Wednesday , April 26 2017
Home / شہر کی خبریں / نوٹ بندی فیصلہ پر کے سی آر کی تائید سیاسی مفاد پرستی

نوٹ بندی فیصلہ پر کے سی آر کی تائید سیاسی مفاد پرستی

مستقبل قریب میں ٹی آر ایس و بی جے پی دوستی، محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد۔24 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ سیاسی مفادات کے لئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے نوٹ بندی کے فیصلے کی تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں ٹی آر ایس اور بی جے پی میں دوستی کے امکانات واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ نوٹ بندی کے فیصلے کی تائید کے عوض چیف منسٹر اپنی دختر کو مرکزی کابینہ میں شامل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مرکز کی جانب سے نوٹ بندی کے فیصلے کو 50 دن مکمل ہونے کو ہیں لیکن آج تک صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے عوامی مفادات کو قربان کرتے ہوئے نوٹ بندی کی اندھی تائید کی اور ساتھ ہی ساتھ نقدی لین دین کے بغیر معاملت میں غیر معمولی دلچسپی دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ کیاش لیس اکانمی کا قیام تلنگانہ میں ممکن نہیں، اس کے باوجود انہوں نے سدی پیٹ کو ایک ماڈل ٹائون کے طور پر تیار کرنے کا بیڑہ اٹھایا تاکہ مرکز کی خوشنودی حاصل کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں آج بھی ہزاروں گائوں ایسے ہیں جہاں بینک اور اے ٹی ایم کی سہولت موجود نہیں۔ کسان اور زرعی مزدور نوٹ بندی کے فیصلے کے بعد فاقہ کشی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر کو اس فیصلے کی تائید کے بجائے اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لینا چاہئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 50 دن میں عوام کو کوئی راحت حاصل نہیں ہوسکی جس کا احساس اب آندھراپردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کو ہونے لگا ہے۔ وہ کھل کر نوٹ بندی کی مخالفت کررہے ہیں جبکہ چندر شیکھر رائو سیاسی مفادات کے خاطر ابھی بھی نریندر مودی کے بھگت کی طرح مظاہرہ کررہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ جس طرح بی جے پی کو عوام کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا اسی طرح ٹی آر ایس بھی آئندہ انتخابات میں عوامی تائید سے محروم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سے زائد فنڈس کا حصول ہر ریاست کی کوشش ہوتی ہے لیکن اس کے لئے مخالف عوام فیصلوں کی تائید نہیں کی جاسکتی۔ اسمبلی اور کونسل کے جاریہ اجلاس میں عوامی مسائل پر مباحث سے فرار کا الزام عائد کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ برسر اقتدار پارٹی اسمبلی اور کونسل کو اپنے لیجسلیچر پارٹی اجلاس میں تبدیل کرچکی ہے۔ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے اور اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے جانے والے مسائل اور سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے اسمبلی میں کسانوں اور اقلیتوں کے مسائل کی بھرپور نمائندگی کی لیکن حکومت کی جانب سے کوئی تشفی بخش جواب نہیں دیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مخالف عوام پالیسیوں کے سبب عوام میں بڑھتی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے ٹی آر ایس نے بی جے پی سے دوستی کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ اس کے لئے خودکشی کے مترادف ہوگا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT