Friday , July 21 2017
Home / سیاسیات / نوٹوں کی منسوخی پر مودی کے موقف سے شتروگھن سنہا کا اختلاف

نوٹوں کی منسوخی پر مودی کے موقف سے شتروگھن سنہا کا اختلاف

الیکشن ہیرو نے مناسب تیاری نہیں کی، ٹوئٹ پر ریمارک، منموہن کے موقف کی بالواسطہ تائید
نئی دہلی۔25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے شعلہ بیان رکن پارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے پھر ایک مرتبہ ’’تہلکہ خیز الیکشن‘‘ پارٹی لیڈر وزیراعظم نریندر مودی کے موقف سے اختلاف کیا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انوہں نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے موقف سے اتفاق کیا۔ جب انہوں (شتروگھن سنہا) نے ٹوئٹر پر یہ حیرت انگیز تبصرہ کیا کہ ’’نوٹوں کی منسوخی سے قبل ہماری ٹیم (بی جے پی حکومت) نے مناسب ہوم ورک نہیں کیا‘‘ یہ بھی ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ کسی قبل از وقت تیاری کے بغیر نوٹوں کی منسوخی کا الزام لگانے والوں کی تنقیدوں کو وزیراعظم کی طرف سے مسترد کئے جانے کے اندرون ایک گھنٹہ شتروگھن نے یہ تبصرہ کیا ہے۔ اس سے ایک دن قبل شترو نے نوٹوں کی منسوخی کے بارے میں وزیراعظم کے ایپ پر کئے گئے سروے پول کا مذاق اڑایا تھا۔ شتروگھن نے ٹوئٹر پر ایک تلخ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اب ہمیں بیوقوفوں کی جنت میں رہنا چھوڑ دینا چاہئے اور مفاد حاصلہ کی طرف سے کئے گئے سروے، خبروں اور کہانیوں پر یقین نہیں کرنا چاہئے۔

‘‘ تاہم شتروکھن سنہا نے وزیراعظم کی نیک نیتی، ارادوں اور اس بڑے اقدام پر بھرپور بھروسہ کا اظہار کیا لیکن 500 اور 1000 روپئے کی نوٹوں پر امتناع کے انداز پر تنقید کی۔ شتروگھن سنہا نے گزشتہ ہفتہ بھی وزیراعظم مودی کو ڈیشنگ ہیرو قرار دیتے ہوئے ان ہی تاثرات کا اظہار کیا تھا۔ شترو نے ٹوئٹ کیا کہ ’’اس اقدام کے نتیجہ میں عوام اور حتی کہ متحدہ اپوزیشن کے شدید ردعمل پر مجھے گہری تشویش ہے۔ شتروگھن سنہا نے ا گرچہ ماہر معاشیات و سابق وزیراعطم منموہن سنگھ کا نام تو نہیں لیا لیکن کہا کہ ’’وقت کا تقاضہ ہے کہ ارون شوری، یشونت سنہا، سبرامنیم سوامی اور ہماری پارٹی کے دیگر حقیقی ماہرین معاشیات اور دانشوروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی کمیٹی ہمارے دوست، فلسفی اور رہنما ایل کے اڈوانی جی اور بزرگ مرلی منوہر جوشی کی قیادت میں اقدامات کرسکتی ہے اور ان سے حکومت کو مدد مل سکتی ہے۔ سابق اداکار نے امریکی ماہر معاشیات لارینس سمر کی خدمات سے استفادہ کی ضرورت پر زور دیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT