Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے ہندوستان کی معاشی ترقی پر منفی اثر

نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے ہندوستان کی معاشی ترقی پر منفی اثر

جی ڈی پی 8 فیصد سے گھٹ کر مودی حکومت میں 5.7 فیصد ہوگئی ، نجی سرمایہ کاری میں رکاوٹیں ، عالمی بینک کی رپورٹ

واشنگٹن ۔ 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کی معاشی ترقی پر نوٹ بندی اور گڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے تعلق سے غیریقینی صورتحال کے سبب کافی اثر پڑا ہے۔ عالمی بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہیکہ ہندوستان کا جی ڈی پی جو 2015ء میں 8.6 فیصد تھا، سال 2017ء میں گھٹ کر 5.7 فیصد ہوگیا۔ عالمی ادارہ نے خبردار کیا ہیکہ داخلی رکاوٹوں کے سبب نجی سرمایہ کاری میں ہونے والی گراوٹ سے ملک کی امکانی ترقی بری طرح متاثر ہوگی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ہندوستان کے ترقی کے امکان کو سال 2017ء میں 6.7 فیصد قرار دیا تھا اور اس یہ ماضی میں جاری کئے گئے

اندازہ کے مقابلہ 0.5 فیصد کم ہے۔ اس کے علاوہ معاشی ترقی کی رفتار چین کی 6.8 فیصد سے بھی کم ظاہر کی گئی۔ عالمی بینک نے جنوبی ایشیائی معاشی امور پر اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہیکہ بڑی کرنسی کو منسوخ کرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور جی ایس ٹی پر غیریقینی صورتحال کا ہندوستان کی معاشی ترقی پر اثر پڑا ہے۔ اس کے نتیجہ میں شرح ترقی کا فیصد کم ہوجائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ واضح پالیسیوں کے ساتھ ساتھ عوامی مصارف میں توازن اور خانگی سرمایہ کاری کو بہتر بنانے کے نتیجہ میں سال 2018ء میں معاشی ترقی 7.3 فیصد ہوسکتی ہے۔ ملک کی معاشی ترقی کے نتیجہ میں غربت میں کمی کی توقع کی جاتی ہے لہٰذا غیر رسمی معیشت کو فائدہ پہنچانے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس سے قبل یہ رپورٹ جاری کی گئی ہے۔

ہندوستان کی شرح ترقی میں سست روی کی وجہ سے جنوبی ایشیاء کی شرح ترقی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہیکہ خطہ میں جنوبی ایشیاء کو مشرقی ایشیاء کے بعد دوسرا مقام حاصل ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حقیقی جی ڈی پی شرح سال 2016ء میں کم ہوکر 7.1 فیصد ہوگئی جبکہ سال 2015-16ء میں یہ 8 فیصد تھی اور سال 2017ء میں مزید کمی واقع ہونے کے بعد یہ 5.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ ایک طرف ساتویں سنٹرل پے کمیشن سفارشات پر عمل آوری اور مانسون معمول کے مطابق رہنے کے علاوہ زرعی پیداوار بہتر ہونے سے عوامی اور خانگی مصارف کو ایک نئی جہت ملی۔ دوسری طرف نجی سرمایہ کاری بالکل نہ ہونے کی وجہ سے مجموعی طور پر طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بینک نے کہا ہیکہ جی ایس ٹی کی وجہ سے سال 2018ء کے اوائل میں معاشی سرگرمی متاثر ہونے کی توقع ہے۔ تاہم بعد میں معاشی ترقی کی رفتار میں بہتری آسکتی ہے۔ جی ایس ٹی کے بعد مینوفیکچرنگ اور سرویسیس میں گراوٹ آئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ معاشی ترقی کی رفتار بہتر ہونے کے بعد توقع کی جاسکتی ہیکہ سال 2018ء میں یہ 7.0 فیصد رہے گی۔ خانگی سرمایہ کاری کے معاملہ میں داخلی رکاوٹوں کو ختم نہ کیا جائے تو ہندوستان کی معاشی ترقی پر دباؤ برقرار رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT