Tuesday , September 26 2017
Home / اداریہ / نوٹ بندی اور آر ایس ایس

نوٹ بندی اور آر ایس ایس

بس یہی وقت ہے سچ منہ سے نکل جانے دو
لوگ اُتر آئے ہیں ظالم کی طرف داری پر
نوٹ بندی اور آر ایس ایس
بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کے فیصلے نے سارے ملک میں بے چینی اور افرا تفری کی کیفیت پیدا کردی ہے ۔ حکومت کے فیصلے پر رازداری کے تعلق سے مختلف گوشوں سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ عوام کو درپیش مشکلات اور پریشانیوں اور بینکوں و اے ٹی ایمس کی صورتحال ایک الگ مسئلہ ہے لیکن اس پر راز داری اور اس پر عمل آوری کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے جا رہے تھے ۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی ‘ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال ‘ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی اور دوسروں نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیر اعظم کے قریبی حلقوں کو اس کی اطلاع کردی گئی تھی ۔ اب آر ایس ایس کے ایک لیڈر گرومورتی نے ایک بیان دیتے ہوئے ان الزامات کو مزید تقویت پہونچائی ہے ۔ ملک کی کرنسی یا معاشی پالیسی کے تعلق سے فیصلہ یا اس کا اعلان کرنے کا اختیار صرف حکومت کو اور اس کے ذمہ داروں کو ہونا چاہئے تاہم اب گرومورتی نے کہا ہے کہ کرنسی بندی کے بعد فوری طور پر کرنسی کے بحران سے نمٹنے کیلئے جو 2000 روپئے کی کرنسی نوٹ جاری کی گئی تھی وہ بتدریج واپس لے لی جائیگی اور اس کی جگہ کم مالیتی نوٹ جاری کئے جائیں گے ۔ آر ایس ایس لیڈر کا یہ بیان ایک طرح سے حکومت کی معاشی پالیسی کا اعلان ہے اور آر ایس ایس کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ حکومت کے کام کاج کو اپنے طور پر انجام دے یا آر ایس ایس کو سرکاری کام کاج کی ذمہ داری سونپ دی جائے ۔ اس اعلان یا بیان کے بعد یہ شبہات اور بھی تقویت پاتے ہیں کہ حکومت نے اپنے قریبی حلقوں ‘ تاجروں اور اپنی ہمنوا تنظیموں اور افراد کو بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کے فیصلے سے قبل از وقت واقف کروا دیا تھا ۔ اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو یہ حکومت کے حلف کی خلاف ورزی ہے جو رازداری سے متعلق ہوتا ہے ۔ اگر یہ فیصلہ آر ایس ایس کی ایما پر کیا گیا ہے تب بھی یہ حکومت کے فرائض غیر سرکاری تنظیموں کو سونپنے کے مترادف ہے اور اس کی کوئی قانونی یا دستوری گنجائش نہیں ہوسکتی اور اس سے جمہوری عمل کی نفی ہوتی ہے ۔ آر ایس ایس لیڈر کے بیان کے بعد اب حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنے موقف کی وضاحت کرے اور عوام میں جو   بے چینی پیدا ہوئی ہے اس کو دور کیا جائے ۔ نوٹ بندی اور کرنسی کی قلت کے نتیجہ میں پہلے ہی ملک میں حالات ابتر ہیں۔ عوام انتہائی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی روزمرہ کی ضروریات کی تکمیل تک نہیں ہو پا رہی ہے ۔ بینکوں اور اے ٹی ایمس سے پہلے تو کرنسی دستیاب نہیں ہو رہی ہے ۔ اگر کسی کو رقم بھی مل رہی ہے تو وہ بھی 2000 روپئے کے کرنسی نوٹوں کی شکل میں مل رہی ہے ۔ اب یہ اشارے بھی ملنے شروع ہوگئے ہیں کہ یہ نوٹ بھی بند کردی جائیگی ۔ اس نوٹ کی اجرائی کو عارضی انتظام قرار دیا جا رہا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے پاس کرنسی نوٹوں کا چلن بند کئے جانے کے بعد کا نہ کوئی منصوبہ تھا اور نہ کوئی جامع پروگرام تھا ۔ محض جلد بازی میں یا دوسروں کے اشاروں پر یہ کام کیا گیا ہے ۔ اس پر عوام کو پیش آنے والی مشکلات ‘ معیشت کو ہونے والے نقصانات ‘ ملک میں پیدا ہونے والی افراد تفری کے تعلق سے نہ پہلے سے غور کیا گیا اور نہ ہی اس سے نمٹنے کیلئے کوئی حکمت عملی تیار کی گئی ۔ صرف عارضی انتظامات پر توجہ دی گئی اور اسی کے کام چلانے پر اکتفا کیا جا رہا ہے ۔ یہ حکمرانی کی مثال نہیں ہوسکتی اور نہ ہی ایسے اقدامات سے عوام کو راحت مل سکتی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں ملک کی معیشت متاثر ہونے لگی ہے ۔ کاروبار ٹھپ ہوگئے ہیں۔ صنعتوں کے بند ہونے کے اندیشے پیدا ہوگئے ہیں۔ بڑی کمپنیوں سے ملازمین کی تخفیف کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں بیروزگاری بڑھنے لگی ہے ۔ اس کے باوجود حکومت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے اور مسائل کو حل کرنے کا نہ کوئی منصوبہ ہے اور نہ حکمت عملی نظر آتی ہے ۔ جہاں تک آر ایس ایس کا سوال ہے اس کے رول پر حکومت کو وضاحت کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ وزیر اعظم یا ان کے کابینی وزرا آر ایس ایس کے کارکن رہے ہوں لیکن انہیں ملک کی وزارت عظمی اور اقتدار ملک کے عوام نے دیا ہے اور وہ آر ایس ایس کو ذمہ داری تفویض کرنے کے مجاز نہیں ہوسکتے ۔ اس سے قبل بھی آر ایس ایس نے ملک کے تعلیمی نصاب کے تعلق سے اپنی ترجیحات کو واضح کیا تھا اور مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کی جانب سے اس پر عمل آوری کیلئے اقدامات شروع ہوگئے تھے اور اب نوٹ بندی کے مسئلہ پر بھی آر ایس ایس کا رول سامنے آنے لگا ہے ۔ ملک کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیںکہ حکومت نے آر ایس ایس کو اپنے اختیارات کب سے تفویض کردئے جو اس طرح کے اعلانات کئے جا رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT