Thursday , June 29 2017
Home / Top Stories / نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ ، سپریم کورٹ کی دستوری بنچ سے رجوع

نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ ، سپریم کورٹ کی دستوری بنچ سے رجوع

منسوخ شدہ نوٹوں کے استعمال میں توسیع کا فیصلہ ’حکومت وقت‘ کی مرضی پر منحصر، توسیع کی اجازت دینے سے انکار
نئی دہلی ۔ /16 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے منسوخ شدہ بڑی کرنسی نوٹوں کے چلن کو ریل ٹکٹس اور دواخانوں جیسی مفاد عامہ کی خدمات میں استعمال سے روکنے سے متعلق حکومت کے اقدام کو روکنے سے انکار کردیا ۔ تاہم نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ کے جواز کا مسئلہ اپنی دستوری بنچ سے رجوع کیا ہے ۔ عدالت عظمی نے نوٹوں کی منسوخی سے متعلق حکومت کے فیصلہ پر بااختیار مجازی اعلان اس سے متعلق 9 مسائل و موضوعات کو پانچ رکنی دستوری بنچ سے رجوع کردیا ۔ علاوہ ازیں بینک کھاتوں سے ہفتہ میں 24,000 روپئے نکالنے کی حد میں کسی ترمیم سے بھی عدالت نے انکار کردیا ۔ سپریم کورٹ نے امید ظاہر کی کہ ’’عوام کو درپیش دشواریوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت اپنے وعدوں کی تکمیل کیلئے ممکنہ اقدامات کرے گی ‘‘ ۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی قیادت میں تین رکنی بنچ نے 500 اور 1000 روپئے کی منسوخ شدہ کرنسی نوٹوں پر امتناع میں توسیع دینے سے انکار کردیا اور اس کا فیصلہ حکومت کی مرضی پر چھوڑتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ وہ (حکومت) اس مسئلہ سے نمٹنے میں ذمہ داری اور حساسیت کا مظاہرہ کرے گی ۔ اس بنچ نے جس میں جسٹس اے ایم کھاندویلکر اور ڈی وائی چندرا چوڑ نے کہا کہ ’’منسوخ شدہ کرنسی کے استعمال میں توسیع دینا یا نہ دینا حکومت وقت کے فیصلے پر منحصر ہے کیونکہ وہ (حکومت) ہی بہترین منصف (جج) ہے ۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ حکومت اس مسئلہ سے نمٹنے میں ذمہ داری اور حساسیت کا مظاہرہ کرے گی ‘‘ ۔ اس استدلال پر کہ بینکس عوام کو ہفتہ میں 24000 روپئے نکالنے کا موقع نہیں دے رہی ہیں اور اس سے ہونے والی دشواریوں کو کم کرنے کیلئے دائر کردہ درخواستوں کا جائزہ لیتے ہوئے بنچ نے اٹارنی جنرل مکل روہتگی کے اس استدلال کا نوٹ لیا کہ نقدی کی بلارکاوٹ سربراہی کو آسان و یقینی بنانے کیلئے 50 دن کی مہلت ہنوز پوری نہیں ہوئی ہے ۔ بنچ نے حکومت کے اس استدلال کو بھی قبول کیا کہ منسوخ شدہ نوٹوں کے بجائے تاحال 500 روپئے اور 2000 روپئے کے نئے کرنسی عمل میں لائی گئی ہے اس طرح 40 فیصد نئی کرنسی اب منسوخ شدہ نوٹوں کی جگہ لے چکی ہے ۔ اس استدلال کی سماعت کے بعد بنچ نے کہا کہ ’’اس مرحلہ پر کوئی ہدایات جاری نہیں کی جاسکتیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہفتہ میں 24000 روپئے نکالنے کی اجازت دینے سے متعلق اپنے وعدہ کو حکومت ممکنہ حد تک پورا کرے گی اور وقفہ وقفہ سے اس حد میں توسیع کرے گی ‘‘ ۔ عدالت عظمی نے اٹارنی جنرل کی طرف سے دیئے گئے اس تیقن کو بھی قبول کرلیا کہ ملک بھر میں ڈسٹرکٹ کواپریٹیو بینکس (ڈی سی سی بی) کی طرف سے /11 تا /14 نومبر کے درمیان جمع کردہ 8000 کروڑ روپیوں کو دیگر تمام بینکوں پر لاگو قواعد کے مطابق تبدیل کرنے کی اجازت حاصل رہے گی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT