Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / نوجوانوں کے بال کٹوانے کے انداز پر والدین کی خاموشی افسوسناک

نوجوانوں کے بال کٹوانے کے انداز پر والدین کی خاموشی افسوسناک

بچوں کو کھلی چھوٹ پر مستقبل میں سنگین حالات ممکن، ایم ایل سی محمد فاروق حسین
حیدرآباد۔14مئی (سیاست نیوز) نوجوان نسل میں پیدا ہو رہے بگاڑ کو دور کرنے اور انہیں شریعت سے واقف کرواتے ہوئے معمولی غلطیوں کو بھی درست کرنے کی بنیادی طور پر کوشش کرنی چاہئے ۔ نوجوان جس انداز کے بال بنا رہے ہیں انہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی جانور کی نقل کر رہے ہیں جبکہ اس طرح کے بال بنانے اور رکھنے کی سخت ممانعت ہے اس کے باوجود والدین کی اس امر سے اختیار کی جانے والی غفلت نوجوانوں میں دیگر برائیوں کا سبب بن سکتی ہے۔ جناب محمد فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل نے نوجوانوں کے بال کٹوانے کے انداز پر والدین کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ والدین اور سرپرستوں کو چاہئے کہ وہ نوجوانوں کو ان معمولی برائیوں سے ہی روکنا شروع کریں تو ممکن ہے ان میں تبدیلی آئے اگر انہیں اس طرح کے بال کٹوانے اور من مانی کی آزادی فراہم کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں مستقبل میں سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جناب محمد فاروق حسین نے آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس اسوسیشن کے وفد سے ملاقات کے دوران ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ کے صدر مقام حیدرآباد میں نوجوانوں میں تیزی سے بگاڑ دیکھا جانے لگا ہے اور اس بگاڑ کو روکنے کے لئے بنیادی برائیوں اور چھوٹے چھوٹے ایسے اعمال سے نوجوانوں کو روکنا چاہئے جو بڑی برائیوں کی جانب لیجاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اساتذہ پر بھی اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ زمانۂ طالب علمی سے ہی طلبہ کی کونسلنگ کریں تاکہ انہیں اچھے اور برے کی تمیز کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ جناب محمد فاروق حسین نے بتایا کہ نوجوان فیشن کے دلدادہ ہوتے ہوئے ایسے غیر شرعی کاموں میں مبتلاء ہونے لگے ہیں جس کے سبب ان کے مستقبل کے متعلق فکر پیدا ہونے لگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو نوجوان مختلف طریقوں سے سر کے بال کٹوارہے ہیں انہیں روکا جانا چاہئے کیونکہ ایسا نہ کرنے کے سبب ان میں شرعی امور کے متعلق بے اعتنائی میں اضافہ ہوتا جا ئے گا۔ رکن قانون ساز کونسل نے کہا کہ ماہ رمضان کی آمد سے قبل ائمہ مساجد و خطیب حضرات کو بھی چاہئے کہ وہ ان نوجوانوں میں شریعت کے متعلق شعور اجاگر کریں اور انہیں اس بات سے واقف کروائیں کہ ان کا بال کٹوانے یا سر پر مختلف طریقہ سے بال رکھنے کا طریقہ شرعی احکام کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اس موقع پر جناب سید آصف ایڈوکیٹ‘ جناب محمد عبدالنعیم صدر اسکوپ فاؤنڈیشن‘ جناب محمد عفان قادری ‘جناب خالد صوفی‘ جناب سید عارف کے علاوہ آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس اسوسیشن کے ذمہ دار موجود تھے۔ جناب محمد فاروق حسین نے بتایا کہ ریاست کے دیگر اضلاع کے مسلم نوجوانوں میں یہ رجحان کافی کم ہے لیکن شہر حیدرآباد میں یہ رجحان تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے جسے روکا جانا ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT