Wednesday , September 27 2017
Home / ہندوستان / نوٹ بندی سے متاثر غیر منظم سیکٹر بجٹ میں نظر انداز

نوٹ بندی سے متاثر غیر منظم سیکٹر بجٹ میں نظر انداز

نئی دہلی، 9فروری (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن نے جہاں نوٹ بندي سے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے غیر منظم سیکٹر کے لئے بجٹ میں خاطرخواہ بندوبست نہ کرنے کے لئے حکومت پر تنقید کی وہیں حکمراں فریق کا کہنا تھا کہ یہ معیشت میں شفافیت لائے گا اور اس میں معاشرے کے ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے ۔ترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی نے 18۔2017 کے عام بجٹ پر لوک سبھا میں جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بجٹ سے مستقبل کے منصوبوں کا خاکہ نہیں ہے اور اس سے عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا البتہ یہ ‘ڈیمیج کنٹرول’ کی طرح ہے ۔ مسٹر بنرجی نے کہا کہ نوٹ بندي کی وجہ سے چھوٹے اور درمیانہ زمرے کے 80 فیصد صنعت و کاروبار بند ہو گئے ۔ تقریباً 80 فیصد روزگار دینے والے غیر منظم سیکٹر پر نوٹ بندي کی سب سے زیادہ مار پڑی ہے لیکن بجٹ میں اس کا ذکر نہیں ہے ۔انہوں نے سوال کیا کہ ایسے وقت میں جبکہ 92 فیصد گاؤں میں بینک کی سہولت نہیں ہے اور دیہی معیشت نقد پر مبنی ہے ، کوآپریٹو بینکوں کو پرانے نوٹ تبدیل کرنے کی سہولت کیوں نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نقد رقم سے مبرا (کیش لیس) معیشت میں وقت لگے گا۔ اس کے لئے جلد بازی ٹھیک نہیں ہے ۔ انھوں نے لاکھوں روپے ڈوبے ہوئے قرض کے مسائل کا سامنا کر رہے بینکوں کے لئے محض 10ہزار کروڑ روپے کے بجٹ تجویز کو ناکافی بتایا۔بی جے پی کے بھرت سنگھ نے بجٹ کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ اس میں کسانوں، خواتین، بنکروں اور ڈیری اور سڑک، بجلی جیسے بنیادی سیکڑوں پر خاص توجہ دی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT