Saturday , June 24 2017
Home / Top Stories / نوٹوں کی تنسیخ کے خلاف ایک ہفتہ طویل ملک گیر احتجاج

نوٹوں کی تنسیخ کے خلاف ایک ہفتہ طویل ملک گیر احتجاج

بائیں بازو کی 6 پارٹیاں شامل ، تمام اپوزیشن سے اپیل :سی پی آئی ایم جنرل سیکریٹری یچوری

نئی دہلی۔ 22 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت پر بڑے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ پر ’’عوام کی پریشانی‘‘ کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بائیں بازو کی چھ پارٹیوں نے آج فیصلہ کیا کہ ایک ہفتہ طویل مشترکہ ملک گیر احتجاج عوام کی مسلسل مصیبت کو اُجاگر کرنے کیلئے کیا جائے گا۔ بائیں بازو کی پارٹیوں نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی پی آئی ایم کے جنرل سیکریٹری سیتا رام یچوری نے کہا کہ نوٹوں کی تنسیخ کی مخالف تمام اپوزیشن پارٹیوں سے یوم احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔ انہوں نے نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ سوالوں کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے جو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ارکان پارلیمنٹ اُٹھائے تھے، وزیراعظم مودی اور ان کی حکومت پارلیمنٹ کی تحقیر کی مرتکب ہوئی ہے اور بائیں بازو کی پارٹیاں اہانت کی قرارداد پیش کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے وسیع طبقات کے مسلسل مصائب کو اجاگر کرنے کیلئے مشترکہ طور پر کُل ہند احتجاجی مظاہروں کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ 24 نومبر تا 30 نومبر عوام کو متحرک کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سوال پر کہ کیا احتجاج میں شمولیت کی کٹر حریف ترنمول کانگریس کو بھی دعوت دی گئی ہے، جو نوٹوں کی تنسیخ کی مخالف ہے، یچوری نے کہا کہ یہ بائیں بازو کی پارٹیاں کا احتجاج ہے۔ حکومت نے کافی تیاری کے بغیر یہ فیصلہ کرلیا ہے جس سے دیہی ہندوستان مکمل طور پر مفلوج ہوگیا ہے۔ بینکوں پر طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کالے دھن ، کرپشن اور دہشت گردی کو مالیہ کا انسداد کرنے کے مقصد میں ناکام رہے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT