Sunday , July 23 2017
Home / Top Stories / نوٹ بندی پر پارلیمنٹ میں مباحث ، وزیر اعظم کی عدم شرکت افسوسناک

نوٹ بندی پر پارلیمنٹ میں مباحث ، وزیر اعظم کی عدم شرکت افسوسناک

مودی کو جمہوریت پر ایقان نہیں ، سی پی آئی قائدین سدھاکر ریڈی اور دیگر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔24نومبر(سیاست نیوز) قومی سکریٹری سی پی آئی سدھاکر ریڈی نے پارلیمنٹ میںنوٹ تنسیخ کی بحث کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی عدم موجودگی اور جوابدہی سے گریز کو جمہوریت کی خلاف ورزی قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ نوٹوں کی تنسیخ کے بعد ملک بھر میںپیدا شدہ بحران جس سے سماج کا غریب اور کسان طبقہ بری طرح متاثر ہورہا ہے اور یہ صرف وزیراعظم کے فیصلہ کا نتیجہ ہے اور اس پر جوابدہی کی ذمہ داری بھی وزیر اعظم پر ہی عائد ہوتی ہے۔آج یہاں سی پی آئی ہیڈکوارٹر مخدوم بھون میںمنعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سدھاکر ریڈی نے نوٹ تنسیخ کے متعلق موبائیل ایپ سے کئے گئے سروے کو بھی فرضی قراردیا اور کہاکہ موبائیل ایپ کے ذریعہ مودی حکومت نوٹوں کی تنسیخ کے متعلق اپنے فیصلے سے عوام کود رپیش مسائل کی پردہ پوشی کی کوشش کررہی ہے۔ سوشیل میڈیا اور موبائیل ایپ سروے سے عوام کوگمراہ نہیں کیاجاسکتا کیونکہ نوٹوں کی تنسیخ کے اعلان کے بعد اس ملک کی صد فیصد آبادی جن پریشانیوں سے دوچار ہے اس کی تمام تر ذمہ داری نریندر مودی پر ہی عائد ہوتی ہے اور وہ پارلیمنٹ میں آکر اس پر وضاحت پیش کریں۔انہوں نے کہاکہ پریشان حال عوام کو اعتماد میں لینے اور فینانشیل ایکسپرٹس سے رائے طلب کرتے ہوئے موجودہ بحران کو ختم کرنے کا راستہ تلاش کرنے کے بجائے وزیراعظم نریندر مودی اپنی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہیںجس کو بائیں بازو کی جماعتیں ہرگز برداشت نہیں کریںگی۔ سدھاکر ریڈی نے کہاکہ نریندرمودی نے پچاس دنوں میں نوٹوں کی تنسیخ کے ذریعہ کالے دھن اور بدعنوانیوں پر قابو پانے کی بات کہی ہے جبکہ حقیقت میںاگر 175دنوں تک تمام بینک ملازمین شب روز کام کرتے ہیں تب جاکر نوٹوں کی تبدیلی کا عمل پورا ہوگا۔سدھاکر ریڈی نے مزیدکہاکہ پچھلے تین ہفتوں سے خدمات انجام دینے والے بینک ملازمین کے مسائل کوبھی حکومت نظر انداز نہیں کرسکتی ۔ انہوں نے کہاکہ بینک ملازمین کی یونینوں سے ہماری مسلسل مشاورت جاری ہے ۔ سدھاکر ریڈی نے کہاکہ کالے دھن کی بازیابی کے لئے جس طریقہ کار کو مودی حکومت اپنانے کادعوی کرتی ہے وہ دراصل اپنے انتخابی وعدے جس میںاقتدار حاصل ہونے پر کالے دھن کی بازیابی کے بلند بانگ دعوے کئے گئے تھے اس سے عوام کی توجہہ ہٹانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ نریندر مودی کی میز پر ایک بند لفافے میں 658افراد کی تفصیلات موجود ہیںجن کے کھاتے سوئیز بینک میں ہیںان ناموں کو منظرعام پر لاتے ہوئے کالا دھن رکھنے والوں کے خلاف کاروائی کے بجائے ملک کی غریب عوام کو گھنٹوں قطار میںکھڑے رہنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ شیئر بازار ‘ گولڈ کاروباراور رئیل اسٹیٹ میں لگے کالے دھن پر شکنجہ کسنے کے بجائے بے قصور عوام کو ہراساں کیاجارہا ہے۔ سدھاکر ریڈی نے کہاکہ نوٹوں کی تنسیخ کے متعلق اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے 28نومبر کو قومی سطح پراحتجاجی پروگرام منظم کیاجارہا ہے جس کو بائیں بازو جماعتوں کی مکمل تائید وحمایت حاصل ہے۔ سینئر کمیونسٹ قائد وسابق رکن پارلیمنٹ سید عزیز پاشاہ نے کہاکہ عوام کے غم وغصہ کا اندازہ حکومت کو بہت جلد ہوگا۔ مودی حسب روایت ایوان پارلیمنٹ سے غیر حاضر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پندرہ سال کے دور چیف منسٹری میںبھی مودی صرف ایک بار گورنر کا خطبہ کے موقع پر گجرات اسمبلی میںموجود رہتے تھے ۔ مودی کا جمہوریت پر ایقان ہی نہیں ہے۔جناب سیدعزیز پاشاہ نے مزید کہاکہ پارلیمنٹ میںرہنے کے بعد بھی بحث اور ایوان سے غیر حاضر رہنے پر مودی کے خلاف پریولیج موشن لاگو ہوسکتا ہے اور سیتا رام یچوری نے مذکورہ دفعہ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا بھی اعلان کیاہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ سکریٹری سی پی آئی چاڈا وینکٹ ریڈی ‘ پالا وینکٹ ریڈی بھی اس موقع پر موجودتھے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT