Friday , May 26 2017
Home / ہندوستان / نوٹوں کی تنسیخ پر التواء کی کارروائی کے سلسلہ میں مرکز سپریم کورٹ سے رجوع

نوٹوں کی تنسیخ پر التواء کی کارروائی کے سلسلہ میں مرکز سپریم کورٹ سے رجوع

نئی دہلی 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج مرکز کی تازہ درخواست کی سماعت کرنے سے اتفاق کرلیا ہے جو نوٹوں کی تنسیخ کی کارروائی ملتوی کردینے کے لئے ملک گیر سطح پر مختلف ہائی کورٹس اور دیگر عدالتوں میں پیش کی گئی ہیں، کے خلاف سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے۔ جسٹس اے آر ڈوے اور جسٹس اے ایم خانولکر پر مشتمل بنچ نے اٹارنی جنرل مکل روہتگی کی دلیل سے اتفاق کرلیا جو مرکز کی پیروی کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ مختلف عدالتوں میں سوائے سپریم کورٹ کے اس مسئلہ پر درخواستوں کی سماعت سے کافی اُلجھن پیدا ہوگی۔ بنچ نے کہاکہ مسئلہ کی سماعت دوسری بنچ پر جس کی صدارت چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کریں گے، دیگر مفاد عامہ کی درخواستوں کے ساتھ جو مرکز کے نوٹوں کی تنسیخ کے کام کے خلاف داخل کی گئی ہیں، کریں گے۔ سپریم کورٹ میں 4 مفاد عامہ کی درخواستیں زیرالتواء ہیں۔ ان میں سے دو دہلی کے وکلاء ویویک نارائن شرما اور سنگم لال پانڈے نے داخل کی ہیں۔ جبکہ دیگر دو درخواستیں دو افراد ایس متو کمار اور عادل علوی نے داخل کی ہیں۔ درخواست گذاروں نے الزام عائد کیا ہے کہ اچانک فیصلے سے انتشار پیدا ہوگیا اور بحیثیت مجموعی عوام کی ہراسانی ہوئی، اِس لئے معاشی اُمور کے محکمہ سے اعلامیہ اور وزارت فینانس کے اعلامیے کو یا تو منسوخ کردینا چاہئے یا کچھ وقت کے لئے ملتوی کردینا چاہئے۔ وزیراعظم نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے 500 اور 1000 روپئے کی نوٹوں کی 8 اور 9 نومبر کی درمیانی نصف شب سے منسوخ کردینے کا اچانک اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ملک کی کالے دھن اور کرپشن کے خلاف فیصلہ کن جنگ ہوگی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT