Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / نوٹ بندی کی مشکلات سے سماجوادی پارٹی کو برسر اقتدار لانے میں آسانیاں

نوٹ بندی کی مشکلات سے سماجوادی پارٹی کو برسر اقتدار لانے میں آسانیاں

اترپردیش میں مذہب اور ذات پات کی سیاست کا دور ختم ، چیف منسٹر اکھلیش یادو کا دعویٰ

لکھنو ۔ 21 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر اترپردیش اکھلیش یادو کا یہ احساس ہے کہ ریاست میں ذات پات کی بنیاد پر سیاست کرنے کے دن ختم ہوگئے ہیں اور اب صرف 2 ڈی۔ ڈیولپمنٹ اور ڈیمونیشن (ترقی اور نوٹ بندی) کا مسئلہ ، مجوزہ اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کے حق میں کارگر ثابت ہوں گے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ان کے خاندان میں اختلافات اب کوئی عنصر نہیں رہا اور تمام مسائل ، نوٹ بندی کے بعد تبدیل ہوگئے ۔ یہ خاندانی تنازعات قصہ پارینہ بن گئے ہیں اور انتخابات میں کامیابی کیلئے ہم سب متحد ہوگئے ہیں کیونکہ مسائل بدل گئے ہیں ۔ نوٹ بندی کے بعد داخلی اختلافات فراموش کردیئے گئے ہیںاور اب صرف کرنسی نوٹوں کی منسوخی سب سے بڑا مسئلہ بن گئے ہیں۔ اکھلیش یادو نے یہ ادعا کیا کہ اترپردیش کے عوام ، اب ان کے کاموں اور کارناموں کیلئے ووٹ دیں گے ۔ گزشتہ 5 سال کے دوران ہمارے کام اور نوٹ بندی کی وجہ سے عوام کو درپیش مشکلات مجوزہ اسمبلی انتخابات میں ہماری کامیابی کی ضمانت ہوں گے جو قطاریں اے ٹی ایم کے باہر لگی ہیں، وہ پولنگ بوتھ کے باہر لگے گی۔ یہ دریافت کئے جانے پر کہ بی جے پی اور بی ایس پی میں کسے اپنا بڑا حریف تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں عوام کے اعتماد سے محروم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران اترپردیش کیلئے کچھ بھی نہیں کیا ۔ گو کہ وزیر اعظم ، وزیر داخلہ اور وزیر دفاع اترپردیش سے منتخب ہوئے ہیں اور بی جے پی کے سب سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ اترپردیش سے ہیں لیکن ان لوگوں نے آدرش گاؤں یوجنا کے سوا ریاست کو کچھ بھی نہیں دیا ہے ۔ جہاں تک بہوجن سماج پارٹی کا تعلق ہے اب عوام کو ہاتھی کی سواری میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اگرچیکہ اکھلیش یادو کے والد اور سماج وادی پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو نے کانگریس کے ساتھ ماقبل انتخابات مفاہمت کو خارج از امکان قرار دیا ہے لیکن اکھلیش کا کہنا ہے کہ سیاست میں کوئی بھی انہونی ہوسکتی ہے اور کوئی پیش قیاسی نہیں کی جاسکتی۔ اگرچیکہ پارٹی صدر قطعی فیصلہ کے مجاز ہیں لیکن میرا یہ ایقان ہے کہ ماقبل انتخابات اگر کانگریس کے ساتھ مفاہمت کی گئی تو ہم 300 سے زائد نشستوں پر بہ آسانی جیت سکتے ہیں۔ انتخابات کیلئے ابھی وقت ہے دیکھئے آگے آگے کیا ہوتا ہے ۔ چونکہ سیاست ہمیشہ تجسس آمیز اور حیرت انگیز ہوتی ہے ۔ کل کیا ہونے والا ہے کوئی نہیں جانتا۔ سال 2012 ء کے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی نے 224 نشستوں پر کامیابی کے ساتھ واضح اکثریت حاصل کی تھی جبکہ بی ایس پی 80 ، بی جے پی 47 اور کانگریس 28 نشستوں تک محدود ہوگئی تھیں۔ تاہم اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ مسلم رائے دہندوں پر حد سے ز یادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر میں نے ترقیاتی کام انجام دیئے ہیں تو اس کے ثمرات یقیناً مسلمانوں تک پہنچے ہوں گے ۔ میں نے انہیں ترقی اور تعمیراتی سرگرمیوں میں جائز حق دیا ہے ۔ اگر میں تفصیلات پیش کرتا جاؤں تو کوئی اعتراض نہیں کرسکتا جو لوگ فرقہ وارانہ سیاست کر نا چاہتے وہ ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ سیاست کا رخ بدل گیا ہے اور اب ذات پات کی تفریق برداشت نہیں کی جاسکتی اور عوام ، نفرت کی بجائے ترقی کے خواہشمند ہیں۔

TOPPOPULARRECENT