Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / نوٹ بندی کیخلاف کانگریس کے مجوزہ ملک گیر احتجاجی مظاہرے

نوٹ بندی کیخلاف کانگریس کے مجوزہ ملک گیر احتجاجی مظاہرے

مودی کے شخصی کرپشن کو بے نقاب کیا جائے گا ، 30 ڈسمبر کے بعد بھی حالات نہیں بدلیں گے :راہول
نئی دہلی ۔ 26 ڈسمبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج نوٹ بندی اور وزیراعظم مودی کے شخصی کرپشن کی وجہ سے عام آدمی کو درپیش مسائل اُجاگر کرنے کے مقصد سے 5 جنوری کو تمام ضلع ہیڈکوارٹرس اور 8 جنوری کو بلاک سطح پر ملک گیر احتجاجی مظاہرے منظم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی نائب صدر راہول گاندھی کی زیرقیادت سرکردہ قائدین کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں نوٹ بندی کے خلاف جدوجہد میں عام آدمی کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ 29 اور 30 ڈسمبر کو ملک بھر میں مرکزی و ریاستی سطح پر اس کے بعد 2 جنوری کو ضلعی سطح پر بھی مظاہرے کئے جائیں گے ۔ وزیراعظم کے شخصی کرپشن کی وجہ سے عام آدمی کو ہونے والی مشکلات کو اُجاگر کیا جائے گا ۔ اس اجلاس میں تمام پارٹی جنرل سکریٹریز اور سکریٹریز کے علاوہ صدور پردیش کانگریس اور مرکزی و ریاستی سطح کے سرکردہ قائدین نے شرکت کی ۔ راہول گاندھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی ’’اسکام‘‘ میں تبدیل ہوگئی ہے اور وزیراعظم کرپشن میں ملوث ہیں۔ انھوں نے سہارا ڈائریز رشوت معاملے میں اب تک کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ اگر آزادانہ تحقیقات کی جائے تو نریندر مودی کا موقف بے نقاب ہوجائے گا ۔ انھوں نے پارٹی قائدین پر زور دیا کہ وہ اس لڑائی کو عوام تک لے جائیں اور وزیراعظم کے شخصی کرپشن کو اُجاگر کیا جائے ، اس کے ساتھ ساتھ نوٹ بندی کی وجہ سے عام آدمی کو درپیش مشکلات کا بھی احاطہ کیا جائے ۔ راہول گاندھی نے اس سے قبل راجستھان کے بارن میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے نوٹ بندی کو ایسی ’’یگنا‘‘ سے تعبیر کیا جہاں غریب اور محنت کش طبقہ کو قربانی دینی پڑ رہی ہے ۔ نوٹوں کی منسوخی سے پیداشد ہ مسائل 30 ڈسمبر کے بعد خاتمہ سے متعلق وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے دیئے گئے تیقن پر سوال اُٹھاتے ہوئے کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے آج کہاکہ نوٹوں کی منسوخی سے پیداشدہ ’معاشی ناکہ بندی‘ کسانوں ، محنت کشوں اور دیگر غریبوں کو بدستور پریشان کرتی رہے گی ۔ انھوںنے کہا کہ ’’مودی جی نے کہا تھا کہ 30 ڈسمبر کے بعد مسائل ختم ہوجائیں گے لیکن میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوگا ۔ یہ پریشانیاں اور مشکلات آئندہ سات ماہ اور اس کے بعد تک بھی جاری رہیں گے ‘‘ ۔ راہول دراصل مودی کی طرف سے عوام کو دیئے گئے اس تیقن کا حوالہ دے رہے تھے کہ نوٹ بندی سے پیدا شدہ مسائل 30 ڈسمبر تک ختم ہوجائیں گے۔ انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ نوٹ بندی کا فیصلہ رشوت ستانی کے خلاف نہیں کیا گیا بلکہ یہ معاشی تالہ بندی ہے جو کالے دھن کے خلاف نہیں بلکہ خواتین ، کسانوں ، مزدوروں اور دیگر غریبوں کے خلاف ہے‘‘۔ راہول نے مزید کہا کہ ’’99 فیصد عوام کے پاس کالا دھن نہیں ہے اس کے باوجود انھیں نوٹ بندی کی پریشانیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف ایسے 50خاندان ہیں جن کے پاس کئی لاکھ کروڑ روپئے ہیں اور یہی کالا دھن ہے ‘‘ ۔  انھوں نے کہا کہ محض چھ فیصد کالا دھن نقدی میں تھا ماباقی رئیل اسٹیٹ اور سونے کی شکل میں ہوتا ہے ۔ علاوہ ازیں کالے دھن کا بڑا حصہ سوئیس بنک کے کھاتوں میں رکھا جاتا ہے ۔ راہول نے الزام عائد کیا کہ ’’گزشتہ ڈھائی سال کے دوران مودی نے صرف ملک میں تقسیم و انتشار پیدا کرنے کیلئے کام کیا ہے اور صرف دولتمندوں کی خدمت کررہے ہیں ۔ انھوں نے حکومت سے یہ جاننا چاہا کہ سوئس بینک میں اکاؤنٹ رکھنے والوں کی فہرست پارلیمنٹ میں کیوں پیش نہیں کی جاتی ۔

TOPPOPULARRECENT