Tuesday , June 27 2017
Home / Top Stories / نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ سے دستبرداری کا مطالبہ

نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ سے دستبرداری کا مطالبہ

NEW DELHI, NOV 16 (UNI):-West Bengal Chief Minister and Trinamool Congress supremo Mamata Banerjee with National Conference leader Omar Abdullah,AAP MP Bhagwant Mann, Shiv Sena MPs Arvind Sawant and Chandrakant Bhaurao Khaire participating at a march to President House in protest against the ban on currency notes denomination of rupees 500 and 1000 in New Delhi on Wednesday.UNI PHOTO-18U

صدرجمہوریہ کو ممتابنرجی کی یادداشت، راشٹرپتی بھون تک مارچ میں نیشنل کانفرنس اور شیوسینا بھی شامل
نئی دہلی ۔ 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے عمل سے فی الفور دستبرداری کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتابنرجی نے آج دو اپوزیشن جماعتوں نیشنل کانفرنس اور عام آدمی پارٹی کے علاوہ مرکز میں حکمراں این ڈی اے کی دیرینہ حلیف جماعت شیوسینا کے اہم قائدین کے ساتھ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کی۔ انہوں نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں پر امتناع سے پیدا شدہ بدترین بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ممتابنرجی کی قیادت میں ممتابنرجی کی قیادت میں ان کی پارٹی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) ارکان پارلیمنٹ کا مارچ راشٹرپتی بھون تک نکالا گیا، جس میں عام آدمی پارٹی رکن پارلیمنٹ بھگونت مان، شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ ہرشل، نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ بھی شامل تھے۔ بعدازاں ممتابنرجی نے کہا کہ ’’صدرجمہوریہ سے ہماری کامیاب ملاقات ہوئی۔ اس دوران ہم نے اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر نے اس مسئلہ پر غور کرنے کا تیقن دیا‘‘۔ ممتابنرجی نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی سے دستوری بحران جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

انہوں نے اس مسئلہ پر اپنے آئندہ اقدام کے بارے میں کہا کہ ’’ہماری پارٹی اس مسئلہ پر لوک سبھا میں تحریک التواء پیش کرے گی‘‘۔ نوٹوں کی منسوخی کے بعد عوام کو درپیش مصائب پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ممتا نے کہاکہ ’’ہم نے صدر ہند سے درخواست کی ہیکہ وہ اس مسئلہ پر حکومت سے بات چیت کے بعد کوئی فیصلہ کریں اور ملک میں معمول کے حالات بحال کئے جائیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ صدرجمہوریہ ماضی میں وزیرفینانس رہ چکے ہیں اور اس صورتحال کو وہ دوسروں سے بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ توقع ہیکہ وہ مناسب قدم اٹھائیں گے‘‘۔ کانگریس، بائیں بازو محاذ، ایس پی، بی ایس پی اور چند دیگر جماعتوں نے ممتابنرجی کی قیادت میں منظم کردہ اس مارچ میں حصہ نہیں لیا۔ ممتا نے نوٹوں کی منسوخی کیلئے حکومت کے اقدام کو ہٹ دھرمی اور آمریت پر مبنی قرار دیا۔ ان کی یادداشت نے اس فیصلہ کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ پانچ صفحات پر مشتمل یادداشت نے مطالبہ کیا کہ ’’عام آدمی کو ان پر حال ہی میں مسلط کردہ تمام اقسام کی پابندیوں کو ختم کرتے ہوئے ہراسانی سے بچایا جائے‘‘۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT