Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / نوٹ بندی معاملہ میں وزیر اعظم کو چیف منسٹر کی بھرپور حمایت

نوٹ بندی معاملہ میں وزیر اعظم کو چیف منسٹر کی بھرپور حمایت

نریندر مودی اور مرکزی حکومت کے خلاف ناشائستہ ریمارکس نہ کرنے کا مشورہ :کے سی آر
حیدرآباد  /16 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے نوٹ بندی کے معاملے میں وزیر اعظم کی بھرپور تائید کرتے ہوئے نریندر مودی اور مرکزی حکومت کے خلاف غیر شائستہ ریمارکس اور تنقیدیں نہ کرنے کا اپوزیشن کو مشورہ دیا ۔ مرکز کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا ریاست کو کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی کرنسی پر مباحث اسمبلی کے دائرے اختیار میں ہے ۔ صرف نوٹ بندی سے عوام کے جو مسائل ہیں اس پر روشنی ڈالیں اور تجاویز پیش کریں ۔ جس کو وہ مرکزی حکومت تک پہونچا دیں گے ۔ نوٹ بندی پر اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے اس کو دانشمندانہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے کالا دھن ، کرپشن ، دہشت گردی اور تمام بے قاعدگیوں پر قابو پایا جائے گا ۔ صرف نوٹس کی شکل میں ہی نہیں سونے کے بسکٹ ، ہیرے جواہرات ، جائیداد اور اثاثہ جات بیرونی کرنسی کی شکل میں پائے جانے والے تمام کالے دھن پر قابو پانا چاہئے ۔ تب ہی نوٹ بندی کا مقصد پورا ہوسکتا ہے۔ وہ اس مسئلہ پر وزیر اعظم سے ملاقات کرتے ہوئے مختلف تجاویز بھی پیش کرچکے ہیں ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے قائد اپوزیشن کے جاناریڈی اور مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی کی جانب سے وزیر اعظم اور مرکزی حکومت پر کی گئی تنقید پر سخت اعتراض کرتے ہوئے انہیں نوٹ بندی کی منسوخی ، وزیر اعظم اور مرکزی حکومت کے خلاف غیر ضروری تنقیدی کرنے کا مشورہ دیا ۔ بی جے پی کی رکن راجیہ سبھا مناکشی لیگھی کا حوالہ دینے پر بھی چیف منسٹر نے اعتراض کرتے ہوئے غیر متعلقہ افراد کے نام کو ریکارڈ سے حذف کردینے کی اسپیکر اسمبلی سے اپیل کی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ 500 اور 1000 روپئے کی نوٹ منسوخ ہونے سے عوام پریشان ضرور ہیں تاہم وزیر اعظم نے معذرت خواہی کے ساتھ عوام سے 50 دن کا وقت طلب کیا ہے ۔ وزیر اعظم پوری تیاری میں ہیں جب کوئی بڑا فیصلہ ہوتا ہے تو تھوڑی بہت پریشانی ہوتی ہے ۔ مستقبل تابناک ہونے کی امید ہے ۔ کے سی آرنے کہا کہ بڑی نوٹوں کی منسوخی کے بعد ابھی تک تلنگانہ کے بنکوں میں 57479 کروڑ روپئے ڈپازٹ ہوئے ہیں ۔ آر بی آئی نے ابھی تک ریاست کو 19109 کروڑ روپئے روانہ کئے ہیں جس میں اکثریت 2 ہزار روپئے کی ہے ۔ ریاستی حکومت نے ابھی تک مرکزی حکومت اور آر بی آئی کومکتوبات روانہ کرتے ہوئے  5000 کروڑ روپئے کے چھوٹے نوٹ روانہ کرنے کی اپیل کرچکی ہے ۔ چھوٹے نوٹ دستیاب ہونے پر مسئلہ بڑی حد تک حل ہوجائے گا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ فی الوقت نقد رقم لین دین سے پاک معاملت میں تلنگانہ سارے ملک میں سرفہرست ہے ۔ اسمبلی حلقہ سدی پیٹ کو کیاش لیس سوسائٹی میں تبدیل کیا جارہا ہے ۔ سدی پیٹ کا ایک گاؤں ابراہیم پور صد فیصد کیاش لیس ہوگیا ہے ۔ حال ہی میں کلکٹرس کا اجلاس طلب کرتے ہوئے ریاست کے تمام اضلاع کو نقد رقمی لین دین سے پاک بنانے کی وہ ہدایت دے چکے ہیں ۔ 86 فیصد کرنسی ختم ہوجانے کے بعد معاشی مسائل پیدا ہونا فطری بات ہے ۔ ریاستی حکومت عوام کو راحت فراہم کرنے کیلئے مختلف متبادل راستوں کا انتخاب کر رہی ہے ۔ ریاست کو کیاش لیس بنانے کیلئے صرف سوینگ مشینوں پر ہی انحصار نہیں کیا جارہا ہے اور بھی کئی راستے ہیں جن میں Apps 51 ہیں ۔ ٹیلیفون ، ای بنکنگ ٹی ایس ویالٹ وغیرہ بھی موجود ہے ۔ جس سے استفادہ کیلئے 30 ڈسمبر کے بعد ریاست میں بڑے پیمانے پر شعور بیداری پروگرام کا اہتمام کیا جائے گا ۔ باوجود اس کے ملک صد فیصد کیاش لیس ہوجانے کی توقع رکھنا غلط ہے ۔ ترقیاتی ممالک برازیل میں 83 فیصد امریکہ میں 78 فیصد کیاش لیس سوسائٹی ہے ۔ ہندوستان کو 70 تا 80 فیصد کیاش لیس بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ وزیر اعظم مودی اور مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی کے پاس تمام ڈاٹا موجود ہے ۔ نوٹ بندی سے ملک کے دیگر 28 ریاستوں کے ساتھ تلنگانہ پر بھی اثر پڑا ہے ۔ آمدنی بھی گھٹی ہے ۔ مگر اس کے زیادہ اثرات نہیں ہے ۔ وہ وزیر اعظم سے ملاقات کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر غیر محسوب دولت کا انکشاف کرنے والوں سے وصول ہونے والے 43 فیصد ٹیکس میں تلنگانہ کے بشمول ملک کے دوسرے ریاستوں کو نوٹ بندی سے ہونے والے نقصانات کی پابجائی کرنے کی اپیل کرچکے ہیں ۔ جس پر ہمدردانہ غور کرنے کا وزیر اعظم نے تیقن دیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT