Wednesday , October 18 2017
Home / ہندوستان / نوٹوں کی منسوخی اور معاشی اثرات

نوٹوں کی منسوخی اور معاشی اثرات

نئی دہلی۔21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ڈاکٹر کے سی چکرورتی جو کہ سال 2009ء سے 2014ء تک آر بی آئی کے ڈپٹی گورنر تھے وہ مخالف مودی اور نہ مخالف بی جے پی ہیں۔ انہوں نے کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے سماجی اور معاشی اثرات کو آسان انداز میں پیش کیا ہے اور بتایا کہ معاشی فوائد کم اور مصارف زیادہ ہوں گے اور میرے خیال میں وزیراعظم کو اس معاملہ کی نزاکت سے مکمل واقف نہیں کروایا گیا۔ کرنسی نوٹ بلیک منی نہیں ہونے کے لئے تمام کرنسی نوٹ وائٹ منی ہوتے ہیں۔ جب ایک شخص کے پاس کرنسی نوٹس پہنچتے ہیں اور وہ ٹیکس ادا نہیں کرتا ہے تو بلیک منی کی تعریف میں آتی ہے۔ گو کہ بلیک منی رکھنے والا مجرم تصور کیا جاتا ہے لیکن کرنسی نوٹوں کو تباہ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر نوٹوں کا چلن اور عوام کی ذہنیت تبدیل نہیں ہوسکتی تو بلیک منی میں اضافہ کیلئے کرنسی، سونا اور دیگر اثاثہ جات استعمال کرسکتا ہے۔ حکومت کا گمان ہے کہ صرف دولتمندوں کے پاس بلیک منی ہوئی ہے جبکہ غریبوں کے پاس بھی بھاری رقم موجود رہتی ہے۔ چونکہ 90 فیصد غریبوں کے پاس جمع پونجی، نقد رقم کی شکل میں ہوئی ہے لیکن اب وہ کنگال بن گئے ہیں جس کے نتیجہ میں معاشی اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT