Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / نومولود کے تحفظ میں تلنگانہ کو ملک بھر میں دوسرا مقام

نومولود کے تحفظ میں تلنگانہ کو ملک بھر میں دوسرا مقام

مرکز حکومت کی رپورٹ ۔ ریاستی وزیر صحت ڈاکٹر کے لکشما ریڈی کا اظہار مسرت
حیدرآباد۔ 10 اکتوبر (سیاست نیوز) ریاستی وزیر صحت لکشما ریڈی نے نومولود کے تحفظ کے معاملے میں تلنگانہ کو ملک بھر میں دوسرا مقام حاصل ہونے اور محکمہ صحت کو مختلف ایوارڈس حاصل ہونے پر مسرت کا اظہار کیا۔ مرکزی محکمہ صحت نے مولود کے تحفظ میں تلنگانہ کو سارے ملک میں دوسرے مقام پر ہونے کی رپورٹ جاری کی ہے۔ ہریانہ کو پہلا مقام حاصل ہوا ہے۔ ریاستی وزیر صحت لکشما ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی بصیرت سے محکمہ صحت کو بڑی حد تک مستحکم کیا جارہا ہے۔ سرکاری ہاسپٹلس میں بنیادی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں جس سے ریاست کے عوام کا سرکاری ہاسپٹلس پر اعتماد بڑا ہے۔ پہلے آؤٹ پیشنٹ، پھر اِن پیشنٹ کو ایوارڈس حاصل ہوئے کے سی آر کٹس اسکیم کو میرٹ ایوارڈ اسکاچ ایوارڈس حاصل ہوئے۔ آروگیہ شری موبائیل (APD) کو بھی خصوصی ایوارڈ حاصل ہوا ہے۔ تلنگانہ میں شیر خوار کے تحفظ کے 30 سنٹرس قائم ہونے کے بعد چیف منسٹر نے مولود کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی ہے۔ سرکاری ہاسپٹلس میں سہولتوں کے اضافہ کے بعد Infant Mortality Rate ، 39 سے گھٹ کر 31 تک پہونچ گیا ہے جس سے طبی خدمات کے معاملے میں ریاست تلنگانہ کا کیرالا اور تاملناڈو کی ریاستوں میں شمار ہورہا ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ ریاست میں 21 ایس این سی یو سنٹرس خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مزید 7 سنٹرس کے آغاز کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ اضلاع کی تنظیم جدید کے بعد ہر ضلع کو ایک ایس این سی یو سنٹر قائم کرنے کی تجویز مرکز کو روانہ کردی گئی ہے۔ گزشتہ سال 21 ایس این سی یو سنٹرس میں 29,000 مولود کو شریک کیا گیا جس میں 75% نومولود صحت مند ہوکر اپنے اپنے گھروں کو پہونچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر صرف 15% نومولود کو ایس این سی یو خدمات کی ضرورت ہوتی ہے۔ تلنگانہ میں ہر سال 6,50,000 نومولود جنم لیتے ہیں جن میں ایک لاکھ مولود کو ایس این سی یو خدمات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان سنٹرس میں وینٹیلیٹر کے علاوہ آئی ایم آر کی سہولت فراہم کرنے کی حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT