Sunday , April 23 2017
Home / Top Stories / نوٹوں کی منسوخی، متوفی افراد کے خاندانوں کو 10 لاکھ روپئے معاوضہ کا مطالبہ

نوٹوں کی منسوخی، متوفی افراد کے خاندانوں کو 10 لاکھ روپئے معاوضہ کا مطالبہ

لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں مسلسل چوتھے روز بھی اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی، بحث کے وقت وزیراعظم کی ایوان میں موجودگی پر اصرار

نئی دہلی 22 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) نوٹوں کی منسوخی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے مسلسل شوروغل اور ہنگامہ کے نتیجہ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اجلاس آج متعدد مرتبہ ملتوی کئے گئے۔ اس طرح پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن کے چوتھے دن بھی دونوں ایوانوں میں کارروائی ٹھپ رہی۔ اپوزیشن ارکان نے اس مسئلہ پر جارحانہ تیور اپناتے ہوئے نوٹوں کی منسوخی پر دشواریوں سے فوت ہونے والے افراد کے خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپئے معاوضہ دینے اور ایوان میں

اس مسئلہ پر بحث کے دوران وزیراعظم کی موجودگی کا پرزور مطالبہ کیا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا اپوزیشن کے مسلسل شوروغل کے سبب آج بھی کام نہیں کرسکے جس کے نتیجہ میں کارروائی کو مقررہ وقت سے قبل ہی ملتوی کرنا پڑا۔ اس طرح پارلیمنٹ کا چوتھا دن بھی کسی کام کے بغیر ضائع ہوگیا۔ لوک سبھا میں انا ڈی ایم کے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والی اپوزیشن کے احتجاج میں شامل ہوگئی اور اس قاعدہ کے تحت بحث کے لئے اصرار کیا جس کے اختتام پر رائے دہی ناگزیر ہوتی ہے۔ لیکن حکمراں جماعت نے اس مطالبہ کے خلاف پوری شدت کے ساتھ مزاحمت کی۔ اپوزیشن کے مسلسل شوروغل کے درمیان وزیر پارلیمانی اُمور اننت کمار نے کہاکہ حکومت اس مسئلہ پر بحث کے لئے تیار ہے۔

کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھرگے اور ترنمول کانگریس کے لیڈر سدیپ بندھوپادھیائے نے کہاکہ وہ بحث چاہتے ہیں لیکن انھوں نے اس موقع پر ایوان میں وزیراعظم کی موجودگی کا مطالبہ کیا۔ اس مسئلہ پر بحث و تکرار اور ہنگامہ آرائی کے دوران ایوان کی کارروائی ملتوی کردی گئی۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے متحدہ طور پر کارروائی میں خلل اندازی کی اور کہاکہ نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ پر اس وقت تک بحث نہیں ہوسکتی تاوقتیکہ وزیراعظم ایوان میں موجود نہ ہوں۔ اپوزیشن ارکان نے نوٹوں کی منسوخی کی دشواریوں کے سبب ہلاک ہونے والوں کے افراد خاندان کو فی کس 10 لاکھ روپئے معاوضہ دینے کا ایک نیا مطالبہ کیا اور کہاکہ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کے سبب تقریباً 70 افراد مختلف مصائب کا سامنا کرتے ہوئے فوت ہوئے ہیں۔ اس مسئلہ پر ایوان بالا میں اپوزیشن اتحاد کا منفرد منظر دیکھا گیا جب مغربی بنگال کی دو حریف جماعتوں کانگریس اور ترنمول کانگریس نے ایک دوسرے سے تعاون کیا اور اترپردیش کے دو کٹر حریف جماعتوں ایس پی اور بی ایس پی کے ارکان نے مشترکہ طور پر نعرہ بازی کی۔

تاہم حکمراں بنچوں نے اس مسئلہ پر بحث کے آغاز کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی نعرہ بازی کا جواب دیا۔ راجیہ سبھا کا اجلاس سہ پہر 3 بجے ، دن بھر کے لئے ملتوی ہونے سے قبل دو مرتبہ ملیا گیا تھا۔ ایوان بالا جیسے ہی شروع ہوا اور کارروائی کا جدول میز پر رکھا گیا ہی تھا کہ جے ڈی (یو) کے شرد یادو نے کہاکہ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کے مسائل سے فوت ہونے والے 70 افراد کے خاندانوں کو فی کس 10  لاکھ روپئے کا معاوضہ دیا جانا چاہئے۔ مایاوتی (بی ایس پی) اور نریش اگروال (ایس پی) نے کہاکہ نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ پر بحث کے آغاز سے قبل مودی کو ایوان میں طلب کیا جائے۔ مایاوتی نے کہاکہ ’’اُنھیں ایوان میں آنا چاہئے اور ان کے فیصلہ سے عوام کو پہونچنے والی تکالیف کی سماعت کرنا چاہئے‘‘۔ اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہاکہ اپوزیشن جماعتیں اس مسئلہ پر بحث کے لئے تیار ہیں لیکن وزیراعظم کو ایوان میں پہونچنا چاہئے۔ آزاد کا خطاب جاری ہی تھا کہ بی جے پی ارکان اپنی نشستوں سے اُٹھ گئے اور نعرہ بازی شروع کردی۔

اس مرحلہ پر ٹی ایم سی کے ارکان ’’مالیاتی ایمرجنسی‘‘ کا پلے کارڈ لہراتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہونچ گئے اور کانگریس کے ارکان بھی ان کے احتجاج میں شامل ہوگئے۔ ایوان کے وسط میں موجود اپوزیشن ارکان سے ڈپٹی چیرمین پی جے کورئین نے کہاکہ ’’آپ ایوان کے وسط میں بیان نہیں دے سکتے۔ وسط میں اظہار خیال کرنا بے سود ہے۔ اگر آپ اپنی نشستوں پر واپس چلے جائیں تو میں آپ کو (اظہار خیال کے لئے) وقت دوں گا‘‘۔ کورئین نے آزاد سے کہاکہ قاعدہ 267 کے تحت کارروائی معطل کرنے ان کی نوٹس قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس مرحلہ پر بی جے پی ارکان نے شوروغل کیا جس پر کورئین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’حکمراں بنچس ایسا کیوں کررہی ہیں؟ جناب وزیر، آخر کس لئے حکمراں بنچس ایسا کررہی ہیں‘‘۔ کورئین دراصل مملکتی وزیر پارلیمانی اُمور مختار عباس نقوی سے مخاطب تھے۔ انھوں نے کہاکہ ’’دونوں ہی جانبین بحث نہیں چاہتے۔ نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکمراں بنچس بھی ایوان کی کارروائی درہم برہم کررہی ہیں۔ یہ امر انتہائی بدبختانہ ہے‘‘۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT