Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / نوٹ بندی : منہ کے بل گرگئے صاحب پھربھی ٹانگ اونچی !

نوٹ بندی : منہ کے بل گرگئے صاحب پھربھی ٹانگ اونچی !

 

محمد جسیم الدین نظامی
کہتے ہیںکہ’’ اِک بار نیتا جی جلدی جلدی چلنے کے چکر میں منہ کے بل گرگئے… لوگوں نے بھاگ کر انہیں اٹھایا اور پوچھا ، صاحب چوٹ تو نہیں لگی ؟ نیتا جی بولے … بھئی..چوٹ تو گرنے پرلگتی ہے، ہم گرے ہی کب تھے..؟لوگوں نے کہا نیتا جی ابھی توہم نے آپ کو اپنے ہاتھوں سے اٹھایا ہے…نیتا جی لوگوں کی بات کاٹتے ہوئے بولے میاں اسکو گرنا نہیں کہتے..گرنے کا مطلب ہوتاہے ’’ ٹانگ کا چِت ہوجانا‘‘ …اورہم جب گرے توہماری ٹانگ چِت نہیں تھی اوپر ہوگئی تھی…لوگ انکے گرنے کی اس تشریح پرداد دئے بغیر نہیں رہ سکے اوربے ساختہ پکار اٹھے.. واہ نیتا جی واہ.. ! درا صل’’گرے تو گرے اپنی ٹانگ اونچی‘‘ والی یہ تمثیل مجھے اس وقت یا د آئی جب ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی نے میانمار میں جاکر یہ بیان دیا کہ ’’وہ سخت فیصلے کرنے سے خوفزدہ نہیںہوتے انہوں نے نوٹوںکی تنسیخ اورجی ایس ٹی کے نفاذکو ایسا انقلابی اقدام قراردیا جو ملک میں مفاد میں ہے‘‘ ۔ اب یہ تو وہی بہتر جان سکتے ہیں کہ نوٹ بندی سے ملک اور قوم کو کتنا فائدہ ہوا ہے …تاہم 29اگست2017 کو ریزرو بینک آف انڈیا نے اپنی جو رپورٹ پیش کی ہے اوراس رپورٹ میں جو ڈیٹا د یا گیا ہے، وہ نو ٹ بندی کے منفی اثرات کی واضح کہانی پیش کررہا ہے ۔آر بی آئی کی سالانہ رپورٹ ،جو 195صفحات پرمشتمل ہے ،میں ان سوالو ںکے جوابات ڈھونڈے جاسکتے ہیںجو پچھلے دس مہینے سے ہرہندوستانی پوچھ رہا ہے۔ آئے آربی آئی کی جانب سے جاری کئے گئے ڈیٹا کی روشنی میں جانتے ہیں کہ نوٹ بندی کو نافذکرنے کے عمل میں حکومت نے کیا دعوے کئے اور اسکے عوض کیا حاصل ہوا ؟ مندرجہ بالا جدول میں ملاحظہ فرمائیں…
دراصل خود کوتاریخ میں ایک بڑے حکمراں کی حیثیت سے پیش کرنے کیلئے، حکومت نے بڑے زعم کے ساتھ اچانک نوٹ بندی کا فرمان جاری کردیا تھا..جس کے بعد پورے ملک میں ایسی افرا تفری پھیلی جو ہندوستان کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔ غریب ، مزدوراور کسانوں پر یہ احمقانہ فیصلہ تو قہر بن کر ٹوٹا۔ اس کے بر خلاف امیر اور بااثر افراد نے اپنے اپنے گھروں میں بینک منیجرکو بلا کر پچھلے دروازے سے اپنے نوٹ تبدیل کرا لئے اور بیچاری غریب عوام اپنے چند ہزار روپیوں کو لے کر بے یار و مددگار گھومتے رہے….حد تو یہ ہوگئی دہلی میں ایک خاتون نے خود اپنا پیسہ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد تنگ آکر بطور احتجاج، اے ٹی ایم کے پاس خود کو بے لباس کرکے اپنی شدید برہمی اورنفرت کا اظہارکیا تھا۔…دیہی علاقوں کی تو ایسی حالات ہو گئی کہ کئی خاندانوں میں کئی کئی دن کھانا نہیں بن سکا…. اور دوسری طرف اس اعلان کے بعد بھی وزیر اعظم نے عوام کو بڑے سبز باغ دکھائے اورکہا کہ اس سے دہشت گردی ختم ہو جائے گی اور ملک میں ’’رام راج ‘‘آ جائے گا۔ مگر افسوس’’ الٹی ہوگئیںسب تد بیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا‘‘..کام کرتی بھی کیسے ؟مرض کچھ اورتھا دوا کچھ اور تجویز کی گئی… دوسری طرف نوٹ بندی کی ناکامی کے بعد وزیرخزانہ ارون جیٹلی کا اب یہ کہنا ہے کہ نوٹ بندی کا ’’بنیادی مقصد‘‘ نقدی پرمشتمل ہندوستان کی معیشت میں واضح طور پر تبدیلی لانا تھا ،با الفاظ دیگر ہندوستان کو کیش لیس معیشت میں تبدیل کرنا تھا‘‘ لیکن یہ سب جانتے ہیںکہ آج بھی 90فیصد لین دین کیش میں ہی ہورہا ہے….نوٹ بندی کتنی بری طرح ناکا م ہوئی اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ خود بی جے پی کی معاون تنظیم ’’بھارتی مزدور سنگھ ‘‘ بھی یہ اعتراف کرنے پرمجبور ہوگئی کہ ،’’غیر منظم شعبے کی ڈھائی لاکھ یونٹس بند ہوگئی اور ریل اسٹیٹ شعبہ بہت بری طرح متاثر ہوا ہے، لوگوں نے بڑی تعداد میں ملازمتیں کھو دی ہیں…تاہم بقول مشہور معاشی تجزیہ کار ویویک کول ’’جہاں تک مودی حکومت کا تعلق ہے، اس بات کی تو قع کم ہی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کو قبول کریںگے۔ بجائے اسکے حکومت نوٹ بندی کے ’’مثبت پہلوؤں‘‘ کو بتانے کی کوشش کرتی رہے گی جیسا کہ نومبر سے اب تک کیاجاتا رہا ہے۔ شاید اسی لئے سابق آربی آئی گورنر رگھورام راجن نے موجودہ حکومت کی ہٹ دھرم رویہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ’’آپ نوٹ بندی کی’’ کامیابی‘‘ کو تسلیم کرلیجئے ورنہ بی جے پی اپنی جھوٹی کامیابی کی تشہیر پرٹیکس کا مزید 1000کروڑ روپے خرچ کردیگی‘‘ جو حقیقتاً ملک و قوم کاہی نقصان ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT