Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / نوجوان نسل کو تعلیمی ترقی و تحقیق کے میدان میں گامزن کرنے کی ضرورت

نوجوان نسل کو تعلیمی ترقی و تحقیق کے میدان میں گامزن کرنے کی ضرورت

کل ہند مجلس تعمیر ملت کی یوم تاسیس تقریب ، مولانا خالد سیف اللہ و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔15جون(سیاست نیوز) امت میں مسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر امت واحدہ کے تصور کو عام کرنے میں کل ہند مجلس تعمیر ملت نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور اس بات کی امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ بھی تعمیر ملت امد واحدہ کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ فقہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی معتمد کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ نے آج کل ہند مجلس تعمیر ملت کے67ویں یوم تاسیس کے موقع پر اپنے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے تعمیر ملت کے قیام اور خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ملت اسلامیہ کی ضرورتوں اور ان میں شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ان کے حقوق کیلئے جدوجہد کے مقصد سے قائم کی گئی اس تنظیم کی خدمات قابل ستائش ہیں۔ مولانا نے مزید کہا کہ امت میں پیدا شدہ اختلافات کو دور کرنے اور مختلف مسلکوں سے تعلق رکھنے والوں کو تعمیر ملت نے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہوئے انہیں مسائل کی بنیاد پر ایک کیا جس کا سہرا حضرت سید خلیل اللہ حسینی ؒاور ان کے رفقائے کار کے سر جاتا ہے۔ اس تقریب کی صدارت جناب سید جلیل احمد ایڈوکیٹ صدر تعمیر ملت نے کی جبکہ اس موقع پر جناب محمد ضیاء الدین نیر نائب صدر تعمیر ملت ‘ جناب خواجہ آصف احمد ‘ کے علاوہ جناب عمر شفیق احمد موجود تھے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ذمہ داران تعمیر ملت کو مشورہ دیا کہ وہ اسلاف کی تعلیمات کو عام کرتے ہوئے نوجوانوں کو تاریخی حقائق سے واقف کروائیں تاکہ نوجوان نسل امت کے نشیب و فراز سے آگاہ ہو سکے۔ جناب سید جلیل احمد نے اپنے صدارتی خطاب کے دوران کہا کہ تعمیر ملت اپنے مقاصد سے انحراف نہیں کرے گی بلکہ امت میں اتحاد کے ساتھ امت کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

فی زمانہ امت کی رسوائی کا سبب نوجوان نسل میں تحقیق کے رجحان میں کمی ہے اسی لئے نوجوانوں کو تعلیمی میدان میں ترقی کے ساتھ ساتھ تحقیق کے شعبہ میں بھی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ صرف تعلیم و تحقیق کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ جناب ضیاء الدین نیر نے اپنے کلیدی خطبہ کے دوران حضرت سید خلیل اللہ حسینی ؒ کی خدمات و دوراندیشی کو خراج پیش کرتے ہوئے کہا کہ جن حالات میں کل ہند مجلس تعمیر ملت کا قیام عمل میں آیا تھا آ ج بھی ملک میں وہی حالات پیدا ہو چکے ہیں۔

انہوں نے علماء اکرام کی جانب سے غزواۃ و سرایا کا ذکر نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاد کو فراموش کرتے ہوئے امت کے نوجوان بگاڑ کا شکار بنتے جا رہے ہیں۔ جناب محمد ضیاء الدین نیر نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں جن غزواۃ میں حصہ لیا اور جن سرایات میں اصحاب رسولﷺ کو روانہ کیا ان کے متعلق نوجوانوں کو معلومات بہم پہنچانے کی ضرورت ہے۔ ملک میں مسلمانوں کی معاشی بد حالی ‘ احساس عدم تحفظ اور بڑھتی دینی بے راہ روی کو دیکھتے ہوئے حضرت سید خلیل اللہ حسینی ؒ نے کل ہند مجلس تعمیر ملت کا قیام عمل میں لایا تھا اور اس تنظیم نے بحسن خوبی اپنے کام انجام دیئے لیکن آج ایک مرتبہ پھر وہی پر آشوب دور آچکا ہے جس میں امت خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگی ہے اور بے جا رسومات و روایات میں غرق دین سے دوری کی مرتکب بن رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امت کو خواب غفلت سے بیدار کرتے ہوئے انہیں بے خوف حریت کے جذبہ سے سرشار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سر زمین ہند پر ایک مرتبہ پھر خورشید مبین کے منصب پر فائز ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک و ریاست کے حالات موجودہ حالات میں کل ہند مجلس تعمیر ملت اپنے اسلاف کے منہج کو اختیار کرتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے گی تاکہ نوجوانوں میں دینی تعلیمات کے فروغ کے ساتھ ان میں اتحاد امت کا جذبہ پیدا ہو۔ جناب خواجہ محمد آصف احمد نے ابتداء میں خطبہء استقبالیہ پیش کیا۔

TOPPOPULARRECENT