Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / نوٹوں کی منسوخی سے عوامی زندگی ٹھپ ، شادی بیاہ کا عمل متاثر۔میت کی تجہیز و تکفین بھی مشکل

نوٹوں کی منسوخی سے عوامی زندگی ٹھپ ، شادی بیاہ کا عمل متاثر۔میت کی تجہیز و تکفین بھی مشکل

حیدرآباد۔/16نومبر، ( سیاست نیوز) کرنسی نوٹوںکی تبدیلی کا عمل ملک بھر میں خطرناک صورتحال اختیارکرتا جارہا ہے۔ گھنٹوں قطار میں ٹھہرنے کے باوجود بھی ناکامی کا شکار عوام میں برہمی شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ جبکہ آئے دن حکومت کے حوصلہ افزاء بیانات صرف بیانات تک ہی محدود ہیں جبکہ آئے دن ملک میں کہیں نہ کہیں اموات کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ شمالی ہند کی ریاستوں میں ہی نہیں بلکہ ملک بھر کی عوام نوٹوں کی تبدیلی کے لئے پولیس کا شکار بھی ہیں۔ گھر میں اچانک کوئی سانحہ اور ناگہانی صورتحال و کسی ضرورت کی فوری طلب کیلئے جمع کردہ چھوٹی رقم کی تبدیلی ایک بڑا سنگین مسئلہ بن گئی ہے۔ احکامات کی اجرائی اور آمرانہ انداز میں حکم کو مسلط کرنے کیلئے حکومت تمام کو فائدہ پہنچانے اور فیصلے کو ملک کے حق میں قرار دے رہی ہے لیکن اسی حکومت کو چاہیئے کہ وہ عوام کی ضرورتوں کو پورا کرنے پر توجہ مرکوز کرے چونکہ عوام کے بغیر نہیں ہوتا اور اس وقت تک ملک کی ترقی ممکن نہیں اس ملک کی عوام خوش نہیں۔ ملک میں ہر گوشہ سے سوائے بی جے پی اور چند افراد کے تمام اس فیصلہ کو جلد بازی اور ان کا فیصلہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں اور خود وزیر اعظم سے سوال کررہے ہیں کہ آیا کوئی دولت مند یہاں بینک کی قطار میں کیوں نظر نہیں آتا اور کیوں خوشحال طبقہ بھی بینک کی قطار میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے بے چین دکھائی نہیں دیتا صرف روزانہ کی کمائی پر انحصار کرنے اور ماہانہ معمولی تنخواہ حاصل کرنے والا شہری ہی ان احکامات پر سنجیدہ ہے۔ کئی خاندانوں میں شادیاں اور خوشی کے کام ٹھپ ہوگئے ہیں اور روزانہ کی معمولات زندگی میں سنگین حالات کا سامنا درپیش ہے۔ مزدوروں کی ملازمتیں چھوٹ رہی ہیں اور مزدور طبقہ روزانہ کمائی والے شہری پریشان حال ہیں۔ سکندرآباد کے علاقہ ماریڈ پلی میں ایک ریٹائرڈ شہری جو بینک کے پاس قطار میں تھا قلب پر حملہ کے سبب فوت ہوگیا۔ریٹائرڈسرکاری ملازم لکشمن ایک لاکھ 50ہزار رقم جمع کرانے گیا تھا جبکہ اتر پردیش کے میرٹھ میں 63سالہ عبدالعزیز انصاری 2ہزار روپئے کی کرنسی نوٹوں کو بدلنا چاہتا تھا قطار میں گھنٹوں انتظار سے ہوش ہوگیا اور دواخانہ منتقلی کے دوران ہی فوت ہوگیا۔ عبدالعزیز انصاری کپڑے کا بنکر تھا جس کو اس کے دکان مالک نے محض اس وجہ سے نکال دیا تھا کہ مارکٹ نوٹوں کی منسوخی کے بعد ٹھپ ہوگئی اور گراہک بھی نہیں آرہے ہیں اس وجہ سے تمہاری ضرورت نہیں ، اس بات سے غمزدہ انصاری اپنی 2 ہزار روپئے کمائی جو اس کا اثاثہ بھی تھا بدل کر اپنے گاؤں لوٹنا چاہتا تھا اور کرنسی نوٹوں کو بدلنے یہ شخص قطار میں ٹہرا ہوا تھا۔ جبکہ اتر پردیش ہی کے ایک اور مقام پر شادی کا گھر ماتم میں بدل گیا اور وہ قلب پر حملہ کے سبب فوت ہوگیا۔ ان کے گھر شادی تھی۔ رمیش بھارتی نامی شخص جو 45ہزار روپئے کی کرنسی کو بدلنا چاہتا تھا اس شخص کے بھائی کی لڑکی کی شادی تھی اب نہ شادی رہی نہ رمیش ، ان کا گھر شادی کی خوشیوں کے گھر سے ماتم میں بدل گیا۔ کرنسی نوٹنے ملک کی حالت کو بہتر بنانے سے قبل ملک کی عوام کے حالات کو ابتر بنادیا۔

TOPPOPULARRECENT