Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / نوٹ بندی کا عالمی جنگ دوم کی بمباری سے تقابل

نوٹ بندی کا عالمی جنگ دوم کی بمباری سے تقابل

نئی دہلی ؍ مہسانہ ۔ 21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے بحیثیت چیف منسٹر گجرات سہارا اور برلا گروپس سے 65 کروڑ روپئے رشوت حاصل کی۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے آبائی ضلع شمالی گجرات کے ٹاؤن مہسانہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رشوت لی گئی اس رقم کا انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں بھی اندراج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2013-14ء میں 6 ماہ کے دوران سہارا گروپ سے 9 مرتبہ رقم حاصل کی گئی۔ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو سہارا گروپ کی حاصل کردہ ڈائری سے یہ پتہ چلا۔ انہوں نے نریندر مودی کو چیلنج کیا کہ الزامات صحیح ہے یا غلط اس کی وضاحت کرے۔ انہوں نے عوام کی تالیوں کی گونج میں یہ بات کہی اور مزید ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ برلا گروپ نے انہیں 25 کروڑ اور پھر 12 کروڑ روپئے رشوت ادا کی۔ راہول گاندھی نے کہا کہ نریندر مودی نے آج سارے ملک کو قطار میں لاکھڑا کیا ہے۔ انہوں نے نوٹ بندی کو شہریوں پر آتشی بمباری سے تعبیر کیا۔ راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم کا یہ اقدام صرف غریب سے دولت چھین کر امیروں کو دینا ہے۔ انہوں نے عوام کو درپیش مشکلات کا عالمی جنگ دوم کی حکمت عملی سے تقابل کیا اور اسے آتشی بمباری قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ عالمی جنگ دوم کے دوران تقریباً 300 تا 400 جنگی طیارے کثیر تعداد میں رات کے وقت بمباری کرتے۔

اس سے سارا شہر چند منٹ میں تباہ و تاراج ہوجاتا۔ راہول گاندھی نے کہا کہ مودی جی آپ نے بھی ہندوستان کے غریب عوام، پچھڑے طبقات، کسان، خواتین اور متوسط شہریوں پر اسی طرح کی آتشی بمباری کی ہے۔  راہول گاندھی نے کہا کہ 6 فیصد سفید دھن  ہے باقی 94 فیصد کالادھن جائیدادوں، سونے، ہیروں کی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی کی دولت ہے جو بیرون ملک بینک کھاتوں میں جمع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے دوران مودی جی نے جن 15 لاکھ روپیوں کے ہر شہری کے بینک کھاتوں میں جمع کرانے کا تیقن دیا تھا جب عوام نے اس رقم کا مطالبہ کرنا شروع کیا تو مبینہ سرجیکل آپریشن کرپشن اور کالے دھن کے خلاف کیا گیا لیکن 94 فیصد کالے دھن کو نشانہ بنانے کے بجائے باقی 6 فیصد کو نشانہ بنایا گیا۔ راہول نے کہاکہ اعلیٰ مالیتی کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے فیصلہ کا مقصد نہ تو کرپشن کو کچلنا تھا اور نہ کالے دھن کو اور نہ ایک فیصد دولتمند آدمیوں بلکہ ان کی ایماء پر پسماندہ افراد، کاشتکاروں اور ملک کے غریب مزدوروں کو کچلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں سے تمام رقم چھین لی گئی اور امیروں کے حوالے کردی گئی۔ نوٹوں کی تنسیخ کا حقیقی مقصد ایک فیصد لوگوں کی مدد کرنا تھا۔ مودی نے اچانک اپنی توجہ کالے دھن سے ہٹاکر کیش لیس معیشت پر مرکوز کردی لیکن اس کو بھی حقیقت بنانے میں ناکام رہے۔ چنانچہ وہ دوبارہ کالے دھن کے موضوع پر واپس آ گئے۔ انہوں نے وجئے مالیا اور للت مودی کو وطن واپس لانے اور ان پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا کیونکہ وہ مالیاتی جرائم کیلئے ہندوستان کو مطلوب ہیں۔ کانگریس کے ترجمان اعلیٰ رندیپ سرجے والا نے کہا کہ مودی حکومت نے 50 دن کے اختتام سے قبل ہی اپنے 60 فیصلوں میں تبدیلیاں کی ہیں۔ صدر کانگریس کے سیاسی سکریٹری احمد پٹیل نے بھی مساوی طور پر مودی حکومت پر تنقید کی جبکہ بی جے پی اور حکومت نے راہول گاندھی کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کردیا اور کہاکہ نائب صدر کانگریس وزیراعظم مودی پر بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT