Monday , June 26 2017
Home / شہر کی خبریں / نوجوانوں کو مقدس شب برأت کی حرمت کو برقرار رکھنے کا مشورہ

نوجوانوں کو مقدس شب برأت کی حرمت کو برقرار رکھنے کا مشورہ

اوباش نوجوانوں سے اغیار بھی حیرت زدہ ، والدین اور سرپرست حضرات بچوں پر نظر رکھیں
حیدرآباد۔10مئی (سیاست نیوز) نوجوان نسل کو شب مقدس کے دوران سڑکوں پر آوارہ گردی سے روکنے کے لئے والدین اپنا کلیدی کردار ادا کریں تاکہ ان نوجوانوں کے سبب ماحول میں آنے والی خرابی کو دور کیا جاسکے۔ شب معراج النبی ؐ کے موقع پر نوجوانوں کی حرکات پر نہ صرف بزرگوں نے بلکہ اغیار نے بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ان حرکات کو ناقابل برداشت قرار دینا شروع کردیا ہے اور ان چند نوجوانوں کی حرکات کے سبب شب مقدس کی حرمت کو پامال ہونے سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ اوباش قسم کے نوجوانوں کی ان حرکات کو روکنے کے لئے ملت کے ذمہ دار حرکت میں آتے ہوئے ان نوجوانو ںمیں سدھار لانے کی کوشش کریں کیونکہ ان کی یہ حرکات شہر میں مقدس راتوں کے درمیان تیزی سے بڑھتی جا رہی ہیں۔ شب معراج النبی ؐ کے موقع پر چارمینار دواخانہ کے عقب سے مغلپورہ جانے والی سڑک پر نوجوانو ںکو گنے کی گاڑی سے گننے لیکر بھاگتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ ان کی یہ حرکت سوائے اپنی آوارہ گردی اور اوباشی کے ذریعہ ذہنی تسکین حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے کیونکہ گنا خرید کر کھانا ان نوجوانوں کے لئے کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن لوگوں کو تکلیف دیتے ہوئے تسکین حاصل کرنے والی یہ نسل نہ صرف عوام کیلئے تکلیف دہ ثابت ہورہی ہے بلکہ مستقبل قریب میں اس طرح کی حرکات کرنے والے یہ نوجوان اپنے والدین اور معاشرہ کے لئے بھی تکلیف کا سبب بن سکتے ہیں اسی لئے انہیں روکنے کی ذمہ داری خود والدین کو اپنے کندھوں پر لینی چاہئے کیونکہ ان کی ان حرکات کے سبب قوم مسلم کی بدنامی کے ساتھ شب مقدس میں اس طرح کے گناہ انہیں مزید گنہگار بنانے کا سبب بن سکتے ہیں۔علماء و اکابرین ملت اسلامیہ کی جانب سے مقدس راتوں کے دوران نوجوانوں کو اس طرح کی حرکات سے روکنے کیلئے متعدد مرتبہ اپیلیں شائع ہو رہی ہیں لیکن ان کی اپیل کا بھی نوجوانوں پر اثر نہ ہونے کے متعلق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جو نوجوانوں کا طبقہ ان حرکات میں ملوث ہے ان میں اکثریت جہلاء اور ناخواندہ نوجوانوں کی ہے جن تک اپیلیں پہنچتی ہی نہیں ہیں یا پھر وہ نوجوان مقدس راتوں کے دوران شب بیداری کے نام پر موٹر سیکل کی دوڑ لگاتے ہیں جن پر والدین کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا یا پھر وہ جو والدین کی سرپرستی سے محروم ہوتے ہیں ۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث نوجوانوں کے والدین میں بچوں کی تربیت کی صلاحیت نہیں ہوتی جس کے سبب وہ بچوں کو آورہ گردی کے لئے چھوڑ دیتے ہیں ۔ نبیرہ شیخ الاسلام مولانا سید شاہ اولیاء حسینی مرتضیٰ پاشاہ قادری نے کہا کہ نوجوانوں کو صحیح راہ دکھانے اور انہیں مقدس شب کے احترام کا طریقہ سیکھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ خود والدین اپنی اولاد کیلئے مثال بنیں اور انہیں مسجد لیجائیں اور شب مقدس کی مقدس عبادتوں کا اہتمام کریں تاکہ نوجوانوں کو اس بات کا احساس ہو کہ ان کے والدین کے دل میں بھی خوف خدا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اکثر والدین کی عبادتوں سے بے اعتنائی اور عدم دلچسپی کے سبب نوجوانوں میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اسے دور کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے اگر و ہ اپنی نسل کو راہ راست پر نہیں لاتے ہیں تو اس کے سنگین نتائج کا سب سے زیادہ سامنا خود ان کے والدین کو کرنا پڑے گا۔ شب برأت کے موقع پر بھی محکمہ پولیس کی جانب سے پرانے شہر کے کئی علاقوں میں بھاری پولیس بندوبست کے ساتھ ساتھ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب عمل میں لائی جا چکی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکا جا سکے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT