Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / نوٹ بندی : غریب عوام طویل مدتی انتظار کے متحمل نہیں

نوٹ بندی : غریب عوام طویل مدتی انتظار کے متحمل نہیں

Gandhinagar: President Pranab Mukherjee addresses students of Bapu Gujarat Knowledge Village (University) function at Gandhinagar on Sunday. PTI Photo (PTI10_23_2016_000234A)

فوری راحت ضروری ،مرکز کے فیصلے سے معاشی سست رفتاری کا اندیشہ ، صدرجمہوریہ ہند پرنب مکرجی کا ردعمل
نئی دہلی ۔ /5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہور یہ ہند پرنب مکرجی نے آج خبردار کیا کہ غریب عوام طویل مدتی انتظار کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ انہیں فوری راحت رسانی ضروری ہے ۔ ان کا یہ تبصرہ اعلیٰ مالیتی کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے مرکزی حکومت کے اقدام کے پس منظر میں منظر عام پر آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجہ میں معیشت سست رفتار ہوسکتی ہے ۔ گورنروں اور لیفٹننٹ گورنروں سے ویڈیو خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے جس اقدام کا اعلان کیا ہے اس کے نتیجہ میں عوام کو کچھ راحت حاصل ہوسکتی ہے ۔ لیکن ان کا تازہ ترین پیکیج کافی نہیں ہے ۔ کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کالے دھن کو ناکارہ بنادینے اور کرپشن کے خلاف جدوجہد کے طور پر منظر عام پر آیا تھا لیکن اس کے نتیجہ میں معیشت سست رفتار ہوجانے کا اندیشہ ہے ۔ ہم سب کو چاہئیے کہ غریب عوام کے مصائب کو پیش نظر رکھیں  اس کے بعد کارروائی کریں ۔ ممکن ہے کہ طویل مدتی بنیاد پر متوقع ترقی حاصل ہوسکے اور موجودہ اقدام ناگزیر ہو ۔ پرنب مکرجی نے کہا کہ وہ استحقاق کے رویہ سے صنعت کاری کے رویہ میں تبدیلی کی عبوری مدت پر زور دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ انسداد غربت کیلئے ایسی تبدیلی ضروری ہو لیکن انہیں یقین ہے کہ غریب عوام طویل مدت تک بہتر نتائج کا انتظار نہیں کرسکتے ۔ غریبوں کو فوری راحت رسانی ضروری ہے تاکہ وہ سرگرمی کے ساتھ مستقبل کے بھوک ، بیروزگاری اور استحصال سے پاک ملک کی جانب قومی مارچ میں حصہ لیں سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے حال ہی میں جس پیاکیج کا اعلان کیا ہے اس سے کچھ راحت حاصل ہوسکتی ہے ۔ صدرجمہوریہ نے کہا کہ 7 ریاستوں میں جاریہ سال انتخابات ہونے والے ہیں ۔ 5 ریاستوں کے انتخابات کیلئے تاریخوں کا پہلے ہی اعلان کیا جاچکا ہے ۔ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کی ہماری جمہوریت کو دنیا بھر میں انتہائی متحرک ثابت کرنے کیلئے ضروری ہیں ۔ انتخابات رویوں ،

اقدار اور عوام کے یقینی کی عکاسی کرتے ہیں جو انہیں سیاسی ماحول پر ہوتا ہے ۔ انہوں نے مسابقتی مقبولیت کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی لفاظی اور ووٹ بینک کی سیاست انتخابات کے دوران پرشور مباحث معاشرے میں کوتاہیوں کی خلیج کو مزید گہرا کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف فرقوں کے درمیان خیرسگالی غالب ہونی چاہئیے ۔ بعض اوقات فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مفادات حاصلہ کی جانب سے آزمائش کی جاتی ہے ۔ فرقہ وارانہ کشیدگی اپنا بدنما سر ابھارتی ہے ۔ قانون کی حکمرانی واحد بنیاد ہے  جس کے بنا پر ایسی چیالنج بھری صورتحال کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔ مکرجی نے کہا کہ ملی جلی خوشحالی کا ایک سال گزرچکا ہے ۔ اس کا آغاز معیشت کی بہتر کارکردگی کے تیقنات کے ساتھ ہوا تھا جبکہ عالمی معیشت میں انحطاط کا رجحان جاری تھا ۔ 2016-17 ء کی پہلی ششماہی میں جی ڈی پی شرح ترقی 7.2 فیصد تھی ۔ گزشتہ سال بھی یہی شرح ترقی تھی ۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی تھی کہ معیشت ٹھوس بنیادوں پر بحال ہورہی ہے ۔ 2014 ء اور 2015 ء میں اوسط سے کم بارش کی وجہ سے دیہی علاقوں میں پریشانی پھیل گئی تھی لیکن 2016 ء میں اچھی بارش کی وجہ سے زرعی پیداوار میں بہتری کی اور دیہی روزگار اور آمدنی میں اضافہ کی توقعات پیدا ہوگئی تھیں ۔ ہماری برآمدات میں عالمی طلب کی تکمیل کیلئے بحالی کی کوشش کی ۔ برآمدات کی بحالی ہنوز ایک چیالنج ہے لیکن ہم اندرون ملک صنعت میں مسابقت کا جذبہ بہتر بناتے ہوئے اس پر قابو پاسکتے ہیں ۔ صدرجمہوریہ نے گورنرس اور لیفٹننٹ گورنرس سے خواہش کی کہ وہ دستور کا تحفظ اور دفاع کریں ۔ کیونکہ انہوں نے اسی دستور کے نام پر اپنا جلیل القدر عہدہ سنبھالا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دستور ہند وہ مقدس دستاویز ہے جو عوام کی آزادی کی محافظ ہے اور شہریوں کی بہتری کی طمانیت دیتی ہے ۔ یہ سب کو ساتھ لیکر چلنے ، رواداری ، صبر و تحمل اور خواتین کے تحفظ کا درس دیتی ہے ۔ عمر رسیدہ شہری اور کمزور طبقات میں ہمارے سیاسی نظام کے لازمی اجزاء ہیں ۔ جمہوریت کا ادارہ ان اہم خصوصیات کے ساتھ برقرار رہنا چاہئیے ۔ انہوں نے فن اور تمدن کو متعلقہ ریاستوں میں فروغ دینے کی گورنروں کو ہدایت بھی دی ۔

TOPPOPULARRECENT