Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / نوجوانوں کو طب یونانی کی تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ

نوجوانوں کو طب یونانی کی تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ

عابد علی خان آئی ہاسپٹل میں بمسیٹ کوچنگ کا افتتاح، ڈاکٹر پی محمد حسن احمد کا بیان
حیدرآباد 21 مئی (راست) نومنتخب ممبر سنٹرل کونسل فار انڈین میڈیسن دہلی ڈاکٹر پی محمد حسن احمد نے نوجوان، طلباء و طالبات کو مشورہ دیا کہ وہ طب یونانی کی تعلیم حاصل کریں اور نہ صرف اپنے خاندان کے افراد بلکہ عام و خاص کو علاج کے ذریعے صحت یاب بنائیں۔ ڈاکٹر محمد حسن احمد ادارہ سیاست کی جانب سے عابد علی خاں آئی ہاسپٹل میں بمسیٹ کی کوچنگ کا رسمی افتتاح کرنے کے بعد یہ بات کہی۔ انھوں نے کہاکہ صرف ڈگریاں حاصل کرنے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے اس کے بجائے پیشہ وارانہ کورس کرنے سے اپنی زندگی کو بھی بناسکتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ادارہ سیاست گزشتہ کئی برسوں سے مختلف کورسیس کی کوچنگ دے رہے جن میں بمسیٹ کی کوچنگ، ایم ڈی یونانی انٹرنس ٹسٹ کی کوچنگ بھی شامل ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ گزشتہ 15 برسوں میں ہزاروں لڑکے اور لڑکیاں ادارہ سیاست سے کوچنگ حاصل کرتے ہوئے یونانی کورس میں داخلہ لئے اور کئی طلباء و طالبات بی یو ایم ایس، ایم ڈی کامیاب کرتے ہوئے نہ صرف اپنے مطب چلارہے ہیں بلکہ سرکاری اور خانگی دواخانوں میں بھی کام کررہے ہیں۔ ڈاکٹر حسن احمد نے طلباء و طالبات کو مشورہ دیا کہ وہ ادارہ سیاست کے قابل اساتذہ کی خدمات سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ رینک حاصل کریں تاکہ انھیں گورنمنٹ نظامیہ طبی کالج اور العارف یونانی میڈیکل کالج میں بھی داخلہ مل سکے۔ ڈاکٹر حسن احمد نے طلباء و طالبات کو مشورہ دیا کہ آندھراپردیش میں ڈاکٹر عبدالحق یونانی میڈیکل کالج میں یونانی کورس میں داخلہ لینے کے لئے اُن کو آندھرا کا بمسیٹ ٹسٹ علیحدہ سے دینا ہوگا اور اس کی کونسلنگ میں حصہ لینا ہوگا کیوں کہ ڈاکٹر عبدالحق یونانی میڈیکل کالج کرنول میں بھی کچھ نشستیں مختص ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ طلباء اچھی محنت، لگن اور تعلیمی قابلیت کو اونچے معیار پر لے جائیں تاکہ دنیا میں سرخرو ہوسکیں۔ حکیم سید غوث الدین کوآرڈی نیٹر کورس نے مہمان خصوصی ڈاکٹر حسن احمد کا تعارف کروایا اور کہاکہ ڈاکٹر طب یونانی کے ایک خاموش خدمت گذار ہیں انھیں نام و نمود سے کوئی سروکار نہیں ہے وہ اپنا کام اور اپنے فن کی ترقی کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ اس موقع پر ماہر اساتذہ جناب اکبرالدین صدیقی، ڈاکٹر کلیم جلیلی، ڈاکٹر اکبرالدین بھی موجود تھے۔ آخر میں جناب خالد محی الدین اسد نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT