Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / نوٹوں کی منسوخی سنگین مسئلہ ، سڑکوں پر دنگے اور ہنگاموں کا اندیشہ

نوٹوں کی منسوخی سنگین مسئلہ ، سڑکوں پر دنگے اور ہنگاموں کا اندیشہ

بینکوں پر عوام کی طویل قطاریں تشویشناک ، حکومت پر سپریم کورٹ کی برہمی، ہائیکورٹس کی درخواستوں کی سماعت پر امتناع مسترد

نئی دہلی ۔ /18 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی پر مرکز کو آج اپنی شدید برہمی کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’’اس میں کافی مصیبتیں ہیں ۔ جس سے آپ اختلاف نہیں کرسکتے ‘‘ ۔ عدالت عظمی نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ ’’ہمارے پاس سڑکوں پر دنگے اور لڑائی جھگڑے ہوں گے ‘‘ ۔ بینکوں اور پوسٹ آفسیس پر طویل قطاروں کو سپریم کورٹ نے ایک ’سنگین مسئلہ‘ قرار دیا اور مرکز کی ایک درخواست پر تحفظات کا اظہار کیا جس میں استدعا کی گئی تھی کہ 500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں کی منسوخی کیلئے /8 نومبر کو کئے گئے حکومت کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے کی جانے والی درخواستیں قبول نہ کرنے کیلئے دیگر تمام عدالتوں کو ہدایت کی جائے ۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس اے آر داوے پر مشتمل ایک بنچ نے کہا کہ دشواریوں کے سبب عوام عدالتوں سے رجوع ہورہے ہیں

 

۔اور عدالت عظمیٰ ہائیکورٹس کی بڑے نوٹوں کی تنسیخ کے خلاف درخواستوں کی سماعت پر امتناع عائد نہیں کرسکتی ۔ جس کے جواب میں اٹارنی جنرل مکل روہنگی نے کہا کہ قطاریں دن بہ دن چھوٹی ہوتی جارہی ہیں اور حتی کہ یہ تجویز بھی پیش کی کہ چیف جسٹس آف انڈیا لنچ کے لئے باہر جائیں اور بذات خود قطاریں دیکھیں ۔ روہنگی نے ایک خانگی فریق کی طرف سے رجوع ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ صورتحال کو بڑھا چڑھا کر بیان کررہے ہیں ۔ روہنگی نے کہا کہ ’’عدالت میں یہ سیاسی کوشش ہے ۔ میں آپ (سبل) کی پریس کانفرنس بھی دیکھ چکا ہوں ۔ آپ کسی سیاسی جماعت کیلئے نہیں بلکہ ایک وکیل کی حیثیت سے رجوع ہوئے ہیں ۔ عدالت عظمیٰ کو آپ سیاسی پلیٹ فارم میں تبدیل کررہے ہیں ‘‘ ۔ چیف جسٹس نے حکومت سے سوال کیا کہ ’’آپ نے 500 اور 1000 روپئے کی نوٹوںکو منسوخ کردیا ہے لیکن 100 روپئے کی نوٹوں کا کیا ہوا ہے؟ ‘‘ ۔
حکومت نے جواب دیا کہ اے ٹی ایمس کو جدید طریقہ کار سے ہم آہنگ کیا جارہا ہے ۔ کیونکہ ان (اے ٹی ایمس) میں 100 روپئے کے نوٹ کیلئے صرف ایک ہی خانہ ہے ۔ جسٹس ٹھاکر نے حکومت سے یہ استفسار بھی کیا کہ ’’گزشتہ مرتبہ آپ نے کہا تھا کہ راحت پہونچانے کے لئے کام کررہے ہیں لیکن آپ نے رقم نکالنے کی حد کو  2000 روپئے تک گھٹا دیا ہے ۔ اس میں آخر مسئلہ کیا ہے ؟ کیا طباعت کا کوئی مسئلہ ہے ؟ ‘‘ جس پر روہنگی نے جواب دیا کہ پرنٹنگ (طباعت) کے بعد بھی نئے نوٹوں کو ملک کے مختلف حصوں میں واقع لاکھوں بینک برانچ تک پہونچانا اور اے ٹی ایمس کو نئے طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنا ہے ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے کسانوں ، چھوٹے تاجرین اور شادیوں کیلئے رعایت دی ہے ‘‘ ۔ حکومت نے نوٹوں کی تبدیلی کی حد کو 4500 سے  2000 یومیہ تک گھٹادیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد نقد رقم حاصل کرسکیں ۔

TOPPOPULARRECENT