Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / نوٹ بندی عوام کیساتھ دھوکہ، وقف جائیدادوں پر عالیشان شادی خانے

نوٹ بندی عوام کیساتھ دھوکہ، وقف جائیدادوں پر عالیشان شادی خانے

لینڈگرابرس کو سیاسی سرپرستی، دفتر سیاست میں جلسہ، سید عزیزپاشاہ، شمیم فیضی، سید طارق قادری و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 24 ڈسمبر (پریس نوٹ) دکن وقف پراپرٹیز پروٹیکشن سوسائٹی و تحریک انصاف کی جانب سے ایک جلسہ عام محبوب حسین جگر ہال سیاست آفس پر بعنوان ’’مرکزی حکومت کا نوٹ بندی کا فیصلہ، ملک کی معاشی صورتحال اور تلنگانہ میں وقف جائیدادوں کی تباہی‘‘ منعقد ہوا۔ صدارت جناب سید عزیز پاشاہ سابق ممبر پارلیمان و سی پی آئی قائد نے کی۔ اس جلسہ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے جناب شمیم فیضی ایڈیٹر حیات نئی دہلی، مسٹربال چندر کانگو (اورنگ آباد) سی پی آئی قائد، مولانا طارق قادری ایڈوکیٹ، جناب عثمان بن محمد الہاجری صدر دکن وقف پراپرٹیز پروٹیکشن سوسائٹی، جناب سید کریم الدین شکیل ایڈوکیٹ نے مخاطب کیا اور نظامت کی۔ جناب شمیم فیضی ایڈیٹر حیات نے اپنی تقریر میں مرکزی حکومت کے نوٹ بندی کے فیصلہ کو ہندوستانی عوام کے ساتھ ایک دھوکہ قرار دیا اور کہا کہ مرکزی حکومت نے کالے دھن، جعلی کرنسی و دہشت گردی کے بہانے اپنے کارپوریٹس دوستوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے نوٹ بندی کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے ملک تباہی کے راستہ پر ڈال دیا گیا ہے۔ کئی چھوٹی کمپنیوں کے کاروبار تباہی کے دہانے پر ہیں اور بند ہورہے ہیں۔ بے تحاشہ بیروزگاری ہوچکی ہے ۔ مزدور اور ٹکنیشن کام نہ ملنے کی وجہ سے اپنے اپنے گاؤں کی طرف کوچ کررہے ہیں۔ سارے ملک میں افراتفری ہے اور شہری اپنے ہی پیسے لینے کیلئے لائن میں کھڑا ہے لیکن اسے  اپنے ہی پیسے نہیں ملتے۔ اے ٹی ایمس بند ہیں۔ مرکزی حکومت کی نوٹ بندی کی اسکیم فیل ہوچکی ہے۔ کوئی کالادھن سامنے نہیں آیا اور معلوم ہوا ہیکہ بی جے پی کے قائدین کے پاس موٹی موٹی رقم آ چکی ہے اور مارکٹ میں نوٹوں کی کالابازاری بڑے پیمانے پر ہورہی ہے اور نریندر مودی کی غلط حکمرانی کی وجہ سے کشمیر میں افراتفری و تباہی ہورہی ہے۔ کشمیری کسمپرسی میں زندگی گذار رہے ہیں اور حکومت یہ سب اس لئے کررہی ہیکہ وہ 370 آرٹیکل کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ سرحد پر جوان مر رہے ہیں۔ اس طرح ملک معاشی اعتبار سے اور سماجی اعتبار سے تباہی کے دہانے پر جارہا ہے۔ ڈاکٹر بال چندر کانگو سی پی آئی قائد اورنگ آباد نے ملک کی موجودہ صورتحال کو نریندر مودی حکومت کی جانب سے ایک اسکام قرار دیا اور نوٹ بندی محض کارپوریٹس اداروں کو فائدہ پہنچانا اور غریبوں کو معاشی طور پر تباہ کرنا ہے اور کہا کہ نریندر مودی نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک کے باہر کا کالادھن واپس لائیں گے اور ہر ایک شہری کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ داخل کریں گے لیکن وہ آج تک باہر سے کالادھن نہیں لاسکے اور سوئس بینک میں جمع ہندوستانی کالادھن جو ہندوستان کو آتا ہے اس کو بھی نہیں روک سکے اور جن ہندوستانیوں کا کالادھن سوئس بینکس میں جمع ہے اس کی لسٹ موجودہ حکومت کے پاس ہے لیکن آج تک ان کے ناموں کا افشاء بھی نہیں کیا گیا۔ بجائے اس کے آج نریندر مودی حکومت غریبوں کی محنت سے کمائی ہوئی رقم کو کالادھن قرار دینا چاہتی ہے جو سراسر ملک کی اکثریت کے ساتھ ناانصافی و دھوکہ ہے اور کہا کہ نوٹ بندی کا فیصلہ محض یو پی و پنجاب کے الیکش کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے جس کو عوام اچھی طرح سمجھ گئے ہیں اور آنے والے انتخابات میں ان کو مزہ چکھائیں گے۔ جناب عزیز پاشاہ سابق ایم پی و سی پی آئی قائد نے تفصیلی اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی کا فیصلہ سراسر سیاسی اور یو پی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے کیا گیا ہے اور جو 14 لاکھ کروڑ کی جاری کردہ رقم سے 3 ڈسمبر تک 12.6 لاکھ کروڑ روپئے بینکوں میں جمع ہوچکے ہیں اور جبکہ اور وقت باقی ہے اس سے معلوم ہوا کہ مرکزی حکومت عوام کو کالے  دھن کے نام پر دھوکہ دیا ہے اور اپنے کارپوریٹس کو فائدہ پہنچایا ہے تاکہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی جاسکے۔ جناب عثمان بن محمد الہاجری نے وقف جائیدادوں کی تباہی و بربادی اور حکومت وقف بورڈ کی جانب سے کوتاہی و خاموشی پر سخت تنقید کی اور کہا ٹولی مسجد کی اراضی پر لینڈ گرابرس سیاسی سرپرستی میں مبینہ قبضہ کرکے غیرقانونی طور پر عالیشان شادی خانے تعمیر کرچکے ہیں۔ موجودہ حکومت و وقف بورڈ بے بس ہے اور اسی طرح دوسری اوقافی جائیدادوں کو منصوبہ کے تحت فروخت کردیا گیا۔ اس طرح وقف جائیدادوں کو بڑے پیمانے پر تباہ کیا گیا ہے۔ چندرشیکھر حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ لینکوہلز کی وقف جائیداد کو وقف بورڈ کو واپس دلائیں گے لیکن حکومت نے آج تک اس سلسلہ میں کچھ نہیں کیا اور حکومت نے بورڈ تشکیل دینے کیلئے نام نہاد قائدین سے سازباز کرتے ہوئے وقف جائیدادوں کو بڑے پیمانے پر تباہی کے ذمہ دار افراد کو بورڈ میں شامل کرنا چاہتی ہے جو وقف جائیدادوں کیلئے تباہ کن ثابت ہوں گے جس کیلئے عثمان الہاجری نے عوام سے کہا کہ وہ بڑے پیمانے پر حکومت کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیلئے تیار رہیں تاکہ وقف جائیدادوں کا تحفظ ہو۔ مولانا سید طارق قادری سکریٹری صوفی اکیڈیمی نے بھی ریاستی حکومت کی جانب سے نام نہاد مسلم قیادت کے دباؤ میں آ کر اوقافی جائیدادوں کی تباہی کے مجرمین کو متوقع بورڈ کی تشکیل میں شامل کرنے کے خلاف انتباہ دیا اور کہا ایسا ہوا تو مسلمان خاموش نہیں رہیں گے۔ جناب سید کریم الدین شکیل ایڈوکیٹ نے ملک کی موجودہ صورتحال کو تباہ کن قرار دیا اور کہا کہ سو سے زیادہ لوگ نوٹ بندی کی مار سے مر چکے ہیں لیکن مرکزی حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ایسا  لگتا ہیکہ بی جے پی کو بہار میں جو شکست ہوئی ہے وہ اس کا بدلہ عوام سے لے رہی ہے اور بی جے پی حکومت اپنے حمایتی سنگھ پریوار کی جانب سے چاہتی ہیکہ ملک کے پسماندہ طبقات نے مودی کو شکست فاش دے کر نریندر مودی کے خوابوں کو چکناچور کردیا۔ لہٰذا آج نریندر مودی کی بی جے پی حکومت ملک کے پسماندہ طبقات سے بدلہ لینے کیلئے نوٹ بندی کا فیصلہ کیا ہے اور ان کا بلاک منی سے لڑنے کا بہانہ دراصل جھوٹا ہے اور یہ فیصلہ کالے دھن کے خلاف کارروائی کے بہانے ہندوستان کے پسماندہ طبقات پر ایک مہلک حملہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT