Tuesday , March 28 2017
Home / Top Stories / نوٹوں کی تنسیخ کے اسکام کا لوک سبھا میں مکمل انکشاف کا اعلان

نوٹوں کی تنسیخ کے اسکام کا لوک سبھا میں مکمل انکشاف کا اعلان

حکومت پر تقریر کا موقع نہ دینے کا الزام: راہول ، مودی حکومت اپوزیشن کو ایوان میں بات کرنے نہیں دیتی: ممتا

نئی دہلی۔9 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ انہیں ایوان پارلیمنٹ میں نوٹوں کی تنسیخ کے موضوع پر تقریر کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹوں کی تنسیخ آزاد ہند کی تاریخ کا ’’سب سے بڑا اسکام‘‘ ہے اور کہا کہ وہ ایوان میں مکمل انکشاف کریں گے کہ اعلی مالیتی کرنسی نوٹوں کی برخاستگی کے اقدام کے پس پردہ کیا مقصد پوشیدہ ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ ان کی پارٹی نوٹوں کی تنسیخ پر مباحث چاہتی ہے تاکہ سچائی منظر عام پر آجائے لیکن حکومت اس سے فرار حاصل کررہی ہے۔ نائب صدر کانگریس نے کہا کہ جب بھی انہیں ایوان میں نوٹوں کی تنسیخ کے موضوع پر خطاب کرنے کا موقع ملتا ہے، وزیراعظم ایوان میں بیٹھنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔ وزیراعظم پورے ملک میں تقریریں کررہے ہیں لیکن لوک سبھا میں آنے سے خوفزدہ ہیں۔ وہ یہاں بیٹھنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ راہول گاندھی نے سوال کیا کہ ان کی اس اعصاب زدگی کی وجہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکام نوٹوں کی تنسیخ ہے۔ وہ اس موضوع پر لوک سبھا میں تقریر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ سب کچھ بتادیں گے۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اس مسئلہ پر ایوان میں تقریر کی انہیں اجازت نہیں دے رہی ہیں۔ کانگریس قائد ان کی پارٹی کے لوک سبھا میں اس بیان کے بعد تبصرہ کررہے تھے کہ کانگریس اس مسئلہ پر مباحث کے لئے تیار ہے لیکن حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ پہلے وہ ملک سے معذرت خواہی کریں کیوں کہ کانگریس نے پارلیمنٹ کی کارروائی گزشتہ 16 دن سے روک رکھی ہے جس کے نتیجہ میں ایوان کا اجلاس ملتوی ہورہا ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ پہلے تو حکومت نے کالے دھن کی بات کی تھی اس کے بعد تبدیل کرتے ہوئے جعلی کرنسی کا تذکرہ کیا اور اس کے بعد بغیر نقد رقم کا معاشرہ قائم کرنے کی مہم شروع کردی۔

 

انہوں نے کہا کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ نریندر مودی حکومت نے تن تنہا سب سے بڑا اسکام کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ عوام کی آواز خاص طور پر غریبوں کی آواز پارلیمنٹ میں پہنچائیں جو اس اقدام کی وجہ سے مصیبتوں کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو ایوان میں آنا چاہئے تاکہ نوٹوں کی تنسیخ کیا ہے اس پر بحث کی جائے۔ اس فیصلے سے کس کو فائدہ ہوا ہے اور اس کا مطلب کس کے لئے کیا ہے، معلوم ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ابتداء میں نوٹوں کی تنسیخ کے مسئلہ پر ان کی پارٹی سے بات چیت کرنے سے اتفاق کیا تھا لیکن حکومت پیچھے ہٹ گئی۔ اگر وہ مجھے پارلیمنٹ میں تقریر کی اجازت دیں تو کوئی زلزلہ نہیں آجائیگا۔ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ کولکتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب چیف منسٹر مغربی بنگال و سربراہ ترنمول کانگریس ممتا بنرجی نے آج الزام عائد کیا کہ مودی حکومت اپوزیشن پارٹیوں کو نوٹوں کی تنسیخ کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں خطاب کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ مرکز مخالف اپنا رویہ نوٹوں کی تنسیخ کے بارے میں برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی بدبختانہ رویہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں نوٹوں کی تنسیخ کے موضوع پر ایوان میں اظہار خیال کرنا چاہتی ہیں۔ وہ نہیں سمجھ سکتیں کہ آخر اپوزیشن کو بات کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جارہی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ حکومت کا مقصد واضح ہوچکا ہے۔ نقد رقم کے بغیر معاشرے کو دکھانے کا چہرہ حکومت کے پاس نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور کاروبار پر نوٹوں کی تنسیخ سے کاری ضرب لگی ہے۔ وزیراعظم کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرتے، وہ نہیں جانتے کہ ملک کا مقصد کیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT