودی چیف منسٹر گجرات تھے تب بھی گجرات میں لوک آیوکت کا تقرر نہیں کیا تھا کیونکہ وزیراعظم کو لوک پال اور لوک آیوکت کا کوئی احترام ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو نے اقلیتوں اور درج فہرست قبائل کو کابینہ میں نمائندگی نہ دے کر انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی کو کابینہ میں شامل کر کے قانون انحراف سے کھلواڑ کیا اور دیگر پارٹی ارکان اسمبلی کو وزارت میں شامل کرنا افسوسناک ہے ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے آندھراپردیش پارٹی قیادت میں تبدیلی سے متعلق سوال پر کہا کہ ریاست میں قیادت کی تبدیلی ضروری نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ سال 2019ء کے انتخابات میں کانگریس تنہا انتخابات میں حصہ لے گی اور اگر کوئی پارٹی کانگریس کی تائید کیلئے آگے آئے ‘تائید حاصل کرنے سے انکار نہیں کیا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT