Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / نوجوان نسل میں صبر و تحمل کے فقدان سے جنون کا پروان

نوجوان نسل میں صبر و تحمل کے فقدان سے جنون کا پروان

دین اسلام میں صبر و برداشت کی تلقین، علمائے کرام و عمائدین ملت کو توجہ دینے کی ضرورت

حیدرآباد 15 مئی (سیاست نیوز) نوجوان نسل میں صبر و تحمل کے فقدان کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہوئے اُنھیں بے صبری اور عجلت کے نقصانات کا مشاہدہ کروایا جانا ضروری ہے۔ چونکہ نوجوان نسل میں بے صبری و عجلت کے علاوہ فوری ردعمل کے اظہار کا جنون پروان چڑھ رہا ہے اُسے روکا جانا بیحد ضروری ہے۔ دین اسلام میں متعدد مرتبہ صبر و برداشت کی تلقین کی گئی ہے اور اِس بات کا احساس دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ صابر و شاکر بندوں کو پسند فرماتے ہیں لیکن حالیہ دنوں پیش آرہے واقعات کا مشاہدہ کرنے پر یہ بات محسوس کی جارہی ہے کہ نوجوانوں میں صبر کے فقدان کے سبب وہ تباہی کے راستے پر چل پڑے ہیں۔ فوری ردعمل کے اظہار کے لئے خود کو تیار تصور کرنے والی نوجوان نسل کی تربیت کو بہتر بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اُنھیں صبر و شکر کی دین میں اہمیت سے واقف کروایا جاسکے۔ چونکہ قوت برداشت کا خاتمہ صبر کے پیمانہ کو لبریز کردیتا ہے اور ایسی صورت میں انسان کوئی ایسا اقدام کر بیٹھتا ہے جوکہ اُس کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ صبر کرنا صرف حالات پر نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات جنونی کیفیت کے حامل افراد سے مقابلہ کے دوران بھی صبر کا دامن تھامے رہنا پڑتا ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر صبر کی تلقین کی ہے۔ ایک مقام پر قرآن مجید میں یہ کہا گیا ہے کہ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ علاوہ ازیں کئی مقامات پر صبر کرنے اور تکالیف برداشت کرنے والوں کے لئے نعمتوں کی بشارت دی گئی ہے۔ اِن تعلیمات کو عام کرتے ہوئے نوجوان نسل میں صبر کا مادہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ نوجوانوں میں فوری ردعمل
کے اظہار کے جذبہ کو کم کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اُنھیں صبر کے متعلق اسلامی احکام سے واقف کروایا جائے تاکہ وہ عجلت سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے صبر و تحمل سے کام لیں۔ سڑک حادثات، رشتوں کا خاتمہ، لڑائی جھگڑے اور کئی ایسے مسائل ہیں جو بے صبری اور عجلت کے سبب وجود میں آرہے ہیں۔ سڑک حادثات کا شکار ہونے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جو کرتب بازی یا تیز رفتار گاڑی چلانے کو فخر محسوس کرتے ہیں لیکن اُن کی یہ عجلت پسندی، والدین اور سرپرستوں کے علاوہ دیگر کے لئے تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ اسی طرح رشتہ داریوں میں صبر و تحمل کا مظاہرہ نہ کیا جائے اور برداشت کو تقویت نہ پہنچائی جائے تو رشتہ داریوں کا خاتمہ ہونے کے خدشات لاحق ہوجاتے ہیں۔ اور اس طرح کے کئی واقعات دیکھے جارہے ہیں کہ معمولی باتوں پر صبر نہ کرنے پر رشتوں میں دراڑیں پڑنے لگی ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صبر کا دامن چھوڑنے کے سبب معمولی جھگڑے قتل و غارتگری تک پہونچ رہے ہیں جوکہ ایک مہذب معاشرہ کے لئے بدنما داغ ہے۔ علمائے کرام کے علاوہ ذمہ داران و عمائدین ملت کو چاہئے کہ وہ نوجوانوں میں آرہی تیز رفتاری کو مثبت رُخ دینے کے لئے اقدامات کریں تاکہ نوجوان نسل کی تیز رفتاری ملت کی گمراہی یا تباہی کا سبب نہ بنے۔ چونکہ اُن کی تیز رفتاری اور صبر و تحمل کے جذبہ سے بے اعتنائی نقصان دہ ثابت ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جو تعلیمات اُمت تک پہنچائی ہیں اُن میں بھی صبر کو انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات طیبہ میں عملی سنتوں کا مشاہدہ کیا جائے تو صبر بھی ایک ایسی سنت ہے جس کا آقائے دوجہاں ﷺ نے بڑی اہمیت کے ساتھ اہتمام فرمایا ہے۔

TOPPOPULARRECENT