Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / نوٹ بندی کے بعد جمع رقومات کی تعداد بتانے کامطالبہ

نوٹ بندی کے بعد جمع رقومات کی تعداد بتانے کامطالبہ

حکومت 500 اور 1000 روپئے کی تعداد کیوں چھپارہی ہے، کانگریس اور ٹی ایم سی کا استفسار
نئی دہلی 27 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن پارٹیوں کانگریس اور ترنمول کانگریس نے آج حکومت سے یہ جاننا چاہا کہ آخر وہ مابعد نوٹ بندی بینکوں میں جمع کردہ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی تعداد چھپانے کی کوشش کیوں کررہی ہے۔ لوک سبھا میں کمپنیوں کے ترمیمی بل 2016 ء پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس کے کے وی تھامس نے کہاکہ ملک میں نوٹ بندی کے بعد سے 8 ماہ ہوچکے ہیں لیکن ریزرو بینک نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ 10 نومبر تا 30 ڈسمبر کے درمیان ممنوعہ کرنسی کتنی تعداد میں جمع ہوئی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا اصل تعداد بتانے سے گریز کررہا ہے۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سواگتا رائے نے بھی اِس مسئلہ کو اُٹھاتے ہوئے کہاکہ ہم نوٹ بندی کے بعد جمع نوٹوں کی تعداد معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ آخر آج تک بینکوں میں کتنی رقم جمع ہوئی ہے۔ آر بی آئی گورنر اپنے بینک میں جمع رقم کی تعداد بتانے سے قاصر ہیں۔ آخر ایسا کیوں چھپایا جارہا ہے۔ تھامس نے کہاکہ حکومت نے نوٹ بندی کا تو اعلان کردیا۔ اِس سے کالا دھن پر قابو پانے، دہشت گردی کے انسداد اور جعلی کرنسی کے چلن کو روکنے میں مدد ملے گی، یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن حکومت بینکوں میں جمع کردہ رقم کو ظاہر کرنے سے گریز کیوں کررہی ہے۔ آٹھ ماہ تو گزر چکے ہیں اور حکومت نے اب تک کالا دھن کتنا جمع کیا ہے۔ آخر حکومت اِس کو چھپا کیوں رہی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے کئی مرتبہ آر بی آئی گورنر سے ملاقات کی اور وہ ہر مرتبہ یہی کہہ رہے ہیں کہ ہم ہنوز گنتی کررہے ہیں۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی طور پر ہم کس مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 8 نومبر 2016 ء کو ملک بھر میں 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کے چلن کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا اور پرانے نوٹ رکھنے والوں سے کہا تھا کہ وہ 30 ڈسمبر تک 50 روزہ مہلت سے استفادہ کرتے ہوئے بینکوں میں اپنی جمع پونجی ڈپازٹ کرادیں۔ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ پرانی کرنسی کی لاگت 15 لاکھ کروڑ روپئے ہوگی۔ نوٹ بندی کے ذریعہ حکومت 15 لاکھ کروڑ جمع کرے گی تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ آر بی آئی بینکوں میں جمع شدہ پرانی کرنسی کی تعداد کا ہنوز اندازہ کررہی ہے۔ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کو بند کرتے ہوئے کالے دھن پر قابو پانے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن یہ کالا دھن ظاہر کیا گیا اور نہ ہی رشوت پر قابو پایا گیا۔

TOPPOPULARRECENT