Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / نوجوان ،لالچ کے بجائے محنت کی کمائی سے اپنی زندگی کو آراستہ کریں

نوجوان ،لالچ کے بجائے محنت کی کمائی سے اپنی زندگی کو آراستہ کریں

شادیوں میں خوف ِالٰہی اور نبیؐ کی ہدایات کو ملحوظ رکھنے کی تلقین،، دوبدو ملاقات پروگرام سے مولانا عبدالملک مظاہری کا خطاب

حیدرآباد ۔ 27 ؍ مارچ ( دکن نیوز)  مولانا عبدالملک مظاہری خطیب مسجد فردوس و ناظم مدرسہ مصباح العلوم نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی شادیوں کے سلسلہ میں رشتوں کے انتخاب کے لئے دینداری کو اولین ترجیح دیں ۔ اسلام میں دینداری کا مفہوم اعلی اخلاق ‘ شرافت اور بلند کردار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلموں کے پاس رشتے مال و دولت کی بناء پر کئے جاتے ہیں یا پھر ذات پات کو معیار بنایا جاتا ہے ۔ لیکن اسلام نے لڑکی یا لڑکے کے انتخاب کے لئے سیرت و کردار کو اہمیت دی ہے ۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمان حسن و جمال ‘ مالداری کو بنیادی معیار بنائے ہوئے ہیں جس کے سنگین نتائج برآمد ہو رہے ہیں ۔ مولانا مظاہری نے کہا کہ اسلام میں سید ‘ پٹھان ‘ مغل اور شیخ دراصل قبیلے قرار دیئے گئے ہیں جو ایک دوسرے کی پہچان کے لئے ہیں لیکن آج مسلم معاشرہ میں یہ عام تصور پیدا ہوگیاہے کہ سید صرف سید کی لڑکی سے شادی کرسکتا ہے ۔ بعض لوگ پٹھان کو اپنی لڑکی دینا پسند نہیں کرتے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تمام غیر اسلامی اور بے ہودہ باتوں سے گریز کریں ۔ اور معاشرے کو قبیلہ اور خاندان کی بنیاد پر تقسیم نہ کریں۔ مولانا عبد الملک مظاہری آج رائیل ریجنسی گارڈن ‘ آصف نگر میں ادارہ سیاست اور میناریٹی ڈیولپمنٹ فورم کے زیراہتمام منعقدہ 58 ویں دوبہ دو ملاقات پروگرام کو بحیثیت مہمان خصوصی مخاطب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ لڑکوں کے والدین کا رویہ قابل اعتراض ہو تا جا رہا ہے ۔ تعلیمیافتہ خوبصورت لڑکیوں کو محض قد کم ہونے کی بناء پر مسترد کیا جاتا ہے جو غیر انسانی اور غیر اسلامی طرز عمل ہے اسی طرح عمر کے سلسلہ میں لڑکے والوں کا رویہ مناسب نہیں ہے ۔ 33تا 35 سالہ لڑکے کے لئے 20 تا 21 سال عمر کی شرط رکھی جاتی ہے ۔ حالانکہ لڑکے اور لڑکی کی عمر میں چار تا پانچ سال کا فرق کافی ہے ۔ مولانا نے کہا کہ ہماری شادیاں غیر مسلموں کے طرز پر طئے پا رہی ہیں جس میں حرص و ہوس اور لالچ کا زیادہ دخل ہے ۔ خوف الٰہی اور پیارے نبیؐ کی ہدایات کو یکسر فراموش کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے مسلم لڑکوں کو تلقین کی کہ وہ اپنی محنت کی کمائی سے اپنی زندگی کو آراستہ کریں ۔ جہیز و لین دین سے بچتے ہوئے اللہ کی خوشنودی حاصل کریں ۔ انہوں نے ادارہ سیاست اور میناریٹی ڈیولپمنٹ فورم کی  تحریک کو ملت اسلامیہ کے لئے موجودہ حالات میں ناگزیر قرار دیا ۔ جناب فضل بن علی القعیطی پروپرائٹر رائیل ریجنسی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ۔ جناب عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف نے دوبہ دو پروگرام کی صدارت کی ۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ دوبہ دو پروگرام کا مقصد دراصل مسلم معاشرہ میں فکری انقلاب پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نکاح کو آسان بنانا اور شادی بیاہ کی تقاریب و فضول اور اسراف سے بچانا موجودہ حالات میں ہر باشعور مسلمان کی ذمہ داری ہے ایک طرف اغیار کی سازشیں بام عروج پر پہنچ چکی ہے تو دوسری طرف ہمارا معاشرہ مطالبات ‘ لین دین ‘ اسراف اور گانا بجانا‘  آتش بازی ‘ جیسے خرافات میں ملوث ہو کر اپنے معاشی حالات کو تباہ و برباد کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیاست اور ایم ڈی ایف کی کوششوں کے نہایت بہتر نتائج برآمد ہو رہے ہیں ۔ جناب محمد تاج الدین ‘ ایم اے قدیر ‘ ڈاکٹر ایوب حیدری ‘ سید الیاس باشاہ ‘ سید اصغر حسین ‘شاہد حسین ‘ میر انوارالدین ‘ سید ناظم الدین ‘ صالح بن عبداللہ باحاذق ‘ احمد صدیقی مکیش ‘ شہ نشین پر موجود تھے ۔ دوبہ دو پروگرام کے سلسلہ میں انجنیئرنگ ‘ میڈیسن ‘ پوسٹ گریجویٹ ‘ گریجویٹ ‘ انٹر ‘ ایس ایس سی اور عقدثانی کے کاؤنٹرس پر میر انورالدین ‘زاہد فاروقی‘ ماجد انصاری ‘ لطیف النساء ‘ رئیس النساء ‘ ڈاکٹر دردانہ ‘ اے اے کے امین ‘ صالح عبد اللہ باحاذق ‘ ڈاکٹر ناظم علی‘ سیدہ محمدی‘ آمنہ فاطمہ ‘ شبانہ نعیم ‘ ایم اے واحد ‘ محمد احمد ‘ اور دوسروں نے کونسلنگ میں حصہ لیا ۔ جلسہ کا آغاز قاری سید الیاس شاہ کی قرأت کلام پاک سے ہوا ۔ جناب احمد صدیقی مکیش نے بارگاہ رسالت میں ہدیہ نعت پیش کیا ۔ جناب سید اصغر حسین  نے جلسہ کی کارروائی چلائی ۔ جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر سیاست نے تمام کاؤنٹرس پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور والدین سے تبادلہ خیال کیا۔ بھٹکل سے آئے مہمان مولانا عبدالنعیم دوبہ دو پروگرام کی سرگرمی کا جائزہ لیا اور اظہار خوشنودی کی اور جناب ظہیرالدین علی خان کو مبارکباد دی ۔ رائیل ریجنسی گارڈن پر صبح سے ہی رجسٹریشن کا آغاز ہوا ۔ آج کے دوبہ دو پروگرام میں لڑکوںکے94 اور لڑکیوں160  نئے رجسٹریشن کروائے گئے ۔ اے سی پی آصف نگر غوث محی الدین کی ہدایت پر پولیس کی جانب سے وسیع تر بندوبست کیا گیا تھا ۔ 58 ویں دوبہ دو پروگرام میں تقریباً 5000 والدین و سرپرستوں سے شرکت کی جن میں اضلاع اور مضافات سے آئے ہوئے والدین بھی شامل ہیں ۔ جناب عابد صدیقی نے دوبہ دو پروگرام کے اختتام پر رائیل ریجنسی گارڈن کے محمد یوسف ‘ امجد حسین اور اسٹاف ‘ صحافتی برادری کا شکریہ ادا کیا ۔

TOPPOPULARRECENT