Saturday , June 24 2017
Home / شہر کی خبریں / نوٹ بندی کے بعد اگلا نشانہ بے نامی جائیدادیں

نوٹ بندی کے بعد اگلا نشانہ بے نامی جائیدادیں

ضبطی کے علاوہ جیل اور بھاری جرمانے مودی حکومت کے زیرغور
حیدرآباد 27 ڈسمبر (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے نوٹ بندی کا مرحلہ 30 ڈسمبر کو پورا ہونے کے بعد بے نامی جائیدادیں اگلا نشانہ ہوگا۔ اِس ضمن میں حکومت انتہائی سخت قوانین متعارف کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جس کے تحت بے نامی جائیدادیں ثابت ہونے پر 7 سال تک سزا ہوگی اور جائیداد کی مارکٹ قدر کا 25 فیصد جرمانے کے طور پر ادا کرنا پڑے گا۔ غلط اطلاعات فراہم کرنے کی صورت میں علیحدہ طور پر 10 فیصد جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ مودی حکومت نے کالا دھن اور کرپشن پر قابو پانے کے لئے 8 نومبر کو 500 اور 1000 روپئے کی کرنسی کا چلن بند کرنے کا اعلان کیا تھا ، اس کے بعد عوام کو اپنے پاس موجود تنسیخ شدہ کرنسی بینکوں میں 30 ڈسمبر تک جمع کرادینے کی مہلت دی تھی۔ 50 دن کا یہ مرحلہ قریب الختم ہے۔ اس کے ساتھ حکومت نے اپنی توجہ بے نامی جائیدادوں پر مرکوز کردی ہے اور اِس ضمن میں قوانین میں ترمیم کی حکمت عملی تیار کررہی ہے۔ ایسی جائیدادیں جن کی آمدنی اور حساب کتاب کو مخفی رکھا گیا، حکومت انھیں ضبط کرلے گی۔ ملک میں 1988 ء سے بے نامی جائیدادوں پر امتناع کا قانون نافذ العمل ہے۔ اِس قانون میں موجود نقائص اور خامیوں کو دور کرنے کے لئے جاریہ سال اگسٹ میں حکومت نے ترمیم کی تھی۔ تمام ریاستوں سے مشاورت اور تجاویز حاصل کرنے کے بعد ایک مؤثر قانون بنایا گیا لیکن بڑی کرنسی کی تنسیخ سے پیدا شدہ حالات کے باعث 30 ڈسمبر کے بعد اِس مسئلہ پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ بدعنوانیوں میں ملوث افراد نقد رقم کے ساتھ ساتھ اپنے پاس موجود کالا دھن کے ذریعہ جائیدادیں خرید رہے ہیں اور اُنھیں اپنے نام رجسٹریشن کرانے کے بجائے ارکان خاندان یا دوست احباب کے نام رجسٹریشن کرایا جاتا ہے تاکہ ٹیکس سے بچا جاسکے۔ چنانچہ حکومت رجسٹریشن آفسوں سے تمام تفصیلات حاصل کرے گی۔ بینک کھاتوں میں لین دین، قرض کی شکل میں حاصل کی گئی رقومات اور دیگر معلومات حاصل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی شروع کی جائے گی۔ پہلے مرحلہ میں بڑی کمپنیوں اور ہمہ منزلہ عمارتوں کے علاوہ رئیل اسٹیٹ کاروبار کرنے والوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ تحقیقات کے دوران آمدنی سے زیادہ دولت کی موجودگی، دوسروں کے نام خریدی گئی جائیدادیں یا اپنی تحویل میں موجود ایسی جائیداد جس کی خریدی کے لئے دوسروں نے رقم ادا کی ہو، اِن سب کو بے نامی جائیدادیں تصور کیا جائے گا۔ یہی نہیں بلکہ سونا، بانڈس، فینانشیل سکیوریٹی حصص وغیرہ کو بھی اِس قانون میں شامل کیا جارہا ہے۔ تاہم مشترکہ خاندان، شوہر اور بیوی کی آمدنی سے خریدی گئی جائیدادیں بے نامی جائیدادوں میں شمار نہیں ہوں گی۔ اِسی طرح ترکہ میں ملنے والی جائیدادوں کو بھی بے نامی جائیداد تصور نہیں کیا جائے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT